ڈومیسٹک کرکٹ کے اورکتنے پوسٹ مارٹمزہوں گے
نان ٹیکنیکل افراد سے کھیل کے معاملات بہترین انداز میں چلانے کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے
نان ٹیکنیکل افراد سے کھیل کے معاملات بہترین انداز میں چلانے کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے. فوٹو: فائل
آپ نے کسی ملک کے بارے میں سنا کہ وہاں کوئی پل گر گیا جس سے خاصا نقصان ہوا، اس کے بعد نئے پل کا ٹھیکا بھی اسی پرانے ٹھیکیدار کو دے دیا گیا،شاید بہت سے لوگوں کا جواب' ناں' میں ہو،اسی طرح بعض کے خیال میں پاکستان میں یہ ممکن ہے، میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایسے ہی لوگوں کو نوازا جاتا ہے، اب دیکھیے ڈومیسٹک کرکٹ کا کیا حال ہو چکا، بہت سے سابق ٹیسٹ اسٹارز تو اس نظام کو ہی مردہ تصور کرتے ہیں، جس کے متواتر پوسٹ مارٹمز کیے جا رہے ہیں۔
جس سسٹم کے بارے میں پتا ہے کہ وہ اب تک نہیں چل سکا اسے زندہ کرنے کی ہر سال کوششیں ہوتی ہیں،گذشتہ65 سال میں شاید گنتی کے چند ہی سیزن ہوں گے جس میں متواتر ایک ہی فارمیٹ پر کرکٹ کھیلی گئی ہوگی، دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ برس شکیل شیخ اینڈ کمپنی نے تبدیلیوں کا جو اعلان کیا اس پر سب گورننگ بورڈ ارکان ''بہت خوب''کہتے دکھائی دیے، پھر ٹیم کا ورلڈکپ اور بنگلہ دیش سے سیریز میں جب برا حال ہوا تو تبدیلی کا نعرہ بلند ہو گیا،اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ نئے لوگوں سے کہا جاتا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کیلیے تجاویز دیں۔
راشد لطیف، شعیب محمد، عبدالرقیب،عبدالقادر،اعجاز فاروقی، ایل سی سی اے چیف اور ایسے کئی سابق کھلاڑی و آفیشلز پورے سال ڈومیسٹک مقابلوں پر نظر رکھتے ہیں، انھیں خوبیوں اور خامیوں کا اچھی طرح اندازہ ہے،مگر ان سے کوئی پوچھنے کو تیار نہیں، یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، کرکٹ بورڈ کا سربراہ سابق سفارتکار،ایگزیکٹیو کمیٹی چیف صحافی اور گورننگ بورڈ میں ہی صرف ایک سابق کھلاڑی موجود ہے جو آئندہ چند ماہ میں چلا جائے گا، ایسے نان ٹیکنیکل افراد سے کھیل کے معاملات بہترین انداز میں چلانے کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے، ٹھیک ہے انھیں انتظامی عہدے سونپ دیں مگر ساتھ کرکٹرز کو بھی تو رکھیں جو تکنیکی معاملات میں مشاورت کیلیے کام آئیں۔
ایک اسپتال کیا بغیر ڈاکٹرز کے صرف بیحد قابل ٹیکنیشین، لیب بوائے،نرسز اور اکائونٹنٹس چلا سکتے ہیں؟ نہیں ناں، اب دیکھیں پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے سربراہ شکیل شیخ، امپائرز ایوالیوایشن کمیٹی کے چیف شکیل شیخ، انھیں فرسٹ کلاس کرکٹ اور امپائرنگ کا کتنا علم ہے؟ شہریارخان نے جب انھیں کرکٹ کمیٹی سے ہٹانے کا سوچا تو اسی گورننگ بورڈ میٹنگ میں وہ ڈومیسٹک مقابلوں میں تبدیلیوں کی تجاویز پر مبنی فائل تھامے چلے آئے، جب انھوں نے تفصیلات کا اعلان کیا تو حسب توقع ''واہ واہ'' کے نعرے بلند ہوئے، کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ حالیہ تبدیلیاں بھی تو یہی لوگ لائے تھے ان کا بھی تو پوچھا جائے، اس شور میں شہریارخان نے بھی سوچا کہ اب کرکٹ کمیٹی میں تبدیلی کی بات کرنا فضول ہی ہو گا اس لیے خاموش رہے، اب ڈومیسٹک مقابلوں میں تبدیلیوں کے نام پر نیا مذاق شروع ہونے والا ہے، قائد اعظم ٹرافی میں16ٹیمیں حصہ لیں گی۔
ان میں گولڈ اور سلور لیگ کی6،6 سائیڈز تو پہلے ہی شامل ہیں، بقیہ2،2 ٹیموں کا انتخاب اگست اور ستمبر میں شیڈول کوالیفائنگ رائونڈ سے ہوگا،اس میں سلور لیگ کی سائیڈز اور گریڈ ٹو سے پروموٹ ہونے والی ایک، ایک ریجنل و ڈپارٹمنٹل ٹیم بھی رکھی جائے گی، یوں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کی صرف ایک ٹیم قائد اعظم ٹرافی میں حصہ لے گی، دوسری کو کوالیفائنگ رائونڈ کھیلنا پڑے گا،سابق کپتان راشد لطیف نے بھی اس کی نشاندہی کر دی کہ کئی چھوٹے ریجنز کی بھی ایک ٹیم ایونٹ میں شریک جبکہ بڑے شہروں سے بھی ایک ہی سائیڈ حصہ لے گی، یہ ایک کروڑ کی آبادی والے شہرکے ساتھ مذاق ہے کہ اس کے صرف 14، 15 کرکٹرز ہی فرسٹ کلاس کرکٹ میں جلوہ گر ہو سکیں گے۔
ممبئی جیسے شہر کی اگر ایک ٹیم رنجی ٹرافی کھیلتی ہے تو وہاں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بھی بہت بلند ہے،کھلاڑیوں کو اتنا معاوضہ ملتا ہے جتنا ہمارے انٹرنیشنل کرکٹرز وصول کرتے ہیں، پی سی بی ان تمام معاملات میں بھی بھارت کی برابری کر لے تو ضرورٹیموں کی تعداد بھی اتنی ہی رکھے۔ اسی طرح پی آئی اے سمیت کئی بڑے ڈپارٹمنٹس کو بھی کوالیفائنگ رائونڈ کھیلنا پڑے گا،اگر یہی صورتحال رہی تو پلیئرز کرکٹ سے مزید دور ہوتے جائیں گے اور ڈپارٹمنٹس بھی کھیل پر پیسہ خرچ کرنا بند کر دیں گے۔
ابھی وقت ہے ان تجاویز پر عمل نہیں ہوا، کرکٹ کا مزید بیڑا غرق ہونے سے بچانے کیلیے سابق عظیم کھلاڑیوں کی ایک میٹنگ بلانی چاہیے، وہاں ان سے مشاورت اور پھر ڈومیسٹک کرکٹ میں کیا تبدیلی کرنی ہے اس کا فیصلہ کریں، کوئی صحافی یا سفارتکار جتنا بھی باصلاحیت ہو کسی مریض کا علاج نہیں کر سکتا، ہماری کرکٹ کو بھی اب سابق کھلاڑی ہی قدموں پر کھڑا کر سکتے ہیں، بورڈ حکام کو انا کا بت توڑتے ہوئے ان سے رابطے کرنا ہوں گے، عامر سہیل اور سرفراز نواز کو بجائے لیگل نوٹس بھیجنے کے ملاقات کا دعوت نامہ بھیجیں، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ڈومیسٹک کرکٹ کانفرنس کا انعقاد کرنا بیحد مفید ثابت ہو گا،اس میں ان شہروں کے عظیم کھلاڑیوں کو مدعو کر کے تجاویز لی جائیں، دوستوں کو اگر نوازنا ہی ہے تو کئی دیگر کام بھی موجود ہیں وہ سونپ دیں،ملکی کرکٹ پستی کی جانب جا رہی ہے خدارا اس کے بارے میں کچھ سوچیں،ٹیسٹ میں پرفارمنس شاندار مگر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کیا حال ہے اس پر بھی توجہ دیں،حکمرانوں نے اگر کچھ نہ کیا تو تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
جس سسٹم کے بارے میں پتا ہے کہ وہ اب تک نہیں چل سکا اسے زندہ کرنے کی ہر سال کوششیں ہوتی ہیں،گذشتہ65 سال میں شاید گنتی کے چند ہی سیزن ہوں گے جس میں متواتر ایک ہی فارمیٹ پر کرکٹ کھیلی گئی ہوگی، دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ برس شکیل شیخ اینڈ کمپنی نے تبدیلیوں کا جو اعلان کیا اس پر سب گورننگ بورڈ ارکان ''بہت خوب''کہتے دکھائی دیے، پھر ٹیم کا ورلڈکپ اور بنگلہ دیش سے سیریز میں جب برا حال ہوا تو تبدیلی کا نعرہ بلند ہو گیا،اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ نئے لوگوں سے کہا جاتا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کیلیے تجاویز دیں۔
راشد لطیف، شعیب محمد، عبدالرقیب،عبدالقادر،اعجاز فاروقی، ایل سی سی اے چیف اور ایسے کئی سابق کھلاڑی و آفیشلز پورے سال ڈومیسٹک مقابلوں پر نظر رکھتے ہیں، انھیں خوبیوں اور خامیوں کا اچھی طرح اندازہ ہے،مگر ان سے کوئی پوچھنے کو تیار نہیں، یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، کرکٹ بورڈ کا سربراہ سابق سفارتکار،ایگزیکٹیو کمیٹی چیف صحافی اور گورننگ بورڈ میں ہی صرف ایک سابق کھلاڑی موجود ہے جو آئندہ چند ماہ میں چلا جائے گا، ایسے نان ٹیکنیکل افراد سے کھیل کے معاملات بہترین انداز میں چلانے کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے، ٹھیک ہے انھیں انتظامی عہدے سونپ دیں مگر ساتھ کرکٹرز کو بھی تو رکھیں جو تکنیکی معاملات میں مشاورت کیلیے کام آئیں۔
ایک اسپتال کیا بغیر ڈاکٹرز کے صرف بیحد قابل ٹیکنیشین، لیب بوائے،نرسز اور اکائونٹنٹس چلا سکتے ہیں؟ نہیں ناں، اب دیکھیں پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے سربراہ شکیل شیخ، امپائرز ایوالیوایشن کمیٹی کے چیف شکیل شیخ، انھیں فرسٹ کلاس کرکٹ اور امپائرنگ کا کتنا علم ہے؟ شہریارخان نے جب انھیں کرکٹ کمیٹی سے ہٹانے کا سوچا تو اسی گورننگ بورڈ میٹنگ میں وہ ڈومیسٹک مقابلوں میں تبدیلیوں کی تجاویز پر مبنی فائل تھامے چلے آئے، جب انھوں نے تفصیلات کا اعلان کیا تو حسب توقع ''واہ واہ'' کے نعرے بلند ہوئے، کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ حالیہ تبدیلیاں بھی تو یہی لوگ لائے تھے ان کا بھی تو پوچھا جائے، اس شور میں شہریارخان نے بھی سوچا کہ اب کرکٹ کمیٹی میں تبدیلی کی بات کرنا فضول ہی ہو گا اس لیے خاموش رہے، اب ڈومیسٹک مقابلوں میں تبدیلیوں کے نام پر نیا مذاق شروع ہونے والا ہے، قائد اعظم ٹرافی میں16ٹیمیں حصہ لیں گی۔
ان میں گولڈ اور سلور لیگ کی6،6 سائیڈز تو پہلے ہی شامل ہیں، بقیہ2،2 ٹیموں کا انتخاب اگست اور ستمبر میں شیڈول کوالیفائنگ رائونڈ سے ہوگا،اس میں سلور لیگ کی سائیڈز اور گریڈ ٹو سے پروموٹ ہونے والی ایک، ایک ریجنل و ڈپارٹمنٹل ٹیم بھی رکھی جائے گی، یوں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کی صرف ایک ٹیم قائد اعظم ٹرافی میں حصہ لے گی، دوسری کو کوالیفائنگ رائونڈ کھیلنا پڑے گا،سابق کپتان راشد لطیف نے بھی اس کی نشاندہی کر دی کہ کئی چھوٹے ریجنز کی بھی ایک ٹیم ایونٹ میں شریک جبکہ بڑے شہروں سے بھی ایک ہی سائیڈ حصہ لے گی، یہ ایک کروڑ کی آبادی والے شہرکے ساتھ مذاق ہے کہ اس کے صرف 14، 15 کرکٹرز ہی فرسٹ کلاس کرکٹ میں جلوہ گر ہو سکیں گے۔
ممبئی جیسے شہر کی اگر ایک ٹیم رنجی ٹرافی کھیلتی ہے تو وہاں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بھی بہت بلند ہے،کھلاڑیوں کو اتنا معاوضہ ملتا ہے جتنا ہمارے انٹرنیشنل کرکٹرز وصول کرتے ہیں، پی سی بی ان تمام معاملات میں بھی بھارت کی برابری کر لے تو ضرورٹیموں کی تعداد بھی اتنی ہی رکھے۔ اسی طرح پی آئی اے سمیت کئی بڑے ڈپارٹمنٹس کو بھی کوالیفائنگ رائونڈ کھیلنا پڑے گا،اگر یہی صورتحال رہی تو پلیئرز کرکٹ سے مزید دور ہوتے جائیں گے اور ڈپارٹمنٹس بھی کھیل پر پیسہ خرچ کرنا بند کر دیں گے۔
ابھی وقت ہے ان تجاویز پر عمل نہیں ہوا، کرکٹ کا مزید بیڑا غرق ہونے سے بچانے کیلیے سابق عظیم کھلاڑیوں کی ایک میٹنگ بلانی چاہیے، وہاں ان سے مشاورت اور پھر ڈومیسٹک کرکٹ میں کیا تبدیلی کرنی ہے اس کا فیصلہ کریں، کوئی صحافی یا سفارتکار جتنا بھی باصلاحیت ہو کسی مریض کا علاج نہیں کر سکتا، ہماری کرکٹ کو بھی اب سابق کھلاڑی ہی قدموں پر کھڑا کر سکتے ہیں، بورڈ حکام کو انا کا بت توڑتے ہوئے ان سے رابطے کرنا ہوں گے، عامر سہیل اور سرفراز نواز کو بجائے لیگل نوٹس بھیجنے کے ملاقات کا دعوت نامہ بھیجیں، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ڈومیسٹک کرکٹ کانفرنس کا انعقاد کرنا بیحد مفید ثابت ہو گا،اس میں ان شہروں کے عظیم کھلاڑیوں کو مدعو کر کے تجاویز لی جائیں، دوستوں کو اگر نوازنا ہی ہے تو کئی دیگر کام بھی موجود ہیں وہ سونپ دیں،ملکی کرکٹ پستی کی جانب جا رہی ہے خدارا اس کے بارے میں کچھ سوچیں،ٹیسٹ میں پرفارمنس شاندار مگر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کیا حال ہے اس پر بھی توجہ دیں،حکمرانوں نے اگر کچھ نہ کیا تو تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔