پاکستان دشمن قوتوں کو دو ٹوک جواب

افغانستان کو بلاشبہ سیکیورٹی ، ترقی، سماجی شیرازہ بندی اور معاشی پیش رفت کا مسئلہ درپیش ہے

اسلام آباد دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں کابل کے ساتھ تعاون میں پرعزم ہے اور رہیگا۔ فوٹو : فائل

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کابل اور اسلام آباد کی قسمتوں کو جڑا ہوا قراردیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے بعض حصوں کو غیر مستحکم کرنے یا اس کی علاقائی سالمیت پر حملہ کرنے کی کسی بھی کوشش کا پوری قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔ سلامتی کونسل میں افغان صورتحال پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے دہشت گردوں کے بلاامتیاز خاتمے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خواہ اس کے اسپانسرز بیرونی ہوں یا اندرونی، ہم سختی کے ساتھ دہشت گردی کو اس کی جڑوں سے ختم کر رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب کے اصل تخاطب بھارتی حکمراں سمیت وہ تمام بے چہرہ و بدطینت طاقتیں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں جن کا مطمع نظر اور مذموم عزائم پاکستان کو افغانستان کے اعصاب شکن اور صبر آزما بحران کو جاری رکھتے ہوئے اور بطور خاص طالبان کی غارت گری کی آڑ میں عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔

ایک جنگی جنون، استعماری سوچ، بالادستی کا نشہ اور خطے کے امن کو ملیامیٹ کرنے کی ریشہ دوانیاں ہیں جو پاکستان ، افغانستان، شام، عراق، یمن، فلسطین ، کشمیر، یوکرین، برما، بنگلہ دیش اور دیگر مملکتوں میں عالمی ادارہ کو بقائے باہمی کی اس منزل سے دور کر رہی ہیں جہاں انسانی تہذیب کے پر امن ارتقا ، وسیع المشرب سماج، جوابدہ حکمراں اور ترقی و آسودگی کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

افغانستان کو بلاشبہ سیکیورٹی ، ترقی، سماجی شیرازہ بندی اور معاشی پیش رفت کا مسئلہ درپیش ہے، اسے کثیر جہتی عالمی امداد کے حصول کی کوششوں کو شفاف طریقے سے انتظامی اقدامات اور ان کے ٹھوس نتائج سے استفادہ میں بدلنا ہے، اپنی فوج اور پولیس کے نظام پر انحصار کرنا ہے، ایک بدحال اور جنگوں سے نڈھال افغانستان کو پاکستان سمیت پوری دنیا کی ہم دردی ، مالی اعانت اور انفراا سٹرکچر کی تنصیب کے لیے بے پناہ دستگیری کی ضرورت ہے، لیکن ہو کچھ اور رہا ہے۔

بھارتی خفیہ ادارہ ''را'' بلوچستان میں سرگرم ہے، جب کہ دیگر سرگرم عسکری تنظیمیں اور لوٹ مار مافیائیں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے اپنے مفاد میں استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔ بھارت کی ایک ایسی ہی مذموم کوشش گزشتہ روز چین نے ناکام بنادی اور اقوام متحدہ میں پاکستان پر پابندیاں لگوانے اورذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر پاکستان کے خلاف بھارتی قرارداد پر کارروائی فوری رکوا دی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نیویارک میں بھارتی درخواست پر اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان نے ذکی الرحمن لکھوی کو رہا کر کے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے اقوام متحدہ پاکستان کے خلاف کارروائی کرے۔


بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں والی کمیٹی کو پاکستان کے خلاف متحرک کیا جس میں اقوام متحدہ کے 5مستقل اور 10 غیر مستقل ممبر شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران کمیٹی میں شامل چین کے مندوب نے بروقت اعتراض اٹھایا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پیش کی جانے والی معلومات ناکافی ہیں اس لیے درخواست پر مزید کارروائی نہیں ہوسکتی جس پر کمیٹی کے سربراہ نے کارروائی معطل کردی۔ اس معاندانہ اور بدطینتی پر مبنی چانکیائی سیاست و سفارت کاری کو کیا نام دیا جائے جو منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کے مترادف ہے۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ اسلام آباد دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں کابل کے ساتھ تعاون میں پرعزم ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ پاکستان اور افغانستان کی قسمت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ دیرپا امن کے قیام کے لیے پاکستان افغان عوام کی مددکرے گا۔

پاکستانی مندوب نے دونوں ممالک کے درمیان عدم مداخلت، اپنی سرزمین کو دوسرے کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دینے اور ایک دوسرے کے دشمن کو مشترکہ دشمن تصور کرنے کے اصولوں کی بنیاد پر تعلقات کار میں اضافے کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا جس پر وزیر اعظم کے حالیہ دورہ کابل میں افغان صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔ افغانستان میں پائیدار امن پورے خطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔

پاکستان نے افغان پارلیمنٹ پر حملے سمیت افغانستان میں بڑھتے ہوئے حالیہ تشدد کی مذمت کی ہے۔ اسلام آباد دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں کابل کے ساتھ تعاون میں پرعزم ہے اور رہیگا ۔ قبل ازیں افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سربراہ اور عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے خصوصی ایلچی نکولس ہیزوم نے سلامتی کونسل کو افغان صورتحال پرسہ ماہی بریفنگ دی۔

انھوں نے افغانستان میں قدم جمانے کی داعش کی کوششوں کو تشویشناک قراردیا اور کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے خطے کے دیگرممالک کا تعاون ناگزیر ہے۔ادھر جاپان کے ماہر ترقیات کنزو ایشیما کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اصلاحات کا بحران نہیں،اصلاحات مسلسل عمل ہیں، اس لیے افغانستان میں امن کی کمٹمنٹ میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
Load Next Story