وفاق نے ایف آئی اے کے نئے اختیارات واپس نہ لیے تو عدالت جائیں گے قائم علی شاہ

ایف آئی اے کو نئے اختیارات دے کر صوبوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، قائم علی شاہ

ایف آئی اے کو نئے اختیارات دے کر صوبوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، قائم علی شاہ۔ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کوپولیس کے اختیارات دینا صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے،اگر وفاق نے یہ اختیارات واپس نہیں لیے توہم عدالت سے رجوع کریں گے۔

وزیراعظم سے کے الیکٹرک کے معاملے پرزیادہ بات نہیں ہوئی کیونکہ وہ کے الیکٹرک کی''فیور'' کرتے ہیں،کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں میں کوئی انسانی غلطی نہیں اورنہ ہی کسی ادارے کی کوتاہی ہے۔بدھ کووزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے بعدپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہم نے صوبائی خودمختاری کیلیے ہمیشہ جدوجہدکی ہے ،ہم کسی بھی صورت صوبائی خودمختاری پرآنچ نہیں آنے دیں گے ،ایف آئی اے کو نئے اختیارات دے کر صوبوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ۔

سندھ کے حقوق پرجوبھی ڈاکا ڈالے گاہم اس کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے ،ہم نے وزیر اعظم سے کہاہے کہ ایف آئی اے کودیے گئے اختیارات واپس لیں ورنہ ہمارے پاس عدالت سے رجوع کرنے کاراستہ موجودہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ قدرتی آفت کی وجہ سے یہ کراچی میں اموات ہوئیں،گرمی کی شدت،حبس اورنمی کے باعث حادثات ہوئے ،بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت اس قدرتی آفت میں ایک بڑا مسئلہ تھا۔انھوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے کراچی کے انی کے منصوبے کے۔فورکیلیے پہلے مرحلے میں8ارب روپے دینے کی امیددلائی ہے،وفاقی حکومت اس منصوبے کیلیے مجموعی طورپر10ارب روپے دے گی،ہماری کوشش ہوگی کہ کراچی میں کے فورکامنصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ کراچی کیلیے پبلک ٹرانسپورٹ کے4منصوبوں گرین لائن،اورنج لائن،یلولائن اوربلیولائن کے منصوبوں پر بھی وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے ،2 منصوبے وفاقی حکومت اور2 منصوبے سندھ حکومت مکمل کرے گی۔

انھوں نے کہاکہ وزیر اعظم سے توانائی کے بحران پربھی بات ہوئی ہے،ہم نے بن قاسم میں کوئلے سے چلنے والے2 پاورپلانٹس نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے،سندھ میں کول پاور پلانٹس کو ترجیح دی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے کے الیکٹرک کے معاملے پربھی بات ہوئی ہے لیکن اس پر زیادہ بات نہیں ہوسکی ہے کیونکہ وزیراعظم کے الیکٹرک کی '' فیور'' کرتے ہیں ۔


وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ وفاق اورسندھ میں ایسے تنازعات ہیں کہ کمیٹی قائم کی جائے،وفاقی حکومت کی طرف سے مالیاتی وسائل کی فراہمی کابنیادی مسئلہ ہے ،اس پر وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے۔اس موقع پر وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال 2014-15 کیلیے وفاقی حکومت نے سندھ کو474 ارب روپے دینے کا وعدہ کیاتھا ،پھر اس وعدے میں نظرثانی کرکے423 ارب روپے کردیے گئے جبکہ سندھ397 ارب روپے ملے ہیں،یعنی نظرثانی شدہ ہدف سے بھی26 ارب روپے کم ملے ہیں ۔ وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ شدید گرمی ایک قدرتی آفت ہے ،فلاحی اداروں نے حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی ہے ۔

کسی ادارے کی کوتاہی نہیں،ہر ادارے نے ہر وقت کام کیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے مقدمہ دائر کرنے سے متعلق شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قدرتی آفت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اوریہ سیاست کا وقت بھی نہیں،کے الیکٹرک کواپنا قبلہ درست کرنا چاہیے،کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ کم کرنے اورفالٹس درست کرنے میں ناکام رہی، کے الیکٹرک کوانفرااسٹرکچرپربھی پیسے خرچ کرنے چاہئیں۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم سے ون ٹو ون ملاقات ہوئی ۔وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وزیر اعظم کو آگاہ کیاکہ کراچی میں حالیہ گرمی سے بڑی تعداد میں اموات کی ذمے دار کے الیکٹرک ہے،کے الیکٹرک کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ کر رہا ہے ، جس سے کراچی میں شہریوں کی زندگی نہ صرف متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثرہیں۔

وفاق کے الیکٹرک کے معاملات کو درست کرے اور اس کی نگرانی کانظام سندھ حکومت کے حوالے کیا جائے۔باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو ایف آئی اے کی جانب سے صوبائی حکومت کے افسران کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ حکومت کی مجازاتھارٹی کے علم میں لائے بغیر افسران کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں جس سے سندھ حکومت کے انتظامی امور شدید تاثر ہورہے ہیں اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ وفاقی ادارے صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت بھی کرپشن کے خلاف بھرپور جدوجہد کررہی ہے اور اس حوالے سے اینٹی کرپشن کے محکمہ کومذیدفعال بنایا جارہاہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی آپریشن کے اہداف حاصل کرنے کیلیے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کیا جا رہاہے۔انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیاکہ احتساب کے ادارے کارروائی ضرورکریں لیکن اس حوالے سے سندھ حکومت کی مجاز اتھارٹی کو آگاہ کریں اور تمام اداروںکواپنے حدودمیں رہ کرکام کرناچاہیے،اس معاملے پروزیراعظم نے وزیراعلیٰ کوہرممکن تعاون کایقین دلایا اورکہاکہ کے الیکٹرک کے حوالے سے شکایات کاوزارت پانی وبجلی اورنیپرا جائزہ لے رہی ہے،تمام ادارے حکومت کے ماتحت ہیں،کے الیکٹرک کے حوالے سے شکایات کودوراورعوام کوریلیف فراہم کرنے کیلیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ کویقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت کی شکایات کوقانون کے مطابق حل کیا جائے گا۔
Load Next Story