کراچی ہلاکتیں الزام تراشی نہیں اقدامات کی ضرورت

محکمہ موسمیات کی جانب سے منگل کو گرمی کا زور ٹوٹ جانے اور موسم قدرے بہتر ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے

گرمی سے ہلاکتوں کے معاملے پر الزام تراشی اور سیاست چمکانے کے بجائے راست اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ملک میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، شدید گرمی کی دوسری قاتل لہر سے کراچی میں اتوار کو بھی مختلف اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی اموات کا سلسلہ جاری رہا اور مزید 21 افراد جاں بحق ہوگئے۔ بلاشبہ اس سلسلے میں محکمہ موسمیات کی جانب سے منگل کو گرمی کا زور ٹوٹ جانے اور موسم قدرے بہتر ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے لیکن ہلاکتوں کے معاملے پر سیاست کا بازار گرم ہے اور نہ صرف الزام تراشی اور ایک دوسرے کو ذمے دار ٹھہرانے کی روایت جاری ہے بلکہ نمائشی ہمدردی کے ذریعے بھی اہل کراچی کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے کراچی میں ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی ہلاکتوں اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات سے متعلق اجلاس میں شرکت کے لیے ایک روزہ دورہ کراچی کا پروگرام بنایا جو ''ناگزیر مصروفیات'' کی وجہ سے منسوخ ہوگیا۔ لیکن اس موقع پر جو دیگر مظاہر دیکھنے میں آئے وہ بھی قابل ستائش نہیں۔


وزیراعظم کے دورے کی اطلاع ملتے ہی اچانک ہی صوبائی حکومت بھی جاگ اٹھی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اتوار کو کراچی کے مختلف اسپتالوں کے اچانک دورے کیے، پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی اتوار کو وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ اچانک سول اسپتال پہنچے۔ ہیٹ اسٹروک میں جاں بحق ہونے والے متاثرہ مریضوں کی عیادت بھی کی۔ وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل میمن نے عباسی شہید اسپتال کے دورہ میں کہا کہ قدرتی آفت پر سیاست چمکانا اس آفت سے جاں بحق ہونے والوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے، اگر کراچی سمیت سندھ میں بجلی کا بحران نہ ہوتا تو اموات میں 50 فیصد کمی ہوسکتی تھی۔ ان کی جانب سے اموات کا ذمے دار وفاقی وزارت پانی و بجلی اور کے الیکٹرک کو قرار دیا جانا شاید سیاست چمکانے کے زمرے میں نہ آئے۔ لیکن جہاں ہنگامی دورے کیے گئے ان تمام اسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چونکہ پیر کو وزیراعظم نواز شریف کی آمد متوقع ہے اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اتوار کو مختلف اسپتالوں کے دورے کیے تاکہ وزیراعظم کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ صوبائی حکومت مکمل رابطے میں اور فعال ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں ہیٹ اسٹروک سے اموات پر سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی کے خلاف بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، پہلے مرحلے میں وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی، دوسرے مرحلے میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کراچی کے اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور ڈائیریا سے ہونے والی اموات کا سلسلہ ایک عشرے سے جاری ہے لیکن اس دوران صوبائی سیکریٹری صحت اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سمیت پبلک ہیلتھ کے شعبے کے افسران عملاً غیر حاضر رہے، تاہم وزیراعظم کے دورہ کراچی کے اعلان کے بعد محکمہ صحت بھی فعال ہوگیا۔ نجانے کب حکومتی زعما، سیاستدان اور متعلقہ ادارے اپنی ذمے داریوں کا احساس کریں گے۔ گرمی سے ہلاکتوں کے معاملے پر الزام تراشی اور سیاست چمکانے کے بجائے راست اقدامات کی ضرورت ہے۔
Load Next Story