سندھ اورخیبرپختونخوا میں بھی موبائل انٹر نیٹ پرٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ
خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا سروس پر ٹیکس صارفین پر ایک بوجھ ہے جسے اب تک موبائل فون کمپنیاں برداشت کررہی ہیں
پشاور ہائی کورٹ نے صوبے میں ٹیکسوں کی وصولی پر حکم امتناع جاری کررکھا ہے:فوٹو: فائل
SHABQADAR:
پاکستان کی سیلولر انڈسٹری نے پنجاب کے بعد سندھ اور خیبرپختون خوا میں بھی انٹرنیٹ پر عائد صوبائی ٹیکس کے خاتمے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ملک میں کام کرنے والی پانچوں موبائل کمپنیوں کی جانب سے خیبرپختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے نام الگ الگ خطوط میں انٹرنیٹ کے استعمال (ڈیٹا) سروسز پر ٹیکسوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیبرپختون خوا کے وزیر اعلیٰ کو ارسال کردہ خط کی ایک نقل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا سروس پر ٹیکس صارفین پر ایک بوجھ ہے جسے اب تک موبائل فون کمپنیاں برداشت کررہی ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکسوں کا نفاذ ٹیلی کام سیکٹر میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک چلینج بن چکا ہے۔ پاکستان میں موبائل اور ٹیلی کمیونی کیشن انڈسٹری پر مجموعی طور پر 40فیصد تک ٹیکسز عائد ہیں جو دنیا بھر میں اس شعبے پر ٹیکسوں کی سب سے بلند شرح ہے، ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول کے ذریعے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا حکومتوں کی ترجیح ہے تاہم کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے ٹیکسوں کی موجودہ بلند شرح پر نظرثانی ناگزیر ہے۔
سندھ اور کے پی کے میں انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز پر ٹیکسوں کے نفاذ سے انٹرنیٹ کے پھیلائو کو مشکلات کا سامنا ہے، پنجاب حکومت نے ملک کی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ڈیٹا سروسز پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ سیلولر کمپنیوں نے دونوں صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر عائد ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ملک میں سماجی واقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے، ٹیکسوں کے خاتمے سے نہ صرف صارفین بلکہ خود حکومتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
سیلولر انڈسٹری کے نمائندوں نے دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کی بھی درخواست کی ہے تاکہ صوبوں میں سیلولر موبائل انڈسٹری کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے پر غور کیا جا سکے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں صوبوں میں انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز پر ٹیکسوں کا معاملہ عدالتوں میں زیر غور ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے صوبے میں ٹیکسوں کی وصولی پر حکم امتناع جاری کررکھا ہے جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے سندھ ریونیو بورڈ سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے تاہم موبائل فون کمپنیاں دونوں صوبوں میں ڈیٹا سروز پر عائد ٹیکس کا بوجھ خود برداشت کرتے ہوئے ٹیکس جمع کرارہی ہیں جس کا کوئی اثر اب تک صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل پنجاب حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ڈیجیٹل کمیونٹی کی جانب سے احتجاج کے سبب پنجاب حکومت کی کابینہ نے انٹرنیٹ پر ٹیکس کی تجویز مسترد کر دی تھی اور پنجاب میں انٹرنیٹ پر ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔
پاکستان کی سیلولر انڈسٹری نے پنجاب کے بعد سندھ اور خیبرپختون خوا میں بھی انٹرنیٹ پر عائد صوبائی ٹیکس کے خاتمے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ملک میں کام کرنے والی پانچوں موبائل کمپنیوں کی جانب سے خیبرپختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے نام الگ الگ خطوط میں انٹرنیٹ کے استعمال (ڈیٹا) سروسز پر ٹیکسوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیبرپختون خوا کے وزیر اعلیٰ کو ارسال کردہ خط کی ایک نقل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا سروس پر ٹیکس صارفین پر ایک بوجھ ہے جسے اب تک موبائل فون کمپنیاں برداشت کررہی ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکسوں کا نفاذ ٹیلی کام سیکٹر میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک چلینج بن چکا ہے۔ پاکستان میں موبائل اور ٹیلی کمیونی کیشن انڈسٹری پر مجموعی طور پر 40فیصد تک ٹیکسز عائد ہیں جو دنیا بھر میں اس شعبے پر ٹیکسوں کی سب سے بلند شرح ہے، ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول کے ذریعے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا حکومتوں کی ترجیح ہے تاہم کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے ٹیکسوں کی موجودہ بلند شرح پر نظرثانی ناگزیر ہے۔
سندھ اور کے پی کے میں انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز پر ٹیکسوں کے نفاذ سے انٹرنیٹ کے پھیلائو کو مشکلات کا سامنا ہے، پنجاب حکومت نے ملک کی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ڈیٹا سروسز پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ سیلولر کمپنیوں نے دونوں صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر عائد ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ملک میں سماجی واقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے، ٹیکسوں کے خاتمے سے نہ صرف صارفین بلکہ خود حکومتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
سیلولر انڈسٹری کے نمائندوں نے دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کی بھی درخواست کی ہے تاکہ صوبوں میں سیلولر موبائل انڈسٹری کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے پر غور کیا جا سکے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں صوبوں میں انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز پر ٹیکسوں کا معاملہ عدالتوں میں زیر غور ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے صوبے میں ٹیکسوں کی وصولی پر حکم امتناع جاری کررکھا ہے جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے سندھ ریونیو بورڈ سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے تاہم موبائل فون کمپنیاں دونوں صوبوں میں ڈیٹا سروز پر عائد ٹیکس کا بوجھ خود برداشت کرتے ہوئے ٹیکس جمع کرارہی ہیں جس کا کوئی اثر اب تک صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل پنجاب حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ڈیجیٹل کمیونٹی کی جانب سے احتجاج کے سبب پنجاب حکومت کی کابینہ نے انٹرنیٹ پر ٹیکس کی تجویز مسترد کر دی تھی اور پنجاب میں انٹرنیٹ پر ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔