صحت کے شعبوں کی تباہی ایک المیہ

یہ عدالتی انتباہ ہے کہ سیکڑوں لوگ مر رہے ہیں حکومت سندھ کے پاس تو انھیں قبرستان تک پہنچانے کی سہولت تک نہیں۔

منی پاکستان میں وہی صحت سیٹ اپ دوبارہ لایا جائے جو اس شہر بے مثال کا طرہ امتیاز تھا۔ فوٹو : فائل

ملک میں قیامت خیز گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث ہونے والی دل فگار ہلاکتوں نے وزارت صحت اور صوبائی حکومتوں کی زیر نگرانی چلنے والے حفظان صحت کے اداروں کے ڈھول کا پول کھول کے رکھ دیا ہے اسی طرح بڑے چھوٹے سرکاری و بلدیاتی اسپتالوں اور دیہی ڈسپنسریوں کی حالت زار پر عدالت عظمیٰ کے ریمارکس بے حد چشم کشا ہیں۔

گزشتہ روز چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فل بنچ نے گردے کے مریضوں کے لیے مفت ڈائیلسز کی سہولت کے بارے میں وفاقی اور سندھ حکومت کی رپورٹ کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ سیکریٹری کیڈ اور سیکریٹری صحت سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ اس ضمن میں سندھ حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدنان کریم کا کہنا تھا کہ سیکریٹری صحت کی طرف سے جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں گردے کے مریضوں کے لیے مفت ڈائلیسز کی سہولت موجود ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ساری رپورٹ جعلی ہے۔ یہ ریمارکس حکام صحت کے ضمیر پر تازیانہ کے مترادف ہے۔

عدالت کا یہ قرار دیا جانا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں تو ایکسرے تک کی مشین نہیں تو ڈائیلسز کی مشینری کہاں سے آئی۔ ایک جگر پاش سوالیہ نشان ہے۔ قومی صحت کے مراکز میں عوام طبی سہولتوں کی فراہمی کے نام پر کس ذلت و اذیت کا شکار ہیں اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے سرکاری رپورٹ کو مسترد کیے جانے سے ملک میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں تساہل، دروغ گوئی، فریب کاری اور بے حسی کی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ عدالتی انتباہ ہے کہ سیکڑوں لوگ مر رہے ہیں حکومت سندھ کے پاس تو انھیں قبرستان تک پہنچانے کی سہولت تک نہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبد الرشید اعوان نے رپورٹ پیش کی اور کہا کہ اسلام آباد پمز اور پولی کلینک میں مفت ڈائیلسز کی سہولت موجود ہے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے اس پر قرار دیا کہ بیت المال سے فنڈز جاری ہونے تک تو مریض مر جاتا ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا حقیقت میں مریضوں کے لیے حکومت کی طرف سے کچھ نہیں دیا جاتا۔ حکومت کا المیہ یہ ہے کہ صحت کے لیے بجٹ میں رکھی گئی رقم سے ہی اس کی ترجیحات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کراچی اور اندرون سندھ کے طبی ادارے، جامعات اور سرکاری اسپتال مثالی اور باوقار ہوا کرتے تھے، ایسے افسران صحت کا تقرر ہوتا تھا جو انسانی خدمت کو اپنا ایمان اور عبادت سمجھتے تھے، پورے ملک میں سیکڑوں تاریخی تعمیرات کا نادر نمونہ لیے ایسے شاندار طبی مراکز آج بھی لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں موجود ہیں جو غیر مسلموں، ہندوئوں ساہوکاروں اور مخیر سیٹھوں نے تعمیر کرائے تھے، اس وقت نجی اسپتالوں کا نیٹ ورک بھی نہ تھا۔


مگر آج کراچی سمیت اندرون سندھ جو ہلاکتیں گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے ہوئیں اس پر حکومتی بے حسی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر پشیمانی اور دلی رنج کا اظہار کرنے کے بجائے حکمران بدستور بلیم گیم کا ڈرامہ رچائے ہوئے ہیں، ملک کا پورا صحت اسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔ صرف ان چند خبروں سے صحت سیکٹر میں مسیحائی کا جنازہ اٹھتا دکھائی دیتا ہے، کہ قومی ادارہ برائے امراض اطفال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے7 بچے جاں بحق ہو گئے، بلوچستان کے علاقے تربت میں کنویں میں زہریلی گیس بھرنے سے 5 افراد جاں بحق اور ایک بے ہوش ہو گیا۔

پشاور میں دو افغان بچوں میں کانگو وائرس کی تصدیق ہو گئی جن کی عمریں دس سے 12 سال کے درمیان ہیں،جوئیانوالہ میں ڈاکٹر کے مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگانے سے خاتون زبیدہ بی بی اور اس کا نوزائیدہ بچہ ہلاک ہو گئے۔ ادھر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں جعلی ادویات کا قبیح دھندہ ہر صورت بند کرائیں گے، موت کے سوداگروں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی انھیں آہنی ہاتھوں سے روکیں گے۔ گزشتہ روز جعلی ادویات کے مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق ایک اور اجلاس میں انھوں نے کہا کہ جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کی ذاتی طور پر مانیٹرنگ کروں گا، حالانکہ وزیر اعلیٰ جانتے ہیں کہ ملک بھر میں جعلی دوائوں کا مکروہ دھندا جاری ہے، سرکاری و نجی اسپتالوں میں ان مہنگی دوائوں کی ترسیل میں صحت مافیا کے انتہائی با اثر لوگ ملوث ہیں۔

خیال رہے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اچانک جناح اسپتال کا دورہ کیا جب کہ ایمرجنسی اور وہاں دی جانے والی دیگر سہولتوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے بڑی دلچسپ بات کی کہ کے الیکٹرک سندھ حکومت کو لفٹ نہیں کراتی، 7 برسوں میں پہلی مرتبہ کے الیکٹرک کے حکام سے ملاقات ہوئی اور ان کو لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کے لیے کہا ہے۔

ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ4 روز اس لیے اسپتال نہیں آیا کیونکہ اس سے عوام کو مشکلات اٹھانا پڑتیں۔وزیراعلیٰ صاحب کیا تھیوری لے آئے، سبحان اللہ۔ بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں سے سبق لیا جائے۔ منی پاکستان میں وہی صحت سیٹ اپ دوبارہ لایا جائے جو اس شہر بے مثال کا طرہ امتیاز تھا، اموات اور آہ و بکا شہر قائد کا امتیاز ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔
Load Next Story