وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشن روکنے کی تمام درخواستیں مسترد
بلدیاتی انتخابات سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا مداخلت نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
بلدیاتی انتخابات سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا مداخلت نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ۔ فوٹو: فائل
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر اور دیگر شہریوں کی جانب سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات روکنے اور جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرانے سے متعلق دائر تمام متفرق درخواستیںمستردکردیں۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی نشانات کی فہرست جاری کردی، بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ جسٹس نورالحق قریشی اور جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، عدالت کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی، تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے فیصلہ میرٹ کے بجائے سپریم کورٹ کے الیکشن کرانے کے احکام کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔
آئی این پی کے مطابق الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی نشانات کی فہرست جاری کر دی، کمیشن کے پاس کل انتخابی نشانات 215 ہیں جبکہ رجسٹرڈ جماعتوں کی تعداد307 تک جا پہنچی، صدر مملکت سے 22 نئے انتخابی نشانات کی منظوری کے باوجود انتخابی نشانات کی تعداد کم پڑگئی، آزاد امیدواروں کو نشانات کی الاٹ منٹ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی نشانات کی فہرست جاری کردی، بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ جسٹس نورالحق قریشی اور جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، عدالت کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی، تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے فیصلہ میرٹ کے بجائے سپریم کورٹ کے الیکشن کرانے کے احکام کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔
آئی این پی کے مطابق الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی نشانات کی فہرست جاری کر دی، کمیشن کے پاس کل انتخابی نشانات 215 ہیں جبکہ رجسٹرڈ جماعتوں کی تعداد307 تک جا پہنچی، صدر مملکت سے 22 نئے انتخابی نشانات کی منظوری کے باوجود انتخابی نشانات کی تعداد کم پڑگئی، آزاد امیدواروں کو نشانات کی الاٹ منٹ میں مشکلات کا سامنا ہے۔