ن لیگ و الیکشن کمیشن دھاندلی کے ذمے دار ہیں تحریک انصاف

اضافی بیلٹ پیپرز کا فیصلہ سیاسی تھا،عملی جامہ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور نے پہنایا،وکیل تحریک انصاف

اضافی بیلٹ پیپرز کا فیصلہ سیاسی تھا،عملی جامہ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور نے پہنایا،وکیل تحریک انصاف ۔ فوٹو : فائل

تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن کو انتخابات 2013ء میں دھاندلی کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ اضافی بیلٹ پیپرزچھاپنے کافیصلہ سیاسی تھالیکن عملی جامہ صوبائی الیکشن کمشنرپنجاب محبوب انورنے پہنایاجبکہ انکوائری کمیشن نے کہاکہ الزام ثابت کرنے کیلیے شواہد بھی چاہئیں۔ پیپلزپارٹی کے وکیل اعتزازاحسن نے موقف اپنایاکہ دھاندلی کیلیے پنجاب بطور پیٹرن استعمال ہوا، انکوائری کمیشن 35 حلقوں کے تمام ریکارڈ کا نمونے کے طور پر جائزہ لے اور اس کی بنیاد پر تمام الیکشن کا فیصلہ کرے۔

بدھ کو عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی انکوائری کمیشن کی کارروائی شروع ہوئی تو3 رکنی کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصرالملک نے کہاکہ دوران دلائل تحریک انصاف کاپورازور اس بات پر ہے کہ دھاندلی (ن) لیگ نے کرائی لیکن ابھی تک اس الزام کو کسی ثبوت کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکا۔ انھو ں نے حفیظ پیرزادہ سے کہا کہ وہ اس الزام کو کسی ثبوت کے ساتھ جوڑیں۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے پیرزادہ سے کہا کہ پہلے بھی پوچھا، دوبارہ پوچھ رہے ہیں ، کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔


آپ بتائیں کہ آپ مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی سے کیسے منسلک کر رہے ہیں۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ وہ اعدادوشمار سے ثابت کریں گے۔ گزشتہ الیکشن میں (ن) لیگ کو ایک کروڑ 48لاکھ 70ہزار ووٹ ملے جبکہ 2008کے عام انتخابات میں اسے 68لاکھ ووٹ ملے تھے۔سوال یہ ہے کہ سو فیصد سے زائد کا اضافہ کیسے ہوا؟ باقی 3 صوبوں سے تو ن لیگ کو 20 لاکھ ووٹ بھی نہیں ملے۔ ن لیگ نے پنجاب کے مخصوص حلقوں میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا اس کام میں صوبے کی بیورو کریسی اور الیکشن کمیشن کا عملہ شامل تھا،اس ضمن میں نگران وزیر اعلٰی نجم سیٹھی کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ وہ بے اختیار تھے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کے پی کے میں اے این پی کو غیر یقینی شکست ہوئی۔

کیاکے پی کے میں الیکشن صاف، شفاف اور نتائج عوام کی امنگوں کے عکاس ہیں؟۔پیرزادہ نے کہا ن لیگ نے کے پی کے کے نتائج کو چیلنج نہیں کیا اس پر چیف جسٹس نے کہا لیکن پیپلز پارٹی نے تو چیلنج کیا ہے۔ پیرزادہ نے کہا کہ ن لیگ کو ووٹوں کی نسبت نشستیں زیادہ ملیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نشستیں نکالنے کیلیے ہر جماعت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں کہ کس طرح زیادہ نشستیں نکالی جائیں۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہا ایسا قانون کے اندر کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور سے اضافی نفری نمبرنگ اور جلد سازی کیلئے آئی تھی۔ کمیشن کے سامنے 3سوال ہیں، اگر صرف یہ ثابت ہو کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو کیا تیسرے سوال پر اس کا کوئی اثر ہوگا۔ پیرزادہ نے کہا کہ پہلے سوال کا جواب آ جائے تو دوسرے سوال کا بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

ہم نے اپنی حد تک کمیشن کی بھرپور معاونت کی، نتیجہ اخذ کرنا کمیشن کا کام ہے۔ آن لائن کے مطابق پیرزادہ نے کہا کہ دستاویزات موجود ہیں جس سے دھاندلی ثابت ہوتی ہے اب کچھ بھی غیر واضح نہیں رہا۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے دلائل میں کہا کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔ آن لائن کے مطابق اعتزازاحسن نے کہا کہ اگر اصغر خان کیس میں صرف 32افراد کوپیسے دینے کے الزام پر فیصلہ دیاجاسکتاہے توبڑی تعداد میں فارم 15 جمع نہ کروانے، تھیلے کھلے ہوئے ملنے اورآراوزگواہوں پر جرح کے بعدبات واضح ہوچکی ہے کہ منظم طریقے سے دھاندلی ہوئی ہے اوراس بنیاد پر پورے انتخاب کوکالعدم قرار دیا جا سکتاہے۔ آئی این پی کے مطابق جوڈیشل انکوائری کمیشن نے (آج) جمعرات 11بجے تک (ق) لیگ، ایم کیو ایم اور بی این پی کے وکلا کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جمعہ تک اپنی کارروائی مکمل کرلیں گے۔ کمیشن کا اجلاس آج تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔
Load Next Story