بلدیاتی تماشے

دسمبر 2013ء کے بعد ملک کے ایک اور صوبے میں 30 مئی 2015ء کو بلدیاتی انتخاب ہو ہی گیا

KARACHI:
دسمبر 2013ء کے بعد ملک کے ایک اور صوبے میں 30 مئی 2015ء کو بلدیاتی انتخاب ہو ہی گیا جو 90 روز میں ہونا تھا جب کہ پہلا بلدیاتی انتخاب بلوچستان میں ہوا تھا۔ ان دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات وہاں کی صوبائی حکومتوں نے خوشی سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے سخت دباؤ کے نتیجے میں کرائے تھے اور اب ستمبر تک پنجاب اور سندھ جیسے بڑے صوبوں میں بھی بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔

جہاں کی صورتحال بلوچستان اور کے پی کے سے بہت بہتر ہے مگر وہاں کی دو نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے، جہاں سات سالوں سے ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہیں۔ دو بڑے صوبوں کے مقابلے میں دو چھوٹے صوبوں میں بلدیاتی الیکشن ہو جانا سندھ و پنجاب کی حکومتوں کے لیے باعث شرم ہی نہیں بلکہ عوام دشمنی ہے اور عوام کے بنیادی حقوق غصب کرنا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ نے ملک میں تین بار بلدیاتی انتخابات کرائے۔ مسلم لیگ کے برعکس پیپلز پارٹی کے پاس بھی یہ شرمناک ریکارڈ ہے کہ اس کی تقریباً سترہ اٹھارہ سال کی 6 حکومتوں میں کبھی ایک بار بھی بلدیاتی الیکشن نہیں کرایا گیا۔

چوہدری نثار شاید سابقہ جنرل ضیا الحق کی گیارہ سال کی فوجی حکومت کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 1979ء، 1983ء اور 1987ء میں تینوں بلدیاتی انتخابات مسلم لیگ نے نہیں بلکہ فوجی صدر جنرل ضیا الحق کی حکومت میں ہوئے تھے اور مسلم لیگ (ن) کی پہلی حکومت 1990ء میں قائم ہوئی تھی اور 1987ء کے بلدیاتی انتخابات محمد خان جونیجو کی وزارت عظمیٰ اور بااختیار فوجی صدر کی موجودگی میں ہوئے تھے۔

1991ء میں بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے کے بعد 1999ء تک ملک میں دو دو بار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں تھیں مگر دونوں نے 8 سال میں ایک بار بھی بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے تھے۔

بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں، جہاں منتخب ہونے والے میئر اور چیئرمین بعد میں اپنی بلدیاتی خدمات کے باعث ملک کی صدارت تک پہنچے اور انھوں نے ملک کو ترقی دی مگر ہمارے ملک کا شرمناک المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی تمام جمہوری حکومتیں جمہوریت کی بنیاد بلدیاتی اداروں کی دشمن ثابت ہوئیں جب کہ جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی تین طویل حکومتوں میں باقاعدگی سے بلدیات کے انتخابات ہوتے رہے اور جمہوریت کی نرسری کو کسی جمہوری حکمران نے نہیں بلکہ تین فوجی حکمرانوں نے پروان چڑھایا جنھیں اس ملک میں جمہوریت کو بنیاد فراہم کرنے کا کریڈٹ بلاشبہ حاصل ہے۔


پہلے فوجی صدر جنرل ایوب خان نے ملک کو پہلا بلدیاتی نظام بی ڈی سسٹم کی شکل میں دیا تھا جس کے بعد جنرل ضیا نے 1979ء کا بلدیاتی نظام دیا جس میں تین بار عوام کو اپنے کونسلر منتخب کرنے کا موقعہ ملا جنھوں نے اپنے چیئرمین اور میئر منتخب کیے مگر یہ نظام آزاد نہیں بلکہ بیوروکریٹس کے کنٹرول میں تھا مگر اس کے باوجود بعض بلدیاتی سربراہوں نے اپنی سیاسی پارٹیوں سے وابستگی نبھانے کے لیے فوجی صدر اور گورنروں کی تقریبات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف کا دیا گیا ضلع حکومتوں کا نظام واقعی جمہوری اور ملک کا پہلا حقیقی بااختیار بلدیاتی نظام تھا جس میں عوام کے منتخب نمائندوں کو نہ صرف مالی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوئے بلکہ پہلی بار ملک کی بااختیار بیوروکریسی کو بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے کنٹرول میں دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹری، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سطح کے افسروں کو ڈی سی او، اور ای ڈی اوز بنا کر ضلع حکومتوں کے ناظمین کا ماتحت بنایا گیا تھا۔ یہ جرأت صرف جنرل پرویز مشرف کی تھی کہ جنھوں نے کمشنری نظام ختم کر کے ملک میں پہلی بار با اختیار ضلع حکومتیں قائم کرائیں اور بیوروکریٹس پر سربراہ عوام کے منتخب ناظم کو بنایا جب کہ پہلے کے دونوں بلدیاتی نظام کمشنری نظام کی ماتحتی میں چلا کرتے تھے۔

ہر جمہوری دور میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کمشنر اور ڈپٹی کمشنروں کی جی حضوری کے عادی اور ان کی خوشنودی کے لیے ان کی خوشامد اور جی حضوری اور دعوتیں کرتے رہتے ہیں اور ان سے اپنے ذاتی کام کراتے ہیں اور بلدیاتی اداروں پر حاوی رہنے کے لیے کوشاں رہے ہیں اور ضلع حکومتوں میں ایسا نہیں ہوا بلکہ ارکان اسمبلی بااختیار ناظمین کے محتاج رہے اور جہاں دو عوامی نمائندے الگ الگ ہوں وہاں ان کی آپس میں نہیں بنتی اور منتخب ناظمین کو عوام کو ترجیح دینا پڑتی ہے جب کہ ارکان اسمبلی سرکاری فنڈ لے کر اسے عوام سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ضلع حکومتوں میں جب انھیں فنڈ نہ ملے تو انھوں نے رکن اسمبلی کے بجائے ناظم بننے کو ترجیح دی کیونکہ ناظم بااختیار اور ارکان اسمبلی بے اختیار ہو گئے تھے جو انھوں نے گوارا نہ کیا تھا اور بیوروکریسی بھی بااختیار ضلع حکومتوں کے خلاف تھی اور دونوں نے مل کر 2008ء کے انتخابات کے بعد بااختیار ضلع نظام ختم اور بلدیاتی اداروں پر سرکاری ایڈمنسٹریٹر مسلط کرا دیے جنھوں نے بلدیاتی ادارے کنگال کرا دیے۔

بدقسمتی سے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی نظام اب صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہے جس کے بعد سندھ کے بلدیاتی اداروں کو جتنا نقصان پہنچا اور جتنی کرپشن سندھ میں ہوئی اتنی بلدیاتی اداروں کی تباہی کسی اور صوبے میں نہیں ہوئی جہاں کبھی بلدیاتی ملازمین کو وقت پر تنخواہ تک نہیں ملی اور لاکھوں روپے رشوت پر بلدیاتی عہدے ملنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بلوچستان میں 1979ء کا بلدیاتی نظام بحال کر دیا گیا ہے اور کے پی کے میں عجیب بلدیاتی الیکشن ہوا ہے جہاں 2996 ولیج اور 505 نیبرہوڈ کونسلوں کے 36 ہزار ارکان منتخب کیے گئے ہیں۔ ولیج اور نیبرہوڈ کونسلوں کا انتخاب غیر جماعتی بنیاد پر ہوا ہے۔ 3501 کونسلیں جماعتی بنیاد پر اپنے سربراہ منتخب کریں گی اور صوبائی حکومت اپنے بلدیاتی اداروں کو تیس فیصد فنڈ دے گی یہ فنڈ بلا امتیاز ملے گا یا صرف پی ٹی آئی والوں کو ملے گا یہ تو آنے والے وقت میں ہی پتہ چلے گا۔

ابھی تک واضح نہیں کہ خیبرپختون خوا کے بلدیاتی سربراہ کتنے بااختیار ہوں گے اور بلدیاتی اداروں میں بیوروکریسی کا کیا کردار ہو گا۔ نومنتخب بلدیاتی ادارے صوبائی محکمہ بلدیات کے محتاج ہوں گے یا انھیں انتظامی اور مالی خودمختاری کہاں تک حاصل ہو گی۔

سندھ اور پنجاب میں کیسا بلدیاتی نظام ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا البتہ ابھی تک پنجاب میں ضلع حکومتیں اب بھی قائم ہیں۔ وہاں ڈی سی اوز کے اوپر کمشنر مقرر ہیں جب کہ سندھ میں ضلع حکومتیں، تحصیل و ٹاؤن کونسلیں تو ختم ہو چکیں، ضلع کونسلیں بھی موجود نہیں اور سب بلدیاتی ادارے کمشنری نظام کے کنٹرول میں چل رہے ہیں اور عجیب تماشا اب یہ ہے کہ جمہوری حکومتیں اپنے صوبوں میں اب مختلف بلدیاتی نظام دے رہی ہیں جب کہ ملک بھر کے عوام کو جو مسائل خصوصاً بنیادی مسائل درپیش ہیں وہ یکساں ہیں۔ ملک کو ایک جیسے بااختیار بلدیاتی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ صحت اور تعلیم کے مقابلے میں بلدیاتی نظام ایسا ہے جسے عوام کے منتخب نمائندے خود چلاتے ہیں اسی لیے بلدیاتی نظام یکساں اور بااختیار ہونا چاہیے اور یہ بیوروکریسی کے کنٹرول سے پاک ہونا چاہیے۔
Load Next Story