دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں

اس وقت شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ٹو کامیابی کے ساتھ جاری ہے

ملک دشمن عناصر پاکستان کی بقاء اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے اس سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے. فوٹو: فائل

سیکیورٹی فورسز نے اتوار کو خیبرایجنسی اور شمالی وزیرستان میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی جس سے غیر ملکیوں سمیت 24 دہشت گرد مارے گئے اور اسلحے کے چار بڑے ذخائر بھی تباہ کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے خیبرایجنسی کے علاقے وادی تیراہ میں کارروائی کے دوران 24 دہشت گرد مارے گئے جب کہ متعدد کو زخمی کر دیا جب کہ شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی کے دوران دس دہشت گرد مارے گئے اور ان کے تین ٹھکانے تباہ ہوگئے۔

اس کارروائی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں غیر ملکی جنگجوؤں کی ایک تعداد ابھی تک موجود ہے' آپریشن ضرب عضب 15جون 2014 کو شروع کیا گیا جس میں اب تک القاعدہ' طالبان کے اہم کمانڈروں اور غیر ملکیوں سمیت 28سو سے زائد انتہا پسند مارے اور ہزاروں گرفتار کیے جا چکے ہیں جب کہ بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران پاکستان میں القاعدہ کا سربراہ عدنان الشکری الجمعہ بھی مارا گیا تھا جو اسامہ کا اہم ساتھی اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کا سربراہ تھا۔ اس طرح پاک فوج نے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ختم کیا اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں میں بھی دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد ماری جا چکی ہے۔


اب اس وقت شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ٹو کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور فوج نے بڑا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کردیا ہے۔ اب بہت تھوڑا علاقہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے جس کے خلاف پاک فوج کا آپریشن بڑی تیزی اور کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب سارا علاقہ مکمل طور پر دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گا۔دہشت گردوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ شکست ان کا مقدر بن چکی ہے اور وہ زیادہ دیر تک ان علاقوں کو پناہ گاہ نہیں بنا سکتے لہذا ان کی ایک بڑی تعداد اس علاقے سے فرار ہو کر ملک کے مختلف علاقوں میں چھپ گئی ہے لیکن سیکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں کو تعاقب کر رہی ہیں اور جہاں کہیں بھی ان کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اتوار کو فیروز والہ کے علاقے کالا شاہ کاکو کے قریب پٹھان کالونی میں حساس اداروں اور پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا تو ایک خود کش بمبار نے خودکو دھماکے سے اڑا لیا جس سے دو پولیس اہلکار اور دو شہری زخمی ہو گئے جب کہ مقابلے میں تین دہشت گرد مارے گئے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں نے ایک کال ٹریس کر کے یہ کارروائی کی' دہشت گردوں سے تین خود کش جیکٹیں اور بھاری تعداد میں جدید اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں چھپے ہوئے بے چہرہ دہشت گردوں کی گرفتاری کوئی آسان کام نہیں کیونکہ یہ دہشت گرد معاشرے میں گھلے ملے ہوئے ہیں اور کچھ مذہبی عناصر بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں اس لیے ان دہشت گردوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے سیکیورٹی اداروں اور تمام ایجنسیوں کو مل کر لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ سیاسی اور عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ ملک میں خوشحالی اور امن کے لیے ہر قیمت پر دہشت گردی کا مکمل صفایا کیا اور جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اس وقت دہشت گردوں کے مختلف گروہ ملکی سالمیت کے لیے خطرے بنے ہوئے ہیں'کچھ گروہ مذہبی انتہا پسند ہیں جو براہ راست سیکیورٹی اداروں سے نبرد آزما ہیں۔

کچھ گروہ غیر ملکی ایجنسیوں کے ایماء پر ملک میں غیر یقینی صورت حال پیدا کر رہے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ کی صورت حال سب کے سامنے ہے' ہماری بہادر فوج ہر محاذ پر ان وطن دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہے' ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور اسے دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ اس جنگ میں ہماری بہادر فوج جو قربانیاں دے رہی ہے عزم صمیم کی دولت سے مالا مال پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ ملک دشمن عناصر پاکستان کی بقاء اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے اس سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں باہمی اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں' کوئی بھی حکومت کسی قومی مسئلے سے نمٹنے کے لیے عوام کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ قوم کا اتحاد ہی وہ قوت ہے جو ملک دشمن عناصر کے ناپاک ارادوں اور عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے۔
Load Next Story