بج… بجا… بجاٹ یعنی کہ …

ویسے بھی بجٹ جیسی چیزوں پر بات کرنا ہمارے لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں الفاظ کم اور ہندسے زیادہ ہوتے ہیں

barq@email.com

ویسے بھی بجٹ جیسی چیزوں پر بات کرنا ہمارے لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں الفاظ کم اور ہندسے زیادہ ہوتے ہیں، بالکل انسانوں اور بطور خاص پاکستانیوں کی طرح ۔ ہندسوں کا تناسب بھی وہی 85-15 کا ہوتا ہے، یعنی پندرہ فی صد وہ ''سرکاری'' لوگ جن کے نام اور عہدے بھی ہوتے ہیں جب کہ باقی 85 فی صد ترکاری لوگ صرف ہندسوں سے یاد کیے جاتے ہیں جیسے اتنے مرے اتنے زخمی ہوئے، اتنے سیلاب میں بہہ گئے، اتنے زلزلے کا شکار ہوئے، اتنے ووٹ بن گئے، اتنے نوٹ بنائے گئے، اور باقی کچھ بچا تو مہنگائی مار گئی، دھلائی مار گئی ،کٹائی مار گئی، گدائی مار گئی، ہاں البتہ جو پندرہ فی صد ہوتے ہیں ان کے ایک نہیں کئی کئی نام ہوتے ہیں جیسے ممتاز، مسلم لیگی، رہنماء خان، چوہدری، ملک، رئیس یا وزیر، امیر سفیر، شہیر افسر جناب سر جی وغیرہ، چونکہ ہم خود ہندسے ہیں اس لیے ہندسے ہندسوں کے بارے میں بارے میں کیا بتا سکتے ہیں یعنی کوئی ''چیز'' بھی ''کل'' کے بارے میں نہیں جانتا، لیکن اس مرتبہ ارادہ تھا کیونکہ کہ کم از کم صوبائی بجٹ پہلی بار ہوم میڈ کے بجائے ''فارن میڈ'' ہوگا کیونکہ ایک عرصے سے بمقام بنی گالہ اس پر کام کر رہے ہیں جو پہلے بھی تحریک انصاف کے پاس کچھ کم نہیں تھے لیکن اب ''وایا سینٹ'' کچھ اور نامی گرامی ماہرین علوم ہندسہ نے ان کو جوائن کیا ہوا ہے۔

ان میں ایسے ایسے ہندسہ شناس اور ریاض دان بھی ہیں جو ایک ماچس کی تیلی کو رگڑ کر الہ دین کا چراغ بنا سکتے یا تمباکو کی ایک ''پتی'' سے ہیر کا جگر شق کر سکتے ہیں، لیکن ابتداء ہی غلط ہو گئی کیونکہ پرانے مروج پرانی اصطلاحات جیسے فاضل بجٹ فلاں دوست بجٹ فلاں نواز بجٹ کی جگہ اس مرتبہ اس کی عرفیت ''متوازن بجٹ'' بتائی گئی ہے جب کہ ادھر اپنی کم عملی کا یہ عالم ہے کہ کم از کم چالیس پچاس سال تو ہمیں فاضل بجٹ کو جاننے اور پہچاننے میں لگے ہیں کیونکہ اس کے لیے پہلے عربی سیکھنا پڑی، پھر صرف و نحوی مراحل طے کیے اور لفظ ''فضل'' کی رسی پکڑ کر اسے خانوادے کے تمام اراکین سے تعارف حاصل کیا جسے فاضل، فضول، فضلہ، فضلا، تفصیل متفیصل، مستعفصل وغیرہ ان تمام الفاظ کو عربی لغات کی روشنی میں جانچا تو مجموعی طور پر ''فالتو'' زائد، اضافی جسے مفاہیم نکلے جن کے رشتے بیکار پھینکے ہوئے اور گرائے ہوئے بھی تھے، بلکہ ابتداء میں جب ہم منشی فاصل کے امتحان میں نقل کر کے پاس ہوئے اور ایک مقامی ہفت روزے ہفت اقلیم کو جوائن کیا تو فاضل بجٹ پڑھ کر اکثر سوچتے تھے کہ ضرور منشی فاضل ادیب فاضل اور مولوی فاضل کی طرح یہ ''بجٹ فاضل'' بھی کسی قسم کی ڈگری یا امتحان ہے جسے پاس کر کے لوگ وزیر خزانہ بن جاتے ہیں۔

آپ سے کیا پردہ خزانہ کا پرکشش لفظ دیکھ کر ہمارے دل میں یہ ڈگری لینے کے لیے کچھ کچھ ہونے لگا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ فاضل بجٹ کوئی نصابی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک قطعی غیر نصابی سرگرمی ہے جو ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتی، خیر آہستہ آہستہ جتنی جتنی سیاست اور صحافت کی اصطلاحات سمجھ میں آتی گئیں، فاضل بجٹ کے بارے میں ہماری معلومات کا خزانہ بھرتا گیا، جس میں زیادہ ہاتھ ہمارے دوست حضرت ٹے ٹے آلو بخاروی کا تھا جن کا اپنے بارے میں پکا پکا دعویٰ تھا کہ دنیا میں ایسا کوئی علم نہیں ہے جس نے ان کے گھر میں کچھ عرصہ لونڈی کا کام نہ کیا ہو چنانچہ اپنا نام وہ بغیر علامہ کے نہ کبھی لکھتے تھے نہ پڑھتے تھے نہ برداشت کرتے تھے۔


حضرت ٹے ٹے آلو بخاروی کا فاضل بجٹ کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ ایجاٹ (جمع بجٹ) کی وہ قسم ہے جس میں سب کچھ پہلے سے زیادہ اور فاصل ہوتا ہے، ہندسے تو ہوتے ہی ہیں سن اور تاریخ بھی پہلے سے ایک سال بڑا ہوتا ہے اور اس میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ فاضل یا اضافے پر مائل ہوتا ہے، ٹیکس فاضل ہوتے ہیں، نرخ فاصل ہوتے ہیں ، تن خواہوں مراعات اور ہر چیز میں فاضل رجحان پایا جاتا ہے حتیٰ کہ جھوٹ بھی پہلے سے تقریباً چار گنا زیادہ ہوتا ہے تکنیکی اور لغوی طور پر ایسے ''بجاٹ'' کو فاضل کے علاوہ اسی مادے کے دوسرے کئی الفاظ سے بھی یاد کیا جاتا ہے جیسے فاضلانہ، افضلانہ، تفصلانہ اور اسی طرح بناتے جایئے ان فاضلانہ ''بجاٹ'' کے ساتھ ساتھ اور قسم کے بجٹ کو خسارے کا بجٹ بھی کہتے تھے لیکن پھر اسے ترک کر دیا گیا کہ خواہ مخواہ تکرار سے کیا فائدہ جب سب کو پتہ ہے کہ بجٹ ہمیشہ خسارے ہی کا ہوتا ہے، کم از کم وہ لوگ تو ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں جو خسارے میں پیدا ہوتے ہیں، خسارے میں رہتے ہیں اور خسارے ہی میں دفن ہو جاتے ہیں اور پھر یہ بھی ہوا کہ ملک کا تقریباً ہر محکمہ ہر ادارہ ہی خسارے میں ہے تو روز روز شیر آیا شیر آیا سے مطلب کیا؟

ھمہ کارم ز خود کامی بہ بدنامی کشید آری
نہاں کی ماند آں رازے کہ آں سازند محفلہا

یعنی جب پتہ ہی ہے کہ سب کچھ کس کیا دھرا ہے تو خواہ مخواہ روز روز قوالیاں گانے سے کیا فائدہ، لیکن ہماری بدقسمتی ہم سے ہمیشہ دو چار بجٹ آگے ہی چلتی ہے۔ فاضل اور خسارے کا بجٹ تو کچھ کچھ سمجھ میں آگیا لیکن اب کے جو یہ نیا ''ٹپہ'' متوازن بجٹ کا نکلا ہے اس کا کیا کریں کیونکہ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے ایک تو ''متوا'' ہے جو پڑوسی ملک میں اکثر رومانی گانوں میں مستعمل ہے جیسے متوا میرے، اے میرے متوا، جو ہمارے ایک دوست من موہن سنگھ متوا کا تخلص بھی ہے، اس متوا کا مطلب تو کچھ سمجھ جائیں گے لیکن ۔۔۔۔ یہ متوا کے بعد ''زن'' یہاں پر اپنے دماغ کے ٹائر ایک ہی جگہ گھومنے لگتے ہیں کیونکہ اس کا ایک ساتھی ''زر'' بھی ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا، کاش علامہ ٹ ٹ آلو بخاروی زندہ ہوتے۔
Load Next Story