پاک ایران باہمی تجارت میں 60 فیصد سے زائد کمی
تجارت معمول پر لانے کیلیے دونوں ممالک کا ترجیحی تجارتی معاہدے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
تجارت معمول پر لانے کیلیے دونوں ممالک کا ترجیحی تجارتی معاہدے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پاکستان کے ہمسایہ اسلامی برادر ملک ایران کیساتھ دو طرفہ تجارت میں چار سالوں کے دوران ساٹھ فیصد سے زائد کمی ہوگئی ہے۔
وزارت تجارت نے بڑی تیزی سے گرتی ہوئی دو طرفہ تجارت کو روکنے کے لیے پی ٹی اے کومزید وسعت دینے کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے پانچ سالہ لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق دوہزار دس گیارہ میں پاکستان کی ایران کو برآمدات سولہ کروڑ انیس لاکھ ڈالر تھی جبکہ ایران سے درآمدات 57کروڑ سے زائد تھیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم تہیتر کروڑ سے تجاوز کر گیا تھا جوکہ بعض نا گزیر وجوہات کی بنا پر آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ اب ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم صرف اکیس کروڑ 75لاکھ ڈالر کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
دو طرفہ تجارت میں اضافے کیلیے پاکستان نے ایران کے ساتھ ایف ٹی اے کی تجویز دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایف ٹی اے کا مسودہ دو ہزار بارہ کے دوران تبادلہ کیا گیا لیکن ایران نے عالمی پابندیوں کی وجہ سے معذرت کر لی تھی تاہم اشیا کے نرخوں میں رعایت پر اضافے کی رضامندی ظاہر کی گئی۔ پاک ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی نے پی ٹی اے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے اور دونوں ملکوں میں تعاون بڑھانے کی خاطر پانچ سالہ لائحہ عمل تیار کیا جا ئے گا۔ ایران نے خیر سگائی کے طور پر پاکستانی آم کی درآمد کی اجازت دے دی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کیلیے بینکنگ سسٹم کے قیام کی تجویز پیش کی ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو بڑھایا جا سکے۔
پاکستان کے ہمسایہ اسلامی برادر ملک ایران کیساتھ دو طرفہ تجارت میں چار سالوں کے دوران ساٹھ فیصد سے زائد کمی ہوگئی ہے۔
وزارت تجارت نے بڑی تیزی سے گرتی ہوئی دو طرفہ تجارت کو روکنے کے لیے پی ٹی اے کومزید وسعت دینے کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے پانچ سالہ لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق دوہزار دس گیارہ میں پاکستان کی ایران کو برآمدات سولہ کروڑ انیس لاکھ ڈالر تھی جبکہ ایران سے درآمدات 57کروڑ سے زائد تھیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم تہیتر کروڑ سے تجاوز کر گیا تھا جوکہ بعض نا گزیر وجوہات کی بنا پر آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ اب ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم صرف اکیس کروڑ 75لاکھ ڈالر کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
دو طرفہ تجارت میں اضافے کیلیے پاکستان نے ایران کے ساتھ ایف ٹی اے کی تجویز دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایف ٹی اے کا مسودہ دو ہزار بارہ کے دوران تبادلہ کیا گیا لیکن ایران نے عالمی پابندیوں کی وجہ سے معذرت کر لی تھی تاہم اشیا کے نرخوں میں رعایت پر اضافے کی رضامندی ظاہر کی گئی۔ پاک ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی نے پی ٹی اے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے اور دونوں ملکوں میں تعاون بڑھانے کی خاطر پانچ سالہ لائحہ عمل تیار کیا جا ئے گا۔ ایران نے خیر سگائی کے طور پر پاکستانی آم کی درآمد کی اجازت دے دی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کیلیے بینکنگ سسٹم کے قیام کی تجویز پیش کی ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو بڑھایا جا سکے۔