افطار کی جان پکوڑے
پکوڑے رمضان میں افطار کا ایک اہم جز بن جاتے ہیں جس کے بنا دسترخوان خالی اور نامکمل لگتا ہے۔
نعمتیں اسی وقت کارآمد ہیں جب ہم اعتدال میں ان نعمتوں کا استعمال کریں اور روزے کی اصل حقیقت کو یاد رکھیں۔ فوٹو:فائل
KARACHI:
برکتوں اور رحمتوں والے مہینے رمضان المبارک کے آتے ہی ہر گھر کے دسترخوان بھی انواع و اقسام کی نعمتوں سے سج جاتے ہیں۔ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک ایسا انعام ہے جس میں انسان کے سونے جاگنے سے لے کر کھانے پینا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر گھر کے سحری اور افطارکے دسترخوان پر اللہ کی بے شمار نعمتیں موجود ہوتی ہیں۔
صبح صادق سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک روزے کو خوش اسلوبی سے نبھانے کے لئے ہمیں ایسی غزائیں اپنی سحری اور افطار میں شامل رکھنی چاہیئے جن سے سارا دن انرجی ملتی رہے اور ساتھ ہی لذت سے بھرپور بھی ہوں۔ روزے کی یہ ضرورت اور ذائقے کی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے سالہا سال سے کئی روایتیں چلتی آرہی ہیں اور انہی روایتوں میں افطار کے دسترخوان کی جان پکوڑے بھی شامل ہیں۔
روزے میں 10 سے 12 گھنٹے خالی پیٹ رہنے کے بعد کسی ایسے کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو جلد اور کم مقدار میں ٹھوس غذا فراہم کرے اور پھر نماز (تراویح) اور دیگر عبادات کو بنا کسی تھکن اور کمزوری کیساتھ ادا کرسکیں۔
پورے سال مختلف موقعوں پر کھائے جانے والے پکوڑے رمضان میں افطار کا ایک اہم جز بن جاتے ہیں جس کے بنا دسترخوان خالی اور نامکمل لگتا ہے۔ اس لئے اپنے افطار کو پُر رونق اور خوش ذائقہ بنانے کے لئے خاتون خانہ مختلف اقسام کے پکوڑے افطار میں تیار کرتیں ہیں جن میں آلو کے پکوڑے، پیاز کے پکوڑے، بینگن کے پکوڑے، پالک کے پکوڑے اور ہری مرچ کے پکوڑے روایتوں میں شامل ہیں۔ نئی روایتوں میں چکن، قیمے، چاول اور نوڈلز کے پکوڑے بھی دسترخوان میں شامل ہونے لگے ہیں۔
رمضان المبارک کے لیۓ لذیذ پکوڑوں کی چند تراکیب حاضر ہیں تاکہ خاتونِ خانہ آزمائیں اور اہل خانہ سے داد وصول کریں۔
چکن چیز پکوڑے
اجزاء
ہری مرچ (بڑے سائز کی)
بون لیس چکن(جولین کٹ کیے ہوئے)
چیز سلائس
سرکہ
سویا ساس
کالی مرچ
نمک
لیموں کا رس
بیسن
تیل (فرائی کرنے کے لئے)
ترکیب:
چکن کو سرکہ، سویا ساس، کالی مرچ، لیموں کے رس اور حسب ضرورت نمک ڈال کر آدھے گھنٹے کے لیۓ مرینیٹ کرنے رکھ دیں۔
فرائی پین میں آئل گرم کر کے چکن کو فرائی کر لیں۔ ہری مرچوں کو کٹ لگا کر رکھیں پھر ایک چکن پیس کو ایک چیز سلائس میں لپیٹ کر ہری مرچ کے اندر رکھیں۔ چکن والی ہری مرچ کو بیسن میں ڈپ کر کے فرائی کریں اور گولڈن براؤن ہونے پر نکال لیں۔
گرما گرم چکن چیز پکوڑے کھجور کی میٹھی چٹنی کے ساتھ نوش کریں۔
کھجور کی میٹھی چٹنی:
4 سے 5 کھجوریں
ٹما ٹر کا پیسٹ
زیرہ
نمک
2 سے 3 ثابت لال مرچ
ترکیب:
کھجور کی گٹلی نکال کر ٹماٹر کے پیسٹ اورتمام مصالحوں کے ساتھ گراینڈر میں ڈال کر پیس لیں۔ مزیدار کھجور کی کھٹی میٹھی چٹنی تیار ہے۔لذیذ چکن چیز پکوڑوں کے ساتھ نوش کریں۔
چاول کے پکوڑے
بیسن
چاول (ابُلے ہوئے)
کُٹی مرچ
نمک
سفید زیرہ، ثابت دھنیا(بون کر پیس لیں)
پیاز (باریک کٹی ہوئی)
ہری مرچ (باریک کٹی ہوئی)
تیل( ڈیپ فرائی کرنے کے لیۓ)
ترکیب:
ابلے ہوئے چاولوں کو اچھی طرح میش کرلیں۔ پھر بیسن، پیاز، ہری مرچ، پسا دھنیا،زیرہ، کُٹی مرچ اور نمک ڈال کر 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں۔ پھر تیل گرم کر کے آمیزے کے پکوڑے بنا کرفرائی کرلیں۔ مزیدار چاول کے پکوڑے تیار ہیں۔ دہی کے ٹھنڈے ٹھنڈے رائتے کے ساتھ نوش فرمائے۔
(روزوں میں پیاس سے پچنے اور حلق کو تر رکھنے کے لیۓ دہی کا استعمال زیادہ رکھیں پکوڑوں کے ساتھ دہی کا رائتہ اور لسی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔)
پالک کے پکوڑے
پالک (بڑے سائز کے پتے)
بیسن
نمک
بیکنگ پاؤڈر
کالی مرچ
سفید زیرہ(بھون کر پیس لیں)
تیل (فرائی کرنے کے لیۓ)
ترکیب:
بیسن میں زیرہ، حسب ضرورت نمک، 2 چمچ بیکنگ پاؤڈر اور کالی مرچ ڈال کر آمیزہ بنا لیں۔ پالک کے پتوں کو ثابت بیسن کے آمیزے میں ڈپ کر کے فرائی کرلیں۔ خستہ پالک کے پکوڑے تیار ہیں۔
سادے پکوڑوں میں کم سے کم 76 کلوریزہوتی ہیں جن میں 35 فیصد وہ چکنائی شامل ہوتی ہے جس میں پکوڑے تلے جاتے ہیں ۔ اس لیۓ افطار کے پکوڑوں کو کم سے کم تیل میں تلیں اور ایک بار کا استعمال شدہ تیل دوبارہ استعمال نہ کریں۔
پالک کے پکوڑوں میں کم سے کم 100 کلوریز پائی جاتی ہیں ساتھ ہی اس میں آئرن اور وٹامن اے کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جو ایک روزے کو بہتر طور پر گزارنے کے لیۓ مفید ثابت ہوتی ہے۔ آلو کے پکوڑوں میں 225 کلوریز ہوتی ہیں جس میں زیادہ مقدار چکنائی کی ہوتی ہے لہذا روز روز افطار میں آلو کے پکوڑوں کو شامل کرنا فائدہ مند نہیں۔ چکن کے پکوڑوں میں 441 کیلوریز ہوتی ہیں جو کولیسٹرول بڑھانے کا سبب بھی بنتا ہے۔ رمضان کے روزے جو انسانی جسم کی بیماریوں کو اعتدال پر لانے کا اہم ذریعہ ہےایسے میں بہتر ہے اپنے افطار کے دسترخوان کو کولیسٹرول اور چکنائی سے محفوظ رکھیں۔
رمضان کا نیکیوں سے پُر نور مہینہ عبادتوں اور نیکیوں کا خزینہ بن کر مسلمانوں کو نصیب ہوتا ہے جس میں رب تعالیٰ اپنے بندوں کو بے شمار نعمتیں عطا کرتا ہے لیکن یہ نعمتیں اسی وقت کارآمد ہیں جب ہم اعتدال میں ان نعمتوں کا استعمال کریں اور روزے کی اصل حقیقت کو یاد رکھیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
برکتوں اور رحمتوں والے مہینے رمضان المبارک کے آتے ہی ہر گھر کے دسترخوان بھی انواع و اقسام کی نعمتوں سے سج جاتے ہیں۔ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک ایسا انعام ہے جس میں انسان کے سونے جاگنے سے لے کر کھانے پینا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر گھر کے سحری اور افطارکے دسترخوان پر اللہ کی بے شمار نعمتیں موجود ہوتی ہیں۔
صبح صادق سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک روزے کو خوش اسلوبی سے نبھانے کے لئے ہمیں ایسی غزائیں اپنی سحری اور افطار میں شامل رکھنی چاہیئے جن سے سارا دن انرجی ملتی رہے اور ساتھ ہی لذت سے بھرپور بھی ہوں۔ روزے کی یہ ضرورت اور ذائقے کی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے سالہا سال سے کئی روایتیں چلتی آرہی ہیں اور انہی روایتوں میں افطار کے دسترخوان کی جان پکوڑے بھی شامل ہیں۔
روزے میں 10 سے 12 گھنٹے خالی پیٹ رہنے کے بعد کسی ایسے کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو جلد اور کم مقدار میں ٹھوس غذا فراہم کرے اور پھر نماز (تراویح) اور دیگر عبادات کو بنا کسی تھکن اور کمزوری کیساتھ ادا کرسکیں۔
پورے سال مختلف موقعوں پر کھائے جانے والے پکوڑے رمضان میں افطار کا ایک اہم جز بن جاتے ہیں جس کے بنا دسترخوان خالی اور نامکمل لگتا ہے۔ اس لئے اپنے افطار کو پُر رونق اور خوش ذائقہ بنانے کے لئے خاتون خانہ مختلف اقسام کے پکوڑے افطار میں تیار کرتیں ہیں جن میں آلو کے پکوڑے، پیاز کے پکوڑے، بینگن کے پکوڑے، پالک کے پکوڑے اور ہری مرچ کے پکوڑے روایتوں میں شامل ہیں۔ نئی روایتوں میں چکن، قیمے، چاول اور نوڈلز کے پکوڑے بھی دسترخوان میں شامل ہونے لگے ہیں۔
رمضان المبارک کے لیۓ لذیذ پکوڑوں کی چند تراکیب حاضر ہیں تاکہ خاتونِ خانہ آزمائیں اور اہل خانہ سے داد وصول کریں۔
چکن چیز پکوڑے
اجزاء
ہری مرچ (بڑے سائز کی)
بون لیس چکن(جولین کٹ کیے ہوئے)
چیز سلائس
سرکہ
سویا ساس
کالی مرچ
نمک
لیموں کا رس
بیسن
تیل (فرائی کرنے کے لئے)
ترکیب:
چکن کو سرکہ، سویا ساس، کالی مرچ، لیموں کے رس اور حسب ضرورت نمک ڈال کر آدھے گھنٹے کے لیۓ مرینیٹ کرنے رکھ دیں۔
فرائی پین میں آئل گرم کر کے چکن کو فرائی کر لیں۔ ہری مرچوں کو کٹ لگا کر رکھیں پھر ایک چکن پیس کو ایک چیز سلائس میں لپیٹ کر ہری مرچ کے اندر رکھیں۔ چکن والی ہری مرچ کو بیسن میں ڈپ کر کے فرائی کریں اور گولڈن براؤن ہونے پر نکال لیں۔
گرما گرم چکن چیز پکوڑے کھجور کی میٹھی چٹنی کے ساتھ نوش کریں۔
کھجور کی میٹھی چٹنی:
4 سے 5 کھجوریں
ٹما ٹر کا پیسٹ
زیرہ
نمک
2 سے 3 ثابت لال مرچ
ترکیب:
کھجور کی گٹلی نکال کر ٹماٹر کے پیسٹ اورتمام مصالحوں کے ساتھ گراینڈر میں ڈال کر پیس لیں۔ مزیدار کھجور کی کھٹی میٹھی چٹنی تیار ہے۔لذیذ چکن چیز پکوڑوں کے ساتھ نوش کریں۔
چاول کے پکوڑے
بیسن
چاول (ابُلے ہوئے)
کُٹی مرچ
نمک
سفید زیرہ، ثابت دھنیا(بون کر پیس لیں)
پیاز (باریک کٹی ہوئی)
ہری مرچ (باریک کٹی ہوئی)
تیل( ڈیپ فرائی کرنے کے لیۓ)
ترکیب:
ابلے ہوئے چاولوں کو اچھی طرح میش کرلیں۔ پھر بیسن، پیاز، ہری مرچ، پسا دھنیا،زیرہ، کُٹی مرچ اور نمک ڈال کر 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں۔ پھر تیل گرم کر کے آمیزے کے پکوڑے بنا کرفرائی کرلیں۔ مزیدار چاول کے پکوڑے تیار ہیں۔ دہی کے ٹھنڈے ٹھنڈے رائتے کے ساتھ نوش فرمائے۔
(روزوں میں پیاس سے پچنے اور حلق کو تر رکھنے کے لیۓ دہی کا استعمال زیادہ رکھیں پکوڑوں کے ساتھ دہی کا رائتہ اور لسی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔)
پالک کے پکوڑے
پالک (بڑے سائز کے پتے)
بیسن
نمک
بیکنگ پاؤڈر
کالی مرچ
سفید زیرہ(بھون کر پیس لیں)
تیل (فرائی کرنے کے لیۓ)
ترکیب:
بیسن میں زیرہ، حسب ضرورت نمک، 2 چمچ بیکنگ پاؤڈر اور کالی مرچ ڈال کر آمیزہ بنا لیں۔ پالک کے پتوں کو ثابت بیسن کے آمیزے میں ڈپ کر کے فرائی کرلیں۔ خستہ پالک کے پکوڑے تیار ہیں۔
سادے پکوڑوں میں کم سے کم 76 کلوریزہوتی ہیں جن میں 35 فیصد وہ چکنائی شامل ہوتی ہے جس میں پکوڑے تلے جاتے ہیں ۔ اس لیۓ افطار کے پکوڑوں کو کم سے کم تیل میں تلیں اور ایک بار کا استعمال شدہ تیل دوبارہ استعمال نہ کریں۔
پالک کے پکوڑوں میں کم سے کم 100 کلوریز پائی جاتی ہیں ساتھ ہی اس میں آئرن اور وٹامن اے کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جو ایک روزے کو بہتر طور پر گزارنے کے لیۓ مفید ثابت ہوتی ہے۔ آلو کے پکوڑوں میں 225 کلوریز ہوتی ہیں جس میں زیادہ مقدار چکنائی کی ہوتی ہے لہذا روز روز افطار میں آلو کے پکوڑوں کو شامل کرنا فائدہ مند نہیں۔ چکن کے پکوڑوں میں 441 کیلوریز ہوتی ہیں جو کولیسٹرول بڑھانے کا سبب بھی بنتا ہے۔ رمضان کے روزے جو انسانی جسم کی بیماریوں کو اعتدال پر لانے کا اہم ذریعہ ہےایسے میں بہتر ہے اپنے افطار کے دسترخوان کو کولیسٹرول اور چکنائی سے محفوظ رکھیں۔
رمضان کا نیکیوں سے پُر نور مہینہ عبادتوں اور نیکیوں کا خزینہ بن کر مسلمانوں کو نصیب ہوتا ہے جس میں رب تعالیٰ اپنے بندوں کو بے شمار نعمتیں عطا کرتا ہے لیکن یہ نعمتیں اسی وقت کارآمد ہیں جب ہم اعتدال میں ان نعمتوں کا استعمال کریں اور روزے کی اصل حقیقت کو یاد رکھیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس