بجلی کا بحران اور ملکی معیشت

حکومت کو بجلی بلوں کی وصولی اور توانائی کے شعبہ کی حالت ٹھیک کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں صحت کے شعبے میں سہولیات کی عدم فراہمی اور ناقص کارکردگی کے باعث بھی ہوئی ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان کو درپیش چیلنجز میں سے توانائی خصوصاً بجلی کا بحران بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے خاص طور پر گرمیوں کے اس موسم میں بجلی کی پیداوار اور طلب میں بہت زیادہ فرق نے جہاں حکومت کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے وہیں حکومت بجلی کی کمی سے عوام میں پکنے والے لاوے کو بیانات دے کر ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ حکومت بارہا یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ 2018ء تک ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر کے عوام کو اس عذاب سے نجات دلا دے گی مگر آئی ایم ایف کی پاور سیکٹر کے بارے میں چشم کشا رپورٹ کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی ہے جس سے تشویش کی لہر کا ابھرنا یقینی امر ہے کہ آیا حکومت 2018ء تک پاور سیکٹر کا نظام درست کر کے بجلی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پا لے گی یا پھر کسی نئے سال کی نوید دے کر عوام کو انتظار کی سولی پر لٹکا دیا جائے گا۔ یہ رپورٹ بہت سے شبہات اور ناامیدی کو جنم دیتی ہے کیونکہ پاور سیکٹر میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی کوئی زیادہ تسلی اور اطمینان بخش دکھائی نہیں دیتی۔

آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں پاکستان کے پاور سیکٹر کو ملکی معیشت کے لیے ناسور اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے جو تشویش ناک اور پریشان کن نقشہ کھینچا ہے اس کے مطابق پاور سیکٹر قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس سے ملکی معیشت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، حکومت کو بجلی بلوں کی وصولی اور توانائی کے شعبہ کی حالت ٹھیک کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان بجلی پر سبسڈی ختم، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور توانائی کے شعبہ میں بہتری کے لیے ٹھوس اور دیرپا اصلاحات کرے۔ آئی ایم ایف کا مشورہ تو بجا مگر کیا حکومت توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات کر پائے گی، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اخباری خبر کے مطابق وزارت پانی و بجلی نے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی تو بڑی حد تک ختم کر دی ہے مگر اس شعبہ کی اصلاحات میں خاص پیش رفت نہیں ہو رہی جب کہ قانونی رکاوٹیں بھی درپیش ہیں۔


یہ اطلاعات کئی بار منظر عام پر آ چکی ہیں کہ حکومتی اداروں سمیت صوبوں کے ذمے اربوں روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں اور وہ ادائیگی نہیں کر رہے جب کہ وہ بجلی کا مسلسل استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو متحرک ہونا پڑے گا اور سرکاری اداروں سمیت صوبوں سے بجلی کے واجب الادا بل حاصل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل طے کرنا ہو گا کیونکہ واپڈا اہلکار اتنے بااختیار نہیں کہ وہ زبردستی ان اداروں سے بجلی کے بل وصول کر سکیں۔ اگر حکومت کو بل ہی وصول نہیں ہوں گے تو وہ توانائی کے شعبے کا نظام کیسے چلائے گی، پیداواری اخراجات کہاں سے پورے کرے گی۔ سرکاری شعبوں سے بلوں کی وصولی میں اپنی ناکامی کا غصہ حکومت غریب عوام پر اتارنے کی کوشش کرتی ہے، کہیں بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا جاتا اور کہیں سبسڈی ختم کر کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ سبسڈی ختم کرنا نہیں، بجلی کے بلوں کی وصولی، بڑے پیمانے پر بجلی کی چوری اور سسٹم کو بہتر بنا کر لائن لاسز کو روکنا ہے جس کی جانب حکومتی کارکردگی غیرتسلی بخش دکھائی دیتی ہے۔

پاور سیکٹر کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت اگر بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر بھی دیتی ہے تو ٹرانسمیشن لائن سسٹم اس قابل ہی نہیں کہ اس اضافی بوجھ کو سہار سکے۔ حکومت کو ٹرانسمیشن لائن سسٹم کو جدید بنانے کا کام مرحلہ وار شروع کر دینا چاہیے کیونکہ یہ ایک بہت مہنگا اور طویل المدتی منصوبہ ہے جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب کراچی میں گرمی سے ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا اور روز متعدد افراد زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عوام کی زندگیاں بچانے کے بجائے وفاقی اور سندھ حکومت ایک دوسرے کو اس کا ذمے دار ٹھہرا رہی ہیں۔ سندھ حکومت وفاق اور کے الیکٹرک کو ذمے دار قرار دے کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کے الیکٹرک یا اس کا پیشرو ادارہ آج وجود میں نہیں آئے، یہ پیپلزپارٹی کی حالیہ رخصت ہونے والی وفاقی حکومت میں بھی موجود تھی اس وقت اس کے معاملات بہتر بنانے کے لیے کوئی پالیسی کیوں نہیں اپنائی گئی۔

کراچی میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں صحت کے شعبے میں سہولیات کی عدم فراہمی اور ناقص کارکردگی کے باعث بھی ہوئی ہیں۔ اب وفاقی حکومت نے گرمی کی شدید لہر کے دوران کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی اور کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی پیداوار محدود رکھنے کے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو کیسے حل کرتی ہے اور ذمے داروں کو کیا سزا دیتی ہے۔ جہاں تک سندھ حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے تو اس نے بجلی کے بحران اور گرمی کی شدت میں اضافے سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی جامع پالیسی نہیں اپنائی اور سارا الزام وفاق پر دھر کر دھرنوں سے عوام کی اشک شوئی کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج اگر سندھ سمیت ملک بھر میں بجلی کے مسئلہ کو مل بیٹھ کر حل نہ کیا گیا تو آیندہ سال اس سے زیادہ ہلاکتوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں توانائی کے مسئلے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اسے جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرے، صرف الزام تراشی اور دھرنوں سے بات نہیں بنے گی۔
Load Next Story