’’نیلام گھر‘‘ میں جیتی ہوئی موٹرسائیکل آدھے راستے میں بند ہوگئی! نھے

اقبال خورشید  پير 15 اکتوبر 2012
پہلے کوئز مقابلے میں صرف ایک سوال کا جواب دے پایا، بہن بھائیوں میں واحد ہوں جس نے ’’پیلے اسکول‘‘ سے تعلیم حاصل کی، عاصم علی قادری  فوٹو : فائل

پہلے کوئز مقابلے میں صرف ایک سوال کا جواب دے پایا، بہن بھائیوں میں واحد ہوں جس نے ’’پیلے اسکول‘‘ سے تعلیم حاصل کی، عاصم علی قادری فوٹو : فائل

موٹرسائیکل تو جیت لی، پر اُسے چلانے کا قطعی تجربہ نہیں تھا۔

طارق عزیز کے اصرار پر ’’کک‘‘ تو اُنھوں نے ہی لگائی، لیکن احتیاط کے پیش نظر اُسے چلانے کی ذمے داری موقعے پر موجود ایک دوست نے سنبھال لی۔ وہ پیچھے بیٹھ گئے۔ اب موٹرسائیکل اسٹوڈیو سے اُن کے گھر کی جانب رواں دواں تھی۔ ابھی آدھا ہی راستہ طے ہوا تھا کہ موٹرسائیکل اچانک بند ہوگئی۔ بڑا زور مارا، لیکن اُس نے چالو ہونے کا نام نہیں لیا۔ بالآخر اُسے گھسیٹتے ہوئے گھر پہنچے، جہاں باقی دوست بے صبری سے منتظر تھے۔ وہاں یہ عُقدہ کھلا کہ وہ پیٹرول کی ٹنکی سے جُڑا ’’نوزل‘‘ کھولنا بھول گئے تھے۔ خیر، سب سے پہلے والد کو اِس کارنامے سے آگاہ کیا۔ اِس اثناء میں محلے دار بھی جمع ہوگئے۔ دوستوں کی دعوت بنتی تھی، سو والد سے سو روپے لے کر قریبی ریسٹورنٹ پہنچ گئے، جہاں سب نے مل کر نعرہ لگایا: ’’یوریکا، یوریکا!‘‘ (پا لیا، پالیا!)

یہ 19 نومبر 75 کی شام کا ذکر ہے، جب گتھیاں سلجھانے کا ہنر، معمے حل کرنے کا تجربہ نوجوان عاصم علی قادری کے خوب کام آیا۔ وہ مشہور زمانہ کوئز شو ’’نیلام گھر‘‘ کے فاتح ٹھہرے، چمکتی دمکتی موٹرسائیکل اپنے نام کی، اور اس کام یابی کی طفیل راتوں رات ایک ’’سیلیبریٹی‘‘ بن گئے۔

اُس موٹرسائیکل نے بعد میں بھی کئی کہانیوں کو جنم دیا، مثلاً یہ افواہ پھیل گئی کہ موٹرسائیکل منحوس تھی، عاصم علی قادری ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے ہیں۔ اِس افواہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے اُنھیں ’’نیلام گھر‘‘ کے ایک اور پروگرام میں ظاہر ہونا پڑا۔

’’نیلام گھر‘‘ عاصم علی قادری کی شہرت کا بنیادی حوالہ ضرور ہے، تاہم اکلوتا حوالہ نہیں۔ وہ ’’پاکستان کوئز سوسائٹی‘‘ جیسی فعال تنظیم کے بانی چیئرمین ہیں، جس نے معلومات عامہ کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، ایک پوری نسل تیاری کی۔ آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ پاکستان آنا جانا رہتا ہے، جہاں یار دوست مل بیٹھتے ہیں، پرانی یادیں تازہ کی جاتی ہیں۔

حالاتِ زیست کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ وہ خاندانی قادری ہیں، شجرۂ نسب حضرت شیخ عبدالقادر گیلانیؒ سے ملتا ہے۔ تقسیم کے سمے اُن کے بڑوں نے دہلی سے کراچی کا رخ کیا، جہاں 7 جولائی 1949 کو اُنھوں نے آنکھ کھولی۔ شعور کی دہلیز عبور کی، تو خود کو جہانگیر روڈ کے علاقے میں پایا۔ اُن کے والد، سید امیر علی قادری سرکاری ملازم تھے۔ وہ ایک بااصول اور مذہبی آدمی تھے۔ بہ طور باپ انتہائی شفیق، پر تعلیم و تربیت کے معاملے میں انتہائی سخت۔ اگر کوئی غلطی کرتا، تو سزا ملتی۔ کم سن عاصم نے بہتری اِسی میں جانی کہ غلطیاں کم سے کم کی جائیں۔

امیر علی صاحب انگریزی اخبارات خط کشیدہ کر کے بچوں کے حوالے کر دیتے، تاکہ لغت دیکھنے کی عادت پختہ ہو۔ مغرب کی نماز کے بعد بچے پڑھنے بیٹھ جاتے، عشا کے بعد کھانا کھایا جاتا۔ بہن بھائیوں میں بڑے، عاصم علی قادری کے بہ قول، والد ہی کی توجہ کے طفیل تمام بھائیوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

بچپن میں کرکٹ کے شایق تھے، جس کا بڑا سبب پڑوس میں مقیم کرکٹرز تھے، جن میں ایشین بریڈمین، ظہیرعباس بھی شامل تھے۔ بتاتے ہیں، ظہیر عباس کے خاندان سے اُن کے بہت اچھے روابط تھے۔ اُن کے ساتھ نیٹ پریکٹس بھی کرتے رہے۔ بہن بھائیوں میں واحد ہیں، جس نے ’’پیلے اسکول‘‘ سے تعلیم حاصل کی۔ ابتدا ہی سے ہم نصابی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔ تقریری مقابلوں میں حصہ لیا، اسکول کی اسکائوٹس ٹیم میں شامل رہے۔ ہم نصابی سرگرمیوں میں دل چسپی کے باوجود کبھی پڑھائی سے جی نہیں چرایا۔ یاد ہے، جب 65ء کی جنگ چھڑی، اُس وقت وہ نویں جماعت میں تھے۔ اُس روز اسکول سے جلدی چھٹی ہوگئی۔ ذہن میں یہی خیال تھا کہ صدرپاکستان، ایوب خان کی تقریر نشر ہونے والی ہے۔ گھر میں ریڈیو اور ٹی وی تو تھا نہیں، ایک پان کے کھوکھے پر پہنچ گئے۔ وہ تقریر، ایوب خان کا لہجہ اور اپنے جسم میں دوڑتی توانائی خوش گوار یاد کی صورت آج ذہن پر نقش ہے۔

66ء میں اُنھوں نے سائنس سے میٹرک کیا۔ پھر ایس ایم سائنس کالج کا رخ کیا، جہاں سے 72ء میں بی ایس سی کی سند حاصل کی۔ بتاتے ہیں، اسکول کے برعکس کالج کا ماحول خاصا مختلف تھا۔ ہم نصابی سرگرمیوں، خصوصاً کوئز مقابلوں کو کلیدی حیثیت حاصل تھی، اور یہ گہماگہمی اُنھیں اپنی جانب کھینچتی تھی۔ جب وہاں اسٹوڈنٹس ویک ہوا، تو عاصم علی قادری نے بھی کوئز مقابلے میں شرکت کی۔ گوکہ اپنے پہلے مقابلے میں دس میں سے صرف ایک سوال کا جواب دے سکے، لیکن ہمت نہیں ہاری۔ معلومات عامہ کی کتابیں پڑھیں، رسائل اور جراید کی جانب متوجہ ہوئے۔ اُس زمانے میں ریڈیو پاکستان سے ایک کوئز پروگرام نشر ہوا کرتا تھا۔ جُوں ہی پروگرام کا آغاز ہوتا، وہ کاغذ قلم لے کر بیٹھ جاتے۔ سوالات اور اُن کے جوابات نوٹ کرتے جاتے۔ یوں معلومات ذہن کا حصہ بن جاتی۔ اس ضمن میں کالج کے پرنسپل، حشمت اﷲ لودھی کی حوصلہ افزائی نے مہمیز کا کام کیا۔

اُن کی تحریک پر انٹرکالجیٹ کوئز مقابلوں میں کالج کی نمایندگی کی۔ اُس زمانے میں معلومات عامہ کے میدان میں ضیا الرحمان ضیا، ناظم الدین، فیاض المدثر اور ڈاکٹر فرید مبشر کا طوطی بول رہا تھا، جن کی موجودگی میں پہلے انعام کا حصول دشوار تھا، تاہم اُن کی کارکردگی بھی متاثرکن رہی۔ دھیرے دھیرے یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ اِن مقابلوں میں کام یابی کے لیے کن کتابوں سے رجوع کیا جائے، کس طرح تیاری کی جائے۔ نظریاتی طور پر اُن کا جھکائو جمعیت کی جانب تھا، تاہم باقاعدہ رکن نہیں بنے۔ بی ایس سی، سال اول کے زمانے میں کالج کے مجلے کے اسسٹنٹ میگزین سیکریٹری ہوگئے۔ فائنل ایئر میں کالج نیشنلائز ہوگیا، جس کا بعد مجلے کی کُلی ذمے داری اُنھیں سونپ دی گئی۔ میگزین سیکریٹری کی حیثیت اُن کا تیار کردہ پہلا پرچہ بہت پسند کیا گیا۔ گریجویشن کے بعد ماسٹرز پروگرام میں داخلہ لے لیا تھا، تاہم والد کے مشورے پر اُس سے علیحدہ ہو کر عملی میدان میں قدم رکھ دیا، اور 750 روپے ماہ وار پر ایک نجی ٹیکسٹائل مل سے بہ طور لیب اسسٹنٹ وابستہ ہوگئے۔

ملازمت، راہ شوق میں رکاوٹ نہیں بنی۔ اسی عرصے میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ سے جرمن زبان سیکھی، پاکستان کوئز سوسائٹی کی بنیاد رکھی، اور ’’نیلام گھر‘‘ میں موٹرسائیکل جیتی۔ ’’نیلام گھر‘‘ میں کام یابی کی خبر جب ٹیکسٹائل مل میں پھیلی، تو مالک نے اُن سے ملاقات کی۔ حوصلہ افزائی کے طور پر اُنھیں ایڈوانس ٹریننگ کے لیے یورپ بھیج دیا گیا۔ وہ سفر یادگار رہا۔ یورپ میں قیام کا زمانہ نو ماہ پر محیط تھا۔ ٹریننگ کم، سیاحت زیادہ ہوئی کہ کوئز کے آدمی ہیں۔ سوئزرلینڈ، اٹلی، جرمنی اور برطانیہ کی سڑکیں ناپیں۔ خواہش یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ تاریخی اور مشہور مقامات دیکھ لیں۔

80ء تک اُس مل میں ذمے داریاں نبھائیں۔ پھر پرنٹنگ پریس کے کاروبار میں آگئے۔ 82ء میں شادی ہوگئی، جس کے بعد سماجی و ثقافتی سرگرمیوں میں کمی ضرور واقع ہوئی، لیکن معلومات عامہ کے میدان سے جُڑے رہے کہ یہی حوالہ اُن کی شناخت تھا۔ پاکستان کوئز سوسائٹی کے پلیٹ فورم سے فعال رہے۔ 98ء میں یافت کے نئے ذرایع کھوجنے کی خواہش اور ملکی حالات اُنھیں برطانیہ لے گئے۔ لندن میں ذاتی کاروبار شروع کیا۔ وہاں بھی کوئز کے چند پروگرامز میں شرکت کی۔ کہنا ہے، جب کبھی وہ پاکستان آتے ہیں، دوستوں میں گِھرے رہتے ہیں۔ تقریبات میں مدعو کیا جاتا ہے، اعزاز میں پروگرام منعقد ہوتے ہیں، اور یہ تجربہ اُنھیں مسرت سے بھر دیتا ہے۔

اب ذرا اُس واقعے کا تفصیلی ذکر ہوجائے، جو اُنھیں شہرت کی بُلندیوں پر لے گیا۔ یادیں بازیافت کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’نیلام گھر‘‘ کے آغاز کے چند روز بعد، تجاویز سے لیس ’’پاکستان کوئز سوسائٹی‘‘ کی ٹیم نے پروگرام کے پروڈیوسر، آصف رانا سے خصوصی ملاقات کی۔ اِس ملاقات کے توسط سے سوسائٹی کے ارکان کا پروگرام میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتداً اُنھوں نے خود کو پیچھے رکھا، ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی، جنھوں نے پروگرام میں چھوٹے موٹے انعامات اپنے نام کیے۔

’’نیلام گھر‘‘ کا چھٹا پروگرام 19 نومبر 75 کو ریکارڈ ہوا، جس میں شرکت کرنے والی ’’پاکستان کوئز سوسائٹی‘‘ کی ٹیم میں عاصم صاحب بھی شامل تھے۔ وہ تیسری رو میں بیٹھے تھے۔ کچھ دیر بعد طارق عزیز مائک ہاتھ میں لیے اُن تک پہنچ گئے۔ تین سوالات کیے گئے، جن کے درست جواب دے کر اُنھوں نے اسٹیج تک رسائی حاصل کی۔ اور اب ایشیا کے سب سے بڑے انعام، یعنی موٹرسائیکل کے لیے سوالات کا رائونڈ شروع ہوا، جسے کام یابی سے طے کرنے کے بعد اُنھوں نے موٹر سائیکل اپنے نام کر لی۔

یہ پروگرام 2 دسمبر 75ء کو ٹیلی کاسٹ ہونا تھا، جس سے پہلے یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی کہ ’’موٹر سائیکل چلی گئی ہے!‘‘ کئی دعوے دار سامنے آگئے، تاہم پروگرام نشر ہونے کے بعد واضح ہوگیا کہ فاتح کا تاج کس کے سر ہے۔ یادداشت کھنگالتے ہوئے کہتے ہیں، جس روز پروگرام ٹیلی کاسٹ ہونا تھا، اُن کے محلے کی لائٹ چلی گئی۔ فوراً مارٹن روڈ کی جانب دوڑ لگائی، جہاں خالہ مقیم تھیں۔

اِس پروگرام کے بعد شہرت نے تعاقب شروع کر دیا۔ اخبارات میں متعدد انٹرویوز شایع ہوئے۔ یہ امر بھی کم دل چسپ نہیں کہ ’’نیلام گھر‘‘ میں پہلی کار جیتنے والے حافظ نسیم الدین کو پروگرام کا ’’پاس‘‘ عاصم صاحب ہی نے لا کر دیا تھا، وہ بھی پروگرام کے آغاز سے فقط چند گھنٹے قبل۔ وہ پی ٹی وی سے نشر ہونے والے نوجوانوں کے مقبول پروگرام ’’فروزاں‘‘ کا بھی حصہ رہے۔ ریڈیو سے وابستگی رہی، وہاں کوئز پروگرام ’’ذہانت شرط ہے‘‘ کیا۔ بزم طلبا اور منی باجی کے پروگرامز میں شرکت کی۔

بتاتے ہیں، منی باجی کے پروگرام میں ایک بار وہ ’’کوئز ماسٹر‘‘ کی کرسی پر بھی بیٹھے، جو ان کے لیے بڑا اعزاز تھا۔ ریڈیو کی عالمی سروس کے لیے ایک بار خبریں بھی پڑھیں۔ اُس زمانے میں ایک نجی ادارے کی جانب سے سنیما گھروں میں، فلم کے آغاز سے قبل ایک خبرنامہ پیش کیا جاتا تھا، جس کے نیوزکاسٹر عاصم صاحب ہی تھے۔ ایسٹرن اسٹوڈیو میں وہ خبرنامہ ریکارڈ ہوا۔ پی ٹی وی کے پروگرام ’’ٹی وی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے بہ طور معاون محقق کے طور پر منسلک رہے، جہاں کئی دل چسپ تجربات سے گزرے۔ اُسی عرصے میں دوستوں کی دعوت پر لائنز کلب کا رخ کیا، جس کی انتظامیہ کے ساتھ کوئز کا ایک پروگرام منعقد کیا۔ وہاں کے ماحول نے اُس ادارے کے پرچم تلے مزید کام کرنے کی تحریک دی، تو ’’کراچی انٹیلیچکول لائنز کلب‘‘ کی بنیاد رکھی، جس کے تحت نہ صرف پاکستان میں پروگرام کیے، بلکہ بیرون ملک بھی جانا ہوا۔ اس عرصے میں اخبارات کے لیے معلومات عامہ کے مضامین اور کالم لکھے۔

ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے عاصم علی قادری کہتے ہیں، اُن کے زمانے میں کوئز پروگرامز اپنے عروج پر تھے، کالج اور یونیورسٹیز کی سطح پر باقاعدگی سے مقابلے منعقد ہوتے، جن میں طلبا و طالبات بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، جب کہ آج صورت حال مختلف ہے۔ کہنا ہے، کوئز پروگرامز کی مقبولیت میں ریڈیو اور پی ٹی وی کا کردار کلیدی رہا، جو ملک بھر کے عوام کی توجہ کا مرکز تھے، اور یوں مقابلوں کے فاتحین پَلوں میں کروڑوں افراد کی توجہ کا مرکز بن جاتے تھے، لیکن ذرایع ابلاغ کی ترقی کے بعد، جب دل چسپی کے نئے پہلو سامنے آئے، نوجوانوں کی توجہ منتشر ہوگئی، تاہم وہ آج بھی خاصے پُرامید ہیں۔ ’’دیکھیں، کوئز پروگرامز میں کمی تو واقع ہوئی ہے، لیکن بہتری کا امکان ہے۔ اس ضمن میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘

مشہور زمانہ کوئز شو ’’کسوٹی‘‘ سوال و جواب کی دنیا کے مسافر، عاصم علی قادری کا پسندیدہ پروگرام ہے۔ مرحوم عبید اﷲ بیگ کو وہ علم کا سمندر قرار دیتے ہیں۔ ’’وہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ معلومات عامہ کے میدان میں اُن کا نام بہت معتبر ہے۔‘‘ ہم عصروں میں ضیا الرحمان ضیا کو سراہتے ہیں۔ عقیل عباس جعفری اور حافظ نسیم الدین کا ذکر کرتے ہیں۔

معلومات عامہ کے تعلق سے تین کتابیں ضرور مرتب کیں، لیکن اپنے ساتھیوں کے برعکس وہ تصنیف و تالیف کی جانب بھرپور توجہ نہیں دے سکے۔ کہنا ہے، ماضی میں ایک دو بار مختلف موضوع پر جم کر کام کیا، لیکن بدقسمتی سے یا تو تحقیقی مواد ضایع ہوگیا، یا پُراسرار طور پر گم۔ ملکۂ الزبتھ اور اولمپکس کے موضوع پر بھی خاصی تحقیق کرچکے ہیں، جسے کتابی شکل دینے کا قوی ارادہ ہے۔

9/11 اور 7/7 کے بعد مغرب میں جنم لینے والی صورت حال کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’مسائل تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ امریکا کے بارے میں مَیں کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر یورپ میں مقیم مسلمانوں کو کسی قسم کے تعصب کا سامنا نہیں۔ وہ خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں، اور اُنھیں مکمل مذہبی و سماجی آزادی حاصل ہے۔‘‘

’’نیلام گھر‘‘ میں کام یابی اور یورپ کے پہلے سفر سے خوش گوار یادیں وابستہ ہیں۔ مولانا مودودی کا انتقال ایک کرب ناک لمحہ تھا، اُس وقت بہت روئے۔ والد کی وفات کے سمے بھی گہرے صدمے سے گزرے۔ بتاتے ہیں، چھوٹے بھائی اور چھوٹی بہن کے انتقال کے وقت وہ لندن میں تھے، بدقسمتی سے اُنھیں فلائٹ نہیں ملی، اور وہ تدفین میں شرکت نہیں کرسکے، جس کا برسوں ملال رہا۔

عاصم صاحب عام طور سے پینٹ شرٹ پہنتے ہیں۔ سفید رنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ معتدل موسم بھاتا ہے۔ شاہی ٹکڑے پسندیدہ ڈش ہے۔ زمانۂ نوجوانی میں چند فلمیں بھی دیکھیں۔ یاد ہے، 23 مارچ کے روز، تحریک پاکستان سے متعلق ڈاکومینٹری دیکھنے کا ارادہ باندھے جب سنیما گھر میں داخل ہوئے، تو پردے پر ہندوستانی فلم ’’زندگی یا طوفان‘‘ چل رہی تھی۔ ویسے فلم ’’ارمان‘‘ اچھی لگی۔ وحید مراد، طلعت حسین اور شکیل کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ احمد رشدی کی آواز کے وہ مداح ہیں۔

شعرا میں رحمان کیانی اور اعجاز رحمانی نے متاثر کیا۔ ان سے ملاقات بھی رہی۔ نثر میں سلیم احمد کا نام لیتے ہیں، ابن انشا اور جمیل الدین عالی کو سراہتے ہیں۔ مطالعے کے شایق ہیں، البتہ فکشن سے دُور رہے۔ قرآن پاک کو اپنی پسندیدہ کتاب قرار دیتے ہیں۔ خود کو زندگی سے مطمئن پاتے ہیں۔ کہنا ہے، اُنھیں والدین کی دعائیں ملیں، اﷲ تعالیٰ نے اعتماد اور جذبہ دیا، جس کے طفیل وہ آج بھی فعال ہیں۔ مستقبل میں حج کرنے کی نیت ہے۔ ساتھ ہی آرزو ہے کہ اُن کی موت کے بعد بھی ’’پاکستان کوئز سوسائٹی‘‘ اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

’’پاکستان کوئز سوسائٹی‘‘ کی کہانی، بانی چیئرمین کی زبانی!

یہ قصّہ بھی کم دل چسپ نہیں!
گریجویشن کے زمانے میں وہ ’’اسٹوڈنٹس کوئز سوسائٹی‘‘ سے وابستہ رہے۔ دو برس بہ طور عہدے دار فعال کردار ادا کیا۔ اِس دوران یہ احساس ستاتا رہا کہ مذکورہ تنظیم فقط طلبا تک محدود ہے، اور حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا نہیں کر پارہی۔ بہ قول اُن کے،’’میری یہی خواہش تھی کہ کوئز کا ذوق رکھنے والے اُن نوجوانوں کو، جو کسی درس گاہ میں زیر تعلیم نہیں، ایسا پلیٹ فورم فراہم کیا جائے، جہاں وہ اپنے شوق کی تکمیل کرسکیں۔‘‘ یہی سوچتے ہوئے مارچ 74ء میں اُنھوں نے ’’پاکستان کوئز سوسائٹی‘‘ کی بنیاد رکھی، جس کے پہلے صدر، قاسم سید اور پہلے جنرل سیکریٹری، بدرالزماں بدر تھے۔ جہاں تک اُن کا تعلق ہے، وہ بانی چیئرمین کہلانے میں مطمئن تھے۔ ’’میں نے کبھی کوئی عہدہ نہیں لیا۔ میری سوچ یہی تھی کہ بغیر کسی عہدے کے کام کیا جائے!‘‘ اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔

قیام کے فوراً بعد اِس سوسائٹی نے انٹر اسکول، انٹرکالجیٹ کوئز پروگرامز کا انعقاد کروایا۔ ’’پاکستان نیشنل سینٹر‘‘ کے تعاون سے مختلف موضوعات پر مقابلے کروائے۔ بتاتے ہیں، سوسائٹی کا پہلا سالانہ پروگرام میٹروپول ہوٹل میں منعقد ہوا تھا، جس میں ٹرافی ڈی جے سائنس کالج کی ٹیم کے نام رہی، عقیل عباس جعفری اُس ٹیم میں شامل تھے۔

’’نیلام گھر‘‘ سے حاصل ہونے والی شہرت نے اِس کام کو پھیلانے کی تحریک دی۔ انھوں نے حیدرآباد، کوٹری اور سانگھڑ میں تنظیم کی شاخیں قائم کیں۔ وہاں کے نوجوانوں کو ’’نیلام گھر‘‘ اور دیگر کوئز پروگرامز میں شرکت کے لیے کراچی مدعو کیا۔

76ء میں قائد اعظم کے صد سالہ جشن ولادت کی مناسبت سے پروگرامز کروائے۔ اسی نسبت سے اُنھوں نے عقیل عباس جعفری کے ساتھ ’’قائد اعظم معلومات کے آئینے‘‘ نامی کتاب لکھی، جس کا بہت چرچا ہوا۔ اِس سے قبل وہ ایک کتابچہ ’’معلومات نسواں‘‘ کے عنوان سے مرتب کر چکے تھے، جو 75ء میں شایع ہوا۔

77ء میں پاکستان کوئز سوسائٹی کے پلیٹ فورم سے علامہ اقبال کا سال منایا گیا۔ اگلے برس نوجوانوں کے سال کی مناسبت سے تقریبات منعقد کیں۔ 79ء میں بچوں کا عالمی سال منایا گیا، جس کے تحت کئی پروگرام ہوئے۔ اگلے برس ماسکو اولمپکس کا انعقاد ہوا، جس کے تعلق سے اسپورٹس کوئز کا انعقاد کروایا۔ الغرض عاصم علی قادری اور اُن کے ساتھیوں کی کوششوں کے طفیل اِس سوسائٹی نے ایک علم دوست تنظیم کی حیثیت سے شناخت قائم کر لی۔ اُن کے برطانیہ جانے کے بعد سوسائٹی کے دیگر ارکان نے اِس سودمند سرگرمی کو آگے بڑھایا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔