بلوچستان میں ایف سی کا آپریشن
کالعدم تنظیمیں اور ملک دشمن عناصر عوامی رائے عامہ کو حکومت کے خلاف کرنے کے ساتھ شرپسند کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں
مشکے کے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے عسکریت پسند گروپ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ صوبے کے دیگر علاقے بھی شرپسندوں کی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ فوٹو : فائل
ملک کے ایک حصے میں جہاں دہشت گردوں و شرپسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے وہیں صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی جاری ہے۔ منگل کو بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل مشکے کے نواحی علاقوں میں ایف سی کے کالعدم بی ایل ایف کے شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، ہلاک ہونے والوں میں کالعدم تنظیم کے سربراہ سمیت 13 ہلاک ہوگئے۔
ایف سی ترجمان کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے دہشت گرد 6 جون کو مشکے کے علاقے کاپور میں 7 بے گناہ معصوم افراد کے قتل اور 17 خواتین اور 30 بچوں کو یرغمال بنانے میں ملوث تھے۔ یرغمالیوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے چھڑا کر باحفاظت مشکے پہنچادیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
واضح رہے کہ مشکے کے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے عسکریت پسند گروپ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ صوبے کے دیگر علاقے بھی شرپسندوں کی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ تربت اور مند میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق منگل کو تربت میں نامعلوم افراد نے تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑانے کی کوشش کی جس سے تین سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے، جب کہ مند میں سڑک کنارے بم پھٹنے سے راہ گیر زخمی ہوگیا۔ منگل کو رات گئے جعفر آباد کے علاقے میر حسن میں نامعلوم افراد نے جدید اسلحہ سے پولیس چوکی پرحملہ کیا جس سے ایک اہلکار جاں بحق اور 3زخمی ہوگئے۔
بلوچستان ایک عرصے سے انارکی کا شکار ہے، ناانصافی و استحصالی رویے نے نہ صرف مقامی آبادی کو متنفر کیا ہے بلکہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر موقع و مفاد پرست ٹولے اور شرپسند عناصر کو اپنے پر پھیلانے کا موقع فراہم کیا ہے، کالعدم تنظیمیں اور ملک دشمن عناصر عوامی رائے عامہ کو حکومت کے خلاف کرنے کے ساتھ شرپسند کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں، ایف سی پوری تندہی کے ساتھ ان عناصر کے خلاف سرگرم ہیں۔ ان کارروائیوں کے ساتھ مناسب ہوگا کہ بلوچستان میں محرومی کے احساس کو ختم کرتے ہوئے مقامی آبادی کو اپنے حق میں ہموار کیا جائے گا تاکہ ان شرپسندوں کا جڑ سے قلع قمع ممکن ہوسکے۔
ایف سی ترجمان کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے دہشت گرد 6 جون کو مشکے کے علاقے کاپور میں 7 بے گناہ معصوم افراد کے قتل اور 17 خواتین اور 30 بچوں کو یرغمال بنانے میں ملوث تھے۔ یرغمالیوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے چھڑا کر باحفاظت مشکے پہنچادیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
واضح رہے کہ مشکے کے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے عسکریت پسند گروپ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ صوبے کے دیگر علاقے بھی شرپسندوں کی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ تربت اور مند میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق منگل کو تربت میں نامعلوم افراد نے تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑانے کی کوشش کی جس سے تین سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے، جب کہ مند میں سڑک کنارے بم پھٹنے سے راہ گیر زخمی ہوگیا۔ منگل کو رات گئے جعفر آباد کے علاقے میر حسن میں نامعلوم افراد نے جدید اسلحہ سے پولیس چوکی پرحملہ کیا جس سے ایک اہلکار جاں بحق اور 3زخمی ہوگئے۔
بلوچستان ایک عرصے سے انارکی کا شکار ہے، ناانصافی و استحصالی رویے نے نہ صرف مقامی آبادی کو متنفر کیا ہے بلکہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر موقع و مفاد پرست ٹولے اور شرپسند عناصر کو اپنے پر پھیلانے کا موقع فراہم کیا ہے، کالعدم تنظیمیں اور ملک دشمن عناصر عوامی رائے عامہ کو حکومت کے خلاف کرنے کے ساتھ شرپسند کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں، ایف سی پوری تندہی کے ساتھ ان عناصر کے خلاف سرگرم ہیں۔ ان کارروائیوں کے ساتھ مناسب ہوگا کہ بلوچستان میں محرومی کے احساس کو ختم کرتے ہوئے مقامی آبادی کو اپنے حق میں ہموار کیا جائے گا تاکہ ان شرپسندوں کا جڑ سے قلع قمع ممکن ہوسکے۔