زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ملکی معیشت
عالمی بینک سے معاشی ترقی کے لیے 70 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض کی رقم موصول ہو گئی ہے جسے 4 منصوبوں پرخرچ کیا جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی امداد کو اس کی ترجیحات کے مطابق ایمانداری سے خرچ کرے۔فوٹو: محمد عظیم / ایکسپریس/فائل
ایک خبر کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے لیے70کروڑ 60لاکھ ڈالر قرض جاری کر دیاہے جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زرمبادلہ کے ذخائر 18.20ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ عالمی بینک سے معاشی ترقی کے لیے 70 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض کی رقم موصول ہو گئی ہے جسے 4 منصوبوں پرخرچ کیا جائے گا۔ 50کروڑ ڈالر نجکاری کے عمل میں بہتری، سماجی تحفظ اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے خرچ ہوں گے جب کہ تعلیم کے فروغ پر 20 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
وزارت خزانہ کے اعدادوشمار میں بتایاگیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 18.20ارب ڈالر ہو گئے ہیں جن میں سے تیرہ ارب ڈالر اسٹیٹ بینک جب کہ باقی پانچ ارب بیس کروڑ ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں۔یہ بات اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب 20کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں جو بڑھوتی ہوئی ہے وہ عالمی بینک سے قرض ملنے سے ہوئی ہے۔ اسے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ پاکستان کے معاشی مسائل کی بڑی وجہ غیر ملکی قرضے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب کہیں سے قرضہ مل جاتا ہے تو اسے حکومت کی کامیابی کہا جاتا ہے اور اس حوالے سے مبارکبادیں دی جاتی ہیں جب کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی امداد سے پاکستانی معیشت مزید دبائو میں آتی ہے۔
بہرحال پاکستان جس قسم کے حالات سے دوچار ہے' اس سے نکلنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی امداد انتہائی ضروری ہے۔ جب ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف کسی ملک کو امداد دیتے ہیں تو اسے عالمی سطح پر یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ اس ملک کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہے۔ اس سے قرض لینے والے ملک کو دیگر ممالک کے ساتھ لین دین میں سہولت رہتی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جسے عالمی مالیاتی اداروں نے بڑے پیمانے پر قرضے دیے ہیں۔
اگر پاکستان کے منصوبہ ساز نیک نیتی اور ایمانداری سے ان قرضوں کا استعمال کرتے تو ملکی معیشت بدحال نہ ہوتی۔ دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جنھوں نے عالمی بینک 'آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے اور انھیں ایمانداری سے خرچ کیا اور ترقی کی منازل طے کیں۔ جنوبی کوریا اور ملائیشیا اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ پاکستان میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے کلچرکی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو جو بیرونی امداد ملی ہے 'وہ بدعنوانیوں کی نذر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ملکی معیشت پر قرضہ بڑھتا گیا ہے۔
افغان وار کے دوران اربوں ڈالر پاکستان میں آئے ہیں ' اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے دوران بھی اربوں ڈالر ملک میں آئے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت سنبھلی ہے اور نہ ہی ملک میں غربت کی شرح کم ہوئی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ گزشتہ پینتیس چالیس سال کے عرصے میں ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان لوگوں نے پاکستان سے رقم اکٹھی کر کے بیرون ملک بینکوں میں جمع کرا دی۔ اس کے نتیجے میں وطن عزیز کی معیشت زبوں حالی کا شکار چلی آ رہی ہے۔
موجودہ حکومت ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے کوششیں کر رہی ہے لیکن ان کوششوں کے اثرات نچلے طبقات تک نہیں پہنچ رہے۔ ملک میں غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر نظر آتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی امداد کو اس کی ترجیحات کے مطابق ایمانداری سے خرچ کرے۔ اس طریقے سے ہی ملکی معیشت کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائے اور غیر ملکی قرضوں کو واپس کرنے کے قابل ہو سکے۔
وزارت خزانہ کے اعدادوشمار میں بتایاگیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 18.20ارب ڈالر ہو گئے ہیں جن میں سے تیرہ ارب ڈالر اسٹیٹ بینک جب کہ باقی پانچ ارب بیس کروڑ ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں۔یہ بات اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب 20کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں جو بڑھوتی ہوئی ہے وہ عالمی بینک سے قرض ملنے سے ہوئی ہے۔ اسے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ پاکستان کے معاشی مسائل کی بڑی وجہ غیر ملکی قرضے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب کہیں سے قرضہ مل جاتا ہے تو اسے حکومت کی کامیابی کہا جاتا ہے اور اس حوالے سے مبارکبادیں دی جاتی ہیں جب کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی امداد سے پاکستانی معیشت مزید دبائو میں آتی ہے۔
بہرحال پاکستان جس قسم کے حالات سے دوچار ہے' اس سے نکلنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی امداد انتہائی ضروری ہے۔ جب ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف کسی ملک کو امداد دیتے ہیں تو اسے عالمی سطح پر یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ اس ملک کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہے۔ اس سے قرض لینے والے ملک کو دیگر ممالک کے ساتھ لین دین میں سہولت رہتی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جسے عالمی مالیاتی اداروں نے بڑے پیمانے پر قرضے دیے ہیں۔
اگر پاکستان کے منصوبہ ساز نیک نیتی اور ایمانداری سے ان قرضوں کا استعمال کرتے تو ملکی معیشت بدحال نہ ہوتی۔ دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جنھوں نے عالمی بینک 'آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے اور انھیں ایمانداری سے خرچ کیا اور ترقی کی منازل طے کیں۔ جنوبی کوریا اور ملائیشیا اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ پاکستان میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے کلچرکی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو جو بیرونی امداد ملی ہے 'وہ بدعنوانیوں کی نذر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ملکی معیشت پر قرضہ بڑھتا گیا ہے۔
افغان وار کے دوران اربوں ڈالر پاکستان میں آئے ہیں ' اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے دوران بھی اربوں ڈالر ملک میں آئے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت سنبھلی ہے اور نہ ہی ملک میں غربت کی شرح کم ہوئی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ گزشتہ پینتیس چالیس سال کے عرصے میں ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان لوگوں نے پاکستان سے رقم اکٹھی کر کے بیرون ملک بینکوں میں جمع کرا دی۔ اس کے نتیجے میں وطن عزیز کی معیشت زبوں حالی کا شکار چلی آ رہی ہے۔
موجودہ حکومت ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے کوششیں کر رہی ہے لیکن ان کوششوں کے اثرات نچلے طبقات تک نہیں پہنچ رہے۔ ملک میں غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر نظر آتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی امداد کو اس کی ترجیحات کے مطابق ایمانداری سے خرچ کرے۔ اس طریقے سے ہی ملکی معیشت کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائے اور غیر ملکی قرضوں کو واپس کرنے کے قابل ہو سکے۔