قرآن مجید کتاب حکمت و دانائی
قرآن مجید میں میں زندگی کے ہر پل کے لیے راہ نمائی موجود ہے
قرآن مجید میں میں زندگی کے ہر پل کے لیے راہ نمائی موجود ہے۔ فوٹو : فائل
اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا میں حضرت آدمؑ سے لے کر آخری نبی حضرت محمدؐ تک جتنے انبیاء بھی مبعوث فرمائے ان سب کی بعثت کا مقصد بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت اور فلاح تھا۔ پھر انسانوں کی راہ نمائی کے لیے بعض انبیاؑ پر الہامی کتب اور صحائف کا نزول بھی فرمایا تاکہ اﷲ کے بندے ان الہامی کتابوں سے ہدایت حاصل کرکے اﷲ کے بنائے ہوئے اصولوں اور ضوابط کے مطابق زندگی بسر کرتے ہوئے بھلائی کے راستے پر گام زن رہیں اور آخرت میں کام یابی بھی پاسکیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے، النساء 163، ترجمہ: ''(اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی''
مشہور الہامی کتابیں، توریت، زبور، انجیل اور آخری الہامی کتاب قرآن مجید ہے۔ قرآن وہ واحد الہامی کتاب ہے جو آخری نبی حضرت محمدؐ پر نازل کی گئی ہے اور اپنے نزول سے لے کر اب تک کسی بھی قسم کی تحریف اور غلطیوں سے پاک ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی۔ کیوں کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اﷲ جل شانہ نے لے رکھا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
''ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ (سورۃ الحج)
اسلام پوری دنیا کا دین ہے باقی جتنے بھی مذاہب و نظریات چاہے وہ قدیم ہوں یا جدید چودہ سو سال پہلے باطل قرار دیے جاچکے ہیں۔ آسمانی کتابوں پر یقین رکھنا، ایمان کا حصہ ضرور ہے مگر سابقہ کتب پر عمل کرنا منسوخ کردیا گیا ہے اور اسلام ہی آخری دین اور قرآن ہی وہ آخری الہامی کتاب ہے جس کی تعلیمات پر قیامت تک عمل کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
قرآن مجید کا جب بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں لفظ قرآن قریباً 70 مرتبہ آیا ہے اور متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی زبان کے فعل ''قرأ'' کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں '' اس نے پڑھا یا اس نے تلاوت کی'' قرآن مجید 23 برس کے عرصے میں آخری نبی حضرت محمدؐ پر حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے نازل ہوا۔ نبیؐ پر جب وحی نازل ہوتی آپؐ کاتبین وحی سے کتابت کروا لیتے، پھر صحابہؓ نبی کریمؐ کی زبان اقدس سے بھی اسے سنتے اور جو تحریر کیا ہوا ہوتا اسے بھی محفوظ کرلیتے اس طرح قرآن نزول کے وقت ہی لکھا جاتا رہا اور ساتھ ہی صحابہؓ نے اسے حفظ بھی کیا۔
دور نبویؐ کے بعد دور ابو بکرؓ میں حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ کے مشورے سے اس کی تدوین عمل میں آئی یعنی اس کو یک جا کرلیا گیا اور دور عثمانی میں اس کے نسخے بناکر کوفہ، بصرہ، شام، مکہ اور دنیا کے مختلف علاقوں میں بھیج دیے گئے۔
قرآن مجید سات منزلوں میں تقسیم ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور تقسیم سپاروں کے حساب سے بھی ہے۔ سپارہ کا لفظی مطلب تیس ٹکڑوں کا ہے یعنی قرآن میں تیس سپارے ہیں۔ ایک اور تقسیم سورتوں کی ہے، قرآن میں 114 سورتیں ہیں جن میں سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ اور سب سے چھوٹی سورت سورۃ الکوثر ہے۔ سورتوں کے اندر مضامین کو آیات کی صورت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں چھے ہزار چھے سو چھیاسٹھ آیات ہیں۔ تلاوت کے لیے قرآن کو سات منازل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن کی زبان فصیح عربی ہے اور جو لوگ عربی زبان نہیں جانتے ان کی آسانی اور قرآن کو سمجھنے کے لیے متعدد زبانوں میں اس کے تراجم موجود ہیں۔ مگر دنیا بھر کے مسلمان اسے اصل زبان عربی میں ہی پڑھنا سیکھتے ہیں اور حفظ کرنے کے بعد سینوں میں محفوظ کرتے ہیں۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے ''یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں اور پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے''
یوں تو قرآن مجید پوری انسانیت کی راہ نمائی اور فلاح کے لیے نازل کیا گیا ہے اور صاحب قرآن حضرت محمدؐ پوری انسانیت کی طرف آخری رسول بناکر بھیجے گئے تاہم اس کتاب سے مکمل استفادہ اس پر مکمل ایمان لانے والے ہی کرسکتے ہیں۔
قرآن مجید کا گہرائی اور دل چسپی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک ایسی عالم گیر کتاب ہے جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کی راہ نمائی کے لیے وسیع موضوعات موجود ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات کے طور پر نازل کیا ہے اس میں انسانی زندگی کے حقائق، خیر و شر، حلال و حرام میں فرق، جرم و سزا، اجر و ثواب، اخلاقی تعلیمات، انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے مسائل اور ان کا حل، معاشرتی حقوق و فرائض، معاشی و اقتصادی امور کے بارے میں تمام ضروری احکامات، حکم رانی کے اصول اور معاملات کے بارے میں بھی تعلیمات اور راہ نمائی موجود ہے۔
قرآن مجید ایک معجزہ ہے اور فصاحت و بلاغت میں اس کا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے۔ بے شک یہ ایک ایسی الہامی کتاب ہے جس میں اس کے پڑھنے اور سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ قرآن نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ہدایت کا بہترین ذریعہ ہے۔ بہت سے ایسے غیر مسلم جو قرآن مجید پر تحقیق کرنے چلے اور پھر اس کو سمجھ کر اﷲ کی واحدانیت اور نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے اور اسلام قبول کیا۔
قرآن ہی وہ الہامی کتاب ہے جس کے پاس ہمارے تمام سوالات کے جوابات اور دینی اور دنیاوی مسائل اور مشکلات کا حل موجود ہے۔ بس ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھر کی طاق میں رکھے قرآن مجید کے نسخے کو کھولیں اور پھر اسے حرف در حرف، ورق در ورق سمجھ کر پڑھنے کی جستجو کریں کیوں کہ اسی میں ہماری دنیا سنورنے کا سامان بھی موجود ہے اور آخرت کی کام یابی اور بھلائی بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے، النساء 163، ترجمہ: ''(اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی''
مشہور الہامی کتابیں، توریت، زبور، انجیل اور آخری الہامی کتاب قرآن مجید ہے۔ قرآن وہ واحد الہامی کتاب ہے جو آخری نبی حضرت محمدؐ پر نازل کی گئی ہے اور اپنے نزول سے لے کر اب تک کسی بھی قسم کی تحریف اور غلطیوں سے پاک ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی۔ کیوں کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اﷲ جل شانہ نے لے رکھا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
''ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ (سورۃ الحج)
اسلام پوری دنیا کا دین ہے باقی جتنے بھی مذاہب و نظریات چاہے وہ قدیم ہوں یا جدید چودہ سو سال پہلے باطل قرار دیے جاچکے ہیں۔ آسمانی کتابوں پر یقین رکھنا، ایمان کا حصہ ضرور ہے مگر سابقہ کتب پر عمل کرنا منسوخ کردیا گیا ہے اور اسلام ہی آخری دین اور قرآن ہی وہ آخری الہامی کتاب ہے جس کی تعلیمات پر قیامت تک عمل کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
قرآن مجید کا جب بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں لفظ قرآن قریباً 70 مرتبہ آیا ہے اور متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی زبان کے فعل ''قرأ'' کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں '' اس نے پڑھا یا اس نے تلاوت کی'' قرآن مجید 23 برس کے عرصے میں آخری نبی حضرت محمدؐ پر حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے نازل ہوا۔ نبیؐ پر جب وحی نازل ہوتی آپؐ کاتبین وحی سے کتابت کروا لیتے، پھر صحابہؓ نبی کریمؐ کی زبان اقدس سے بھی اسے سنتے اور جو تحریر کیا ہوا ہوتا اسے بھی محفوظ کرلیتے اس طرح قرآن نزول کے وقت ہی لکھا جاتا رہا اور ساتھ ہی صحابہؓ نے اسے حفظ بھی کیا۔
دور نبویؐ کے بعد دور ابو بکرؓ میں حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ کے مشورے سے اس کی تدوین عمل میں آئی یعنی اس کو یک جا کرلیا گیا اور دور عثمانی میں اس کے نسخے بناکر کوفہ، بصرہ، شام، مکہ اور دنیا کے مختلف علاقوں میں بھیج دیے گئے۔
قرآن مجید سات منزلوں میں تقسیم ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور تقسیم سپاروں کے حساب سے بھی ہے۔ سپارہ کا لفظی مطلب تیس ٹکڑوں کا ہے یعنی قرآن میں تیس سپارے ہیں۔ ایک اور تقسیم سورتوں کی ہے، قرآن میں 114 سورتیں ہیں جن میں سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ اور سب سے چھوٹی سورت سورۃ الکوثر ہے۔ سورتوں کے اندر مضامین کو آیات کی صورت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں چھے ہزار چھے سو چھیاسٹھ آیات ہیں۔ تلاوت کے لیے قرآن کو سات منازل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن کی زبان فصیح عربی ہے اور جو لوگ عربی زبان نہیں جانتے ان کی آسانی اور قرآن کو سمجھنے کے لیے متعدد زبانوں میں اس کے تراجم موجود ہیں۔ مگر دنیا بھر کے مسلمان اسے اصل زبان عربی میں ہی پڑھنا سیکھتے ہیں اور حفظ کرنے کے بعد سینوں میں محفوظ کرتے ہیں۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے ''یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں اور پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے''
یوں تو قرآن مجید پوری انسانیت کی راہ نمائی اور فلاح کے لیے نازل کیا گیا ہے اور صاحب قرآن حضرت محمدؐ پوری انسانیت کی طرف آخری رسول بناکر بھیجے گئے تاہم اس کتاب سے مکمل استفادہ اس پر مکمل ایمان لانے والے ہی کرسکتے ہیں۔
قرآن مجید کا گہرائی اور دل چسپی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک ایسی عالم گیر کتاب ہے جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کی راہ نمائی کے لیے وسیع موضوعات موجود ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات کے طور پر نازل کیا ہے اس میں انسانی زندگی کے حقائق، خیر و شر، حلال و حرام میں فرق، جرم و سزا، اجر و ثواب، اخلاقی تعلیمات، انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے مسائل اور ان کا حل، معاشرتی حقوق و فرائض، معاشی و اقتصادی امور کے بارے میں تمام ضروری احکامات، حکم رانی کے اصول اور معاملات کے بارے میں بھی تعلیمات اور راہ نمائی موجود ہے۔
قرآن مجید ایک معجزہ ہے اور فصاحت و بلاغت میں اس کا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے۔ بے شک یہ ایک ایسی الہامی کتاب ہے جس میں اس کے پڑھنے اور سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ قرآن نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ہدایت کا بہترین ذریعہ ہے۔ بہت سے ایسے غیر مسلم جو قرآن مجید پر تحقیق کرنے چلے اور پھر اس کو سمجھ کر اﷲ کی واحدانیت اور نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے اور اسلام قبول کیا۔
قرآن ہی وہ الہامی کتاب ہے جس کے پاس ہمارے تمام سوالات کے جوابات اور دینی اور دنیاوی مسائل اور مشکلات کا حل موجود ہے۔ بس ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھر کی طاق میں رکھے قرآن مجید کے نسخے کو کھولیں اور پھر اسے حرف در حرف، ورق در ورق سمجھ کر پڑھنے کی جستجو کریں کیوں کہ اسی میں ہماری دنیا سنورنے کا سامان بھی موجود ہے اور آخرت کی کام یابی اور بھلائی بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔