یونس خان سفاک بیٹسمین اورعظیم انسان

یونس خان حقیقت میں ٹیم کے ساتھ مخلص اور ایماندار انسان ہیں

یونس خان حقیقت میں ٹیم کے ساتھ مخلص اور ایماندار انسان ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی

چند برس قبل لندن کی ایک شام کا ذکر ہے، میں ایک پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ بیٹھا تھا، وہ خاصے اچھے موڈ میں نظر آیا تو میں نے سوچا آج اس سے کچھ اندر کی باتیں معلوم کرتے ہیں، میں نے کچھ سوالات کیے تو وہ کہنے لگا ''یار میں نے بطور دوست تمہیں بلایا تم صحافی بن کر سوال کرنے لگے'' میں نے جواب دیا کہ مجھے چند باتیں میرے ریکارڈ کیلیے بتا دو، تمہارے نام سے شائع نہیں کروں گا، یہ سن کر وہ تیار ہو گیا، میں نے اس سے پوچھا پاکستانی ٹیم کا سب سے کرپٹ کھلاڑی کون ہے، یہ سوال سن کر وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا دوسری بات کرو، میں نے پوچھا سب سے ایماندار کرکٹر کون ہے، ایسے میں اس نے بغیر کسی وقفے کے جواب دیا یونس خان، وہ 100 فیصد ٹیم کیلیے کھیلتا ہے۔

اس نے کئی اور باتیں بھی بتائیں جو وقت آنے پر آپ کے ساتھ شیئر کروں گا، مگر یونس کے حوالے سے بات مجھے سو فیصد درست لگی، واقعی وہ ٹیم کے ساتھ مخلص اور ایماندار انسان ہیں، شاید اسی نے انھیں سب سے کامیاب پاکستانی بیٹسمین کے اعزاز کے قریب پہنچا دیا ہے،انضمام الحق اور یوسف نے بھی بڑے رنز بنائے، مگر دونوں کیریئر میں متنازع رہے، یوسف تو اب بھی ٹی وی پر بیٹھ کر ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں جیسے ان کے دور میں کرکٹ ٹیم نمبر ون تھی،جاوید میانداد نے بھی خاصے کارنامے انجام دیے، وہ بھی ملک کیلیے کھیلتے تھے اور ان جیسی کمٹمنٹ یونس خان میں دکھائی دی، کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا، یونس نے بھی کیریئر میں بعض غلطیاں کیں۔

ان میں سے ایک ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں فتح کے بعد اس طرز سے ریٹائرہونا تھا،انھوں نے عمران خان کی پیروی کرنا چاہی مگر یہ بھول گئے کہ یہ پاکستان ہے یہاں چند روز بعد لوگ سب کو بھول جاتے ہیں، ان کے ساتھ بھی یہی ہوا،پھر قیادت میں انھوں نے کھلاڑیوں پر کچھ سختی دکھانی چاہی اس سے سب ان کے مخالف ہو گئے جس کی وجہ سے عہدہ چھوڑنا پڑا، صرف نام میں خان ہونے سے کوئی عمران خان نہیں بن جاتا ایسے کرکٹرز صدیوں میں ایک پیدا ہوتے ہیں، یہ بات یونس کو دیر سے سمجھ آئی،اسی طرح نجانے کیوں وہ میڈیا سے دور دور رہے حالانکہ یہ دور میڈیا کا ہی ہے آپ الگ تھلگ نہیں رہ سکتے،بورڈ کے ارباب اختیار سے بھی ان کی اکثر نہ بنی، ان سب باتوں کا یونس کو بڑا نقصان ہوا، خیر اب انھیں غلطیوں کا احساس ہو چکا،کپتانی سے وہ دور ہو گئے، ساتھی کھلاڑیوں سے کوئی مسئلہ نہیں رہا،میڈیا سے بھی تعلقات بہتر ہوئے۔


جس کا کریڈٹ ان کے قریبی دوست یحییٰ حسینی کو جاتا ہے، بورڈ سے آخری ٹکرائو سینٹرل کنٹریکٹ پر ہوا ، یہ معاملہ بھی سلجھ گیا، مجھے خوشی ہے کہ اس وقت کے چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے میرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے 5منٹ میں یہ تنازع حل کر دیا تھا،اس وقت ایسا نہ ہوتا تو شاید یونس اب تک ریٹائر ہو چکے ہوتے، اب ون ڈے کھیلنے کی ضد بھی انھوں نے چھوڑ دی، اب یونس اپنے ٹیسٹ کیریئر سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو رہے ہیں، امید ہے کہ اسی سال وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی بن جائیں گے، یونس کی سب سے بڑی خوبی صاف گوئی ہے جو کبھی کبھی خامی بھی بن جاتی ہے۔

وہ ٹیم مین ہیں، دشمن بھی یہ بات کہیں گے کہ انھوں نے پیسے کیلیے کبھی ملکی عزت کا سودا نہیں کیا،آج کل کے دور میں ہر کھلاڑی دوسرے سے خائف رہتا ہے کہ اسے کچھ بتایا توکہیں میری پوزیشن نہ چھین لے، مگر یونس ایسا نہیں سوچتے وہ جونیئرز کی بھرپور رہنمائی کرتے اسی وجہ سے ہردلعزیز ہیں، ٹیم کو ان جیسے بیٹسمین کی اشد ضرورت ہے، ابھی وہ فٹ اور اچھی فارم میں ہیں، ٹیسٹ فارمیٹ ان کے بیٹنگ اسٹائل سے مطابقت رکھتا ہے اسی لیے انھیں مزید کئی برس اس سے جڑے رہنا چاہیے۔

کرکٹ فیلڈ سے ہٹ کر یونس ایک فیملی مین ہیں، گذشتہ دنوں جب ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ کرکٹ سے فارغ وقت ملتے ہی گھر چلے جاتے ہیں، وہ جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں، جیسے ہی گھر کے بچوں کو علم ہوتا ہے کہ یونس آ گئے تو سب ان کے پاس ہی جمع ہو جاتے ہیں، ان کے ساتھ وہ بچہ بن کرہی کھیلتے ہیں، دل کے کھرے یونس خان کو لوگ سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں، اس کی وجہ روایتی طور پر ان کا جلد غصے میں آ جانا ہے، زیادہ تر لوگ جن باتوں پر منافق بن کر خاموش ہو جائیں وہ ردعمل دے دیتے ہیں، اسی وجہ سے شاید بعض افراد کی گڈ بکس میں شامل نہیں، کرکٹ میں ٹیلنٹ ہی سب کچھ نہیں، کچھ عرصے قبل ایک ''عظیم اسپنر'' کی یہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا تھا کہ '' اتنے سال میں 50کروڑ روپے جمع کرنے کا عزم ہے'' میں نے دل میں سوچا کہ میڈیا انٹرویوز میں تو یہ کہتا تھا کہ اتنی وکٹیں لینے کی خواہش ہے یہاں نجی محفل میں پیسوں کی بات کرتا ہے۔

ایسا تضاد آپ کو یونس خان میں نہیں ملے گا،آج کل جب ہر کھلاڑی پیسے کے پیچھے بھاگ رہا ہے ان کے نزدیک ٹیم کی اہمیت زیادہ ہے، کاش پاکستانی ٹیم میں زیادہ نہیں تو 4،5ہی یونس خان جیسی سوچ کے حامل کھلاڑی ہی آجائیں تو ہمارا یہ حال نہ ہو، ایک آفریدی تھا جس نے ہمیشہ پاکستانی مفاد کو اہمیت دی وہ بھی اب صرف ٹی ٹوئنٹی تک محدود ہو گیا ہے، جب تک ہمیں مزید یونس اور آفریدی نہیں ملے جدوجہد کرتے رہیں گے، ابھی یونس نے 100 ٹیسٹ کھیلے ہیں، انھیں یہ تعداد مزید آگے بڑھانی چاہیے، بولرز کیلیے سفاک بیٹسمین مگر عظیم انسان پاکستانی کرکٹ کا اثاثہ ہیں، ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے، ویلڈن یونس خان۔
Load Next Story