’’سم سم‘‘ کی روایت کا اجراء

جو جو سبزیاں پھل وغیرہ سکھائے جاتے ہیں وہ اسی تناسب بھاری اور ہلکے یا نابھاری ہوتے ہیں

barq@email.com

KARACHI:
کچھ تو ہوا ہے ... کیا؟ یہ ہمیں بھی معلوم نہیں شاید زرداری صاحب کو شبہ ہو گیا تھا کہ اب وہ سب پر بھاری نہیں ہیں یا اتنے بھاری نہیں رہے جتنے وہ تھے یا ہیں یا کچھ کم بھاری رہ گئے ہیں مطلب یہ کہ ایسا ہی کچھ تھا جس نے جناب زرداری کو اکسایا کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنا بھاری پن ثابت کر دیں جس طرح بعض اوقات کسی قائد ایوان کو اپنی اکثریت بلکہ بھاری اکثریت یا حیثیت ثابت کرنا پڑتی ہے کیوں کہ یہ بھاری یا ہلکا ہونا وقت وقت کی بات ہوتی ہے جیسے کوئی چیز تازہ ہو تو چار سیر ہوتی ہے لیکن سوکھنے پر ایک سیر رہ جاتی ہے۔

جو جو سبزیاں پھل وغیرہ سکھائے جاتے ہیں وہ اسی تناسب بھاری اور ہلکے یا نابھاری ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ ہر تازہ چیز میں 3/4 حصہ صرف پانی ہوتا ہے جو وقت اور دھوپ سکھا کر ''نٹ'' چھوڑ دیتا ہے بلکہ بعض اوقات تو پانی بھی نہیں ہوتا صرف ''شور'' ہوتا ہے جیسا کہ اس کم بخت ناہنجار بلکہ بدتمیز دل کا معاملہ ہے کہ شور تو بہت کرتا ہے لیکن چیرنے پر ایک قطرہ خون بھی نہیں نکلتا، بڑبولا کہیں کا، دراصل دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں خیر لوگ تو ہزاروں لاکھوں ''طرح'' کے بھی ہوتے ہیں اتنے زیادہ کہ ''لوگوں'' سے بھی بعض اوقات ''طرحوں'' کی تعداد بڑھ جاتی ہے لیکن وزن کے حساب سے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کسی کی ''برکت'' یا اپنی صفات کی وجہ سے ''بھاری'' ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو صرف ''آبھاری'' ہوتے ہیں یعنی احسان مند، زبردست اور ڈی پنسڈڈ کہلاتے ہیں۔

اردو میں انھیں طفیلی اور محتاج کہہ سکتے ہیں یوں کہئے کہ ایک تو درخت پیڑ اور تنے ہوتے ہیں جب کہ دوسرے بیل نما جیسے انگور کدو کریلے وغیرہ، تکنیکی زبان میں انھیں ترکاری بمقابلہ سرکاری یا آبھاری بمقابلہ بھاری بھی کہا جا سکتا ہے، یہ آبھاری لوگ اتنے زیادہ آبھاری ہوتے ہیں کہ خود اپنا بوجھ بھی ان پر بھاری ہوتا ہے اور اکثر یہ کہہ کر کہیں گل سڑ جاتے ہیں کہ

ہماری جان پہ بھاری تھا غم کا افسانہ

سنی نہ بات کسی نے تو مر گئے چپ چاپ

کہتے ہیں بمقام بغداد ایک غار ہوتا تھا جسے لوگ چالیس چوروں کا غار کہتے تھے اس غار کے کھلنے اور بند ہونے کا کوڈ ورڈ ''کھل جا سم سم'' اور ''بند ہو جا سم سم'' تھا یعنی اوپن سم سم، کلوز سم سم اب یہ تو کسی نے بتایا نہیں کہ اس غار کا مکینزم کیا تھا اور کیا وہ چوروں کا سردار یا ٹولہ سائنس دان بھی تھا کہ انھوں نے کمال کا الیکٹرانک تالہ اس غار کو لگایا ہوا تھا۔


یہاں پر اگر ہم تھوڑا سا اپنی مونچھوں کو تاؤ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں کہ مغرب والے تو اب کہیں جا کر ایسے تالے وغیرہ ایجاد کر سکے ہیں جو آواز سے کھلتے ہیں جب کہ ہمارے اجداد یہاں پر ذرا چوروں کو اجداد کے زمرے میں ڈالنا پڑے گا لیکن کوئی بات نہیں اجداد تو اجداد ہوتے ہیں کسی کا بس چلتا ہے کہ اپنے اجداد کو چور بننے سے روک سکے لیکن اگر چور بھی تھے تو کمال کے چور تھے چوری کو دفع کیجیے کھل جا اور بند ہو جا سم سم یعنی ایجاد پر دھیان دیجیے مزید کمال کی بات یہ ہے کہ ہمارے اجداد اتنے ترقی یافتہ تھے کہ غاروں کو بھی الیکٹرانک بنا سکتے تھے واہ ذرا یہ یورپ اور امریکا والے اپنے ایسے اجداد دکھائیں، بات کرتے ہیں چور کہیں گے ۔

ہمارے اجداد کی ایجادات چرا کر ہمیں سے میاؤں میاؤں کر رہے ہیں، بس اتنا ہی تاؤ اپنے مونچھوں کو دینا کافی ہے جن کی مونچھیں نہیں ہے وہ ویسے ہی ناک کے نیچے انگلیاں گھمائیں، پوری کہانی تو خاصی طویل ہے اور اس میں ہمارے اور بھی قابل فخر اجداد کا ذکر ہے مثلاً علی جو نوجوانی بلکہ لڑکپن میں ''بابا'' ہو گیا تھا اور مرجینا ، یوں کہئے کہ ہماری ''انجلینا جولی'' تھی بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ قابل تھی کیوں کہ وہ اکیلے اکیلے انسانی پکوڑے تل لیتی تھی جب کہ انجلینا جولی ایک بھی پکوڑا نہیں تل سکتی... شاباش ہے مرجینا پر جس نے ایک ہی رات میں چالیس چور مسلم تل لیے تھے۔

ایسی چنگاری بھی یارب ، سوری اس مرجینا کے ذکر پر ہم ذرا بہک گئے تھے کیوں کہ فلم میں اس کا کردار ہیما مالنی نے ادا کیا تھا اب اصل بات پر آتے ہیں بلکہ یہاں ہمیں اپنی کم فہمی اور نالائقی پر تھوڑی سی خجالت بھی ہو رہی ہے کہ جب ہزاروں سال پہلے ہمارے اجداد دولت بھرے غار کو دو لفظوں سے کھول اور بند کر سکتے تھے تو ظاہر ہے کہ آج بھی ہم ایسا کر سکتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں بلکہ نہایت وثوق دار ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ ایسے بہت سارے غار آج کل بھی ہیں ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی جو ''سم سم'' ہیں ہاں البتہ یہ معلوم نہیں کہ ان غاروں میں خزانے کتنے ہیں کیوں کہ آج تک کوئی علی بابا ان تک پہنچ نہیں پایا ہے۔

اپنی ناسمجھی کا ایک مرتبہ پھر اعتراف کرتے ہوئے عرض ہے کہ بند کرنے اور کھولنے کی اتنی طویل اور روشن تاریخ رکھنے والوں نے اگر ترقی کر کے پورے شہروں، صوبوں اور ملکوں کو ''سم سم'' کرنا سیکھ لیا ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے ... سب سے پہلے یہ محیر العقول کارنامہ کرنے کا اعلان جناب کپتان خان نے کیا تھا اور پورے ملک کو بند کرنے کے لیے کنٹینروں کا بندوبست بھی کر دیا تھا لیکن پھر خیال آیا کہ اگر اس شدید گرمی میں پورے ملک کو کنٹینروں میں بند کر دیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے۔

ظاہر ہے جب ایک کام شروع ہوتا ہے تو پھر بہت سارے لوگ وہ کام شروع کر دیتے ہیں جیسے کرکٹ کے دنوں میں کرکٹ اور ہاکی کے دنوں میں ہاکی بچوں کا کھیل بن جاتے ہیں اسی طرح ملک کو بند کرنے کا فیشن بھی شاید چل نکلا ہو اگرچہ بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا ہے لیکن کرنے والے کیا کچھ نہیں کر سکتے اور نہیں کرتے، وہ ایک پیر بابا کی کہانی تو آپ نے سنی ہو گی ۔

جنہوں نے ''رات'' کو اپنی کشکول تلے بند کر دیا تھا، نہیں سنی ہے تو اب سن لیجیے پیر صاحب ہندوستان کی یاترا پر اپنے ''بالک'' سمیت گئے تھے وہاں ایک کافر یوگی نے ان کے بالک پر بری نظر ڈالی اور بالک کی مزاحمت پر یوگی نے شراب دیا کہ بالک صبح تک مر جائے گا بالک نے یہ بات پیر صاحب کو بتائی، پیر صاحب نے اپنے کشکول کو الٹا کر کے زمین پر دھر دیا اور بولا میں نے رات کو قید کر لیا ہے اب یہ یوگی صبح کر کے دکھائے آخر اتنی طویل رات سے تنگ آ کرر شہر والے بادشاہ سمیت پیر صاحب کے پاس آئے، پیر صاحب کے مطالبے پر یوگی بھی آکر پیروں میں پڑ گیا تب پیر صاحب نے کشکول کو اٹھا کر رات کو رہا کر دیا اور صبح ہو گئی ماموں... ایسے میں کسی شہر صوبے یا ملک کو بند کرنا کیا مشکل ہے۔
Load Next Story