جاسوسی کے حیران کن انکشافات
فرانسیسی حکومت نے جاسوسی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا اپنے اتحادیوں سے ایسا سلوک ناقابل یقین ہے
پریشان کن امر یہ ہے کہ پاکستان کے بینکنگ سسٹم تک بھی برطانوی ایجنسی کی رسائی کے خدشات موجود ہیں۔ فوٹو : فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیو پاکستانیوں کے انٹرنیٹ کے استعمال کی جاسوسی کرتی رہی ہے جس میں سرکاری حکام سمیت عام شہریوں کا انٹرنیٹ بھی اس کی دسترس میں رہا۔ یہ انکشافات سابق امریکی انٹیلی جنس کنٹریکٹرایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے 2008ء میں جاری کی گئی خفیہ فائلوں کے ذخیروں پر مبنی ہیں جنھیں رواں ہفتے دی انٹر سیپٹ نامی آن لائن ویب سائٹ پر شایع کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی کو برطانوی حکومت نے ایک ہیکنگ سافٹ ویئر ریورس انجینئر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جس کے تحت ایجنسی 2008ء تک ہر پاکستانی کے انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھتی رہی۔ دوسری جانب وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے فرانس کے تین صدور یاک شیراک' نکولس سرکوزی اور موجودہ صدر فرانسس اولاند کی جاسوسی کی اور ان کے فون ٹیپ کیے گئے۔ فرانس نے اس پر امریکا سے احتجاج کرتے ہوئے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ فرانسیسی حکومت نے جاسوسی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا اپنے اتحادیوں سے ایسا سلوک ناقابل یقین ہے۔
دنیا بھر کے مختلف تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی جانب سے یہ الزام ایک عرصے سے عائد کیا جاتا رہا ہے کہ امریکا متعدد ممالک کے حکومتی اور حساس اداروں کی مسلسل جاسوسی کر رہا ہے۔ چونکہ امریکا ایک عالمی سپر طاقت ہے اس لیے جاسوسی کے انکشافات سامنے آنے پر بھی کسی ملک نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں کی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکا ترقی پذیر ممالک کی جاسوسی تو کر رہا ہے مگر اس نے ترقی یافتہ اور اپنے اتحادی ممالک کو بھی معاف نہیں کیا اور ان کے حکمرانوں کی بھی مسلسل جاسوسی کر رہا ہے۔
2006ء سے 2012ء کے درمیان فرانسیسی صدور کی جاسوسی کی گئی۔ اگرچہ امریکی صدر بارک اوباما نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے فرانسیسی ہم منصب فرانسس اولاند سے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت ماضی میں کی گئی ایسی کارروائیوں کو ترک کر دے گی جو اس کے اتحادی ممالک کے لیے ناقابل قبول ثابت ہوئی ہیں۔صدر بارک اوباما کی یہ گفتگو اس امر کا واضح اعتراف ہے کہ امریکا دوسرے ممالک کے حکمرانوں تک کی جاسوسی کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی کی جانب سے پاکستانی سرکاری حکام کے انٹرنیٹ کی جاسوسی ایک تشویشناک امر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے اہم اداروں کی معلومات محفوظ نہیں رہیں۔
اس امر سے ملکی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ پاکستان کے بینکنگ سسٹم تک بھی برطانوی ایجنسی کی رسائی کے خدشات موجود ہیں۔ یہ ٹیلی کام کے قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے' کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کی جاسوسی کرے۔ حکومت پاکستان کو اس رپورٹ کے سامنے آنے پر مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔ اگر ان دعوئوں میں حقیقت ہے تو حکومت کو نہ صرف برطانوی حکومت سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے بلکہ بین الاقوامی عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا چاہیے کیونکہ ملکی نظام اور اس کے اداروں کی معلومات اور راز کسی بھی غیر ملکی ایجنسی کے ہاتھوں چلے جانا ملکی سلامتی کے لیے ہر وقت خطرے کا باعث ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی کو برطانوی حکومت نے ایک ہیکنگ سافٹ ویئر ریورس انجینئر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جس کے تحت ایجنسی 2008ء تک ہر پاکستانی کے انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھتی رہی۔ دوسری جانب وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے فرانس کے تین صدور یاک شیراک' نکولس سرکوزی اور موجودہ صدر فرانسس اولاند کی جاسوسی کی اور ان کے فون ٹیپ کیے گئے۔ فرانس نے اس پر امریکا سے احتجاج کرتے ہوئے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ فرانسیسی حکومت نے جاسوسی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا اپنے اتحادیوں سے ایسا سلوک ناقابل یقین ہے۔
دنیا بھر کے مختلف تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی جانب سے یہ الزام ایک عرصے سے عائد کیا جاتا رہا ہے کہ امریکا متعدد ممالک کے حکومتی اور حساس اداروں کی مسلسل جاسوسی کر رہا ہے۔ چونکہ امریکا ایک عالمی سپر طاقت ہے اس لیے جاسوسی کے انکشافات سامنے آنے پر بھی کسی ملک نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں کی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکا ترقی پذیر ممالک کی جاسوسی تو کر رہا ہے مگر اس نے ترقی یافتہ اور اپنے اتحادی ممالک کو بھی معاف نہیں کیا اور ان کے حکمرانوں کی بھی مسلسل جاسوسی کر رہا ہے۔
2006ء سے 2012ء کے درمیان فرانسیسی صدور کی جاسوسی کی گئی۔ اگرچہ امریکی صدر بارک اوباما نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے فرانسیسی ہم منصب فرانسس اولاند سے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت ماضی میں کی گئی ایسی کارروائیوں کو ترک کر دے گی جو اس کے اتحادی ممالک کے لیے ناقابل قبول ثابت ہوئی ہیں۔صدر بارک اوباما کی یہ گفتگو اس امر کا واضح اعتراف ہے کہ امریکا دوسرے ممالک کے حکمرانوں تک کی جاسوسی کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی کی جانب سے پاکستانی سرکاری حکام کے انٹرنیٹ کی جاسوسی ایک تشویشناک امر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے اہم اداروں کی معلومات محفوظ نہیں رہیں۔
اس امر سے ملکی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ پاکستان کے بینکنگ سسٹم تک بھی برطانوی ایجنسی کی رسائی کے خدشات موجود ہیں۔ یہ ٹیلی کام کے قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے' کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کی جاسوسی کرے۔ حکومت پاکستان کو اس رپورٹ کے سامنے آنے پر مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔ اگر ان دعوئوں میں حقیقت ہے تو حکومت کو نہ صرف برطانوی حکومت سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے بلکہ بین الاقوامی عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا چاہیے کیونکہ ملکی نظام اور اس کے اداروں کی معلومات اور راز کسی بھی غیر ملکی ایجنسی کے ہاتھوں چلے جانا ملکی سلامتی کے لیے ہر وقت خطرے کا باعث ہے۔