آج میں اوپر آسماں نیچے

آلات رمضان ورزی کے ’’کند‘‘ کرنے کی اصطلاح شاید آپ کے لیے نئی ہو کیوں کہ عام طور پر لوگ ہتھیار تیز کرتے ہیں

barq@email.com

ہمیں حیرت ہے بلکہ افسوس ہے بلکہ شرمندگی ہے کہ اتنی بڑی بات ہو گئی اور ہماری وہی بے خبری کی بے خبری رہی، سن تو آپ نے بھی لیا ہوگا کہ ۔۔۔ پشاور میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، غیروں سے کیا گلہ ہمیں خود اپنے آپ سے شکایت ہے کہ یوں تو ہم باخبر خان بنے پھرتے ہیں بلکہ لوگوں پر اپنی خبر داری کا رعب گانٹھنے کے لیے دنیا بھر کی فضولیات و حرافات کی خبر رکھتے ہیں، جیسے انجلینا جولی نے براڈپٹ کو کیا تحفہ دیا اور براڈپٹ نے انجلینا کی جھولی میں کیا ڈالا، موم بائی میں پاکستانیوں کی فتوحات کہاں تک پہنچیں، ایان علی کا وزن کتنا بڑھا یا کم ہوا، دیپکاپڈو کون کا بجلیکا واپڈا کون سے کیا رشتہ ہے، نئے پاکستان کی تعمیر کا نقشہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے بنا لیا ہے، نئے پاکستان کے لیے اینٹوں اور سیمنٹ کا ٹھیکہ کس کو دیا جا رہا ہے، صوابی کے تمباکو اور پشاور کی ماچس کا کیا سمبندھ ہے، ریحام خان نے خاتون اول کی تربیت مکمل کر لی ہے یا نہیں پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو کی دعوت ولیمہ یا دعوت وزیرہ کب ہو گی، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ لیکن یہاں اپنی بغل میں اتنا بڑا خلائی کارنامہ ہو رہا تھا اور اس کا پتہ ہمیں دور پار کے اخباروں سے چل رہا ہے، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور ہم کانوں میں تیل ڈالے بیٹھے ہیں

ہم تجھے بھول کے خوش بیٹھے ہیں
ہم سا بے درد کوئی کیا ہوگا

یہ تقریباً ویسا ہی کارنامہ ہے جیسا ٹھیک ایسے ہی ایک شریفانہ دور میں بمقام چاغی کیا گیا تھا وہ بھی خالی ہاتھ خالی پیٹ اور خالی جیب ۔۔۔ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی'' اور اب یہ اتنی بڑی خبر بلکہ فخریہ خبر کہ پشاور نے کچھ تو کر کے دکھا دیا اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نہ سہی اخباروں میں تو نام کر لیا، دراصل وہ چاغی کے معاملے میں تو شائبہ خوبی ڈاکٹر عبدالقدیر بھی تھا لیکن یہاں سارا کریڈٹ ہمارے نکمے پن اور بے خبری کو جاتا ہے لیکن کچھ کچھ شائیہ خوبی رمضان بھی ہے دراصل رمضان شروع ہونے سے ایک دن پہلے ہم پشاور گئے تھے اور وہاں جب ہم نے دکانداروں کو اپنے آلات رمضانی ''کند'' کرتے دیکھا تو کوئی چاقو چھری اور کلہاڑے کو لوہے پتھر پر مار کر ''کند'' کر رہا ہے تو کوئی ایک دوسرے سے ٹکرا دندانے ڈال رہا ہے، ہتھیار رمضان کند کرنے کے یہ مناظر دیکھ کر ہم شہر سے ایسا بھاگ کر آئے کہ

تم شہر سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم بھی تو وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں

آلات رمضان ورزی کے ''کند'' کرنے کی اصطلاح شاید آپ کے لیے نئی ہو کیوں کہ عام طور پر لوگ ہتھیار تیز کرتے ہیں لیکن پشاور میں اور پھر خاص طور پر رمضان کے لیے خصوصی طور پر ہتھیار ''کند'' کیے جاتے ہیں کیوں کہ تیز ہتھیار سے تو ۔۔۔ یہ رکھا اور جان نکل گئی لیکن کند ہتھیار کے نیچے شکار کو نانی، دادی، چاچی، مامی سب یاد آ جاتی ہیں ۔۔۔۔ پشتو میں جفا پیشہ محبوب کو درانتی اٹھانے کی تلقین کی جاتی ہے، ویسے شہر سے آنے کے بعد جب رات کو ہماری آنکھ لگ گئی تو ہم نے ایک بڑا ہی چشم کشا خواب بھی دیکھا تھا ہم نے دیکھا کہ ابلیس کو رمضان کا چاند نظر آتے ہی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے اور اچھی طرح پابند سلاسل کرنے کے بعد جب وہ شہر کے اوپر سے لیجایا جا رہا تھا تو یہ دیکھ کر وہ بڑا خوش ہوا کہ نیچے سے کچھ مخروطی ٹوپیوں والے سفید براق کپڑوں میں ملبوس تسبیح بدست لوگ ہاتھ ہلا ہلا کر اسے تسلی دے رہے تھے کہ خیر نال جا اور خیر نال آ ۔۔۔ یہاں کی فکر نہ کر ۔۔۔ ہم ہیں نا ۔۔۔ یہ دیکھ کر ابلیس نے دونوں ہاتھوں سے آشیر واد دی اور چہرہ خوشی سے کِھلا پڑ رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ زنجیروں کے بجائے پھولوں کے ہار پہنے ہوئے ہو، پہلے روزے کی شام کو شہر سے چند خون آلود لاشوں کے ساتھ یہ بریکنگ نیوز آ گئی کہ شہر میں مسلح دکان داروں اور نہتے روزہ داروں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے بلکہ یک طرفہ لڑائی کہیے کیونکہ سنگ بندھے ہوئے تھے اور سگ کھلے چھوڑ گئے تھے بلکہ کھلے سگ سرکاری ہلا شیری سے اور بھی شیر ہو رہے تھے چنانچہ ہم نے بھی اپنا ٹٹو سائے میں باندھ لیا کہ مرسوں مریسوں لیکن رمضان میں دکان داروں کو پکڑائی نہ ''ڈیسوں'' زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ شہر کے فراق میں جی تو لیں گے

اداس شہر میں رو رو کے دن گزار لیا

ہوا ''صیام'' تو ہم اپنے گھر گئے چپ چاپ

چپ چاپ کے ساتھ خالی ہاتھ بھی کہیے کیونکہ روزہ داری میں سارے انگور کھٹے ہی نہیں بلکہ کڑوے کیسلے اور زقوم کریلے ہو گئے تھے سوچا زیادہ سے زیادہ بھوک کا سامنا کریں گے تو کر لیں گے بھوک کم از کم اتنی ظالم تو نہ ہو گی جتنے رمضان میں دکاندار ہو جاتے ہیں کچھ نہیں ہو گا تو صبر کھا لیں گے شُکر پی لیں گے، تاؤ بھی کھا لیں گے کچھ نہیں تو قسمیں کھا کھا کر گزارہ کر لیں گے اور بھی زیادہ مجبوری ہوئی تو کھانے کے لیے روزہ تو ہے نا ۔۔۔ پیر و مرشد بھی تو ایسا کرتے تھے بلکہ تلقین بھی کیا کرتے تھے کہ

افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے

جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے

چنانچہ بدیں وجہ شہر سے ہمارا رابطہ نہیں رہا اور ادھر اتنا بڑا واقعہ ہو گیا جس کی خبر ہمیں غیر غماز سے مل رہی ہے پہلے سے پتہ ہوتا تو کم از کم وہ منظر تو دیکھ لیتے کہ کیسے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بغیر پر و بال یا راکٹ جہاز کے آسمان کو چھونے کا کارنامہ سرانجام دے رہی تھیں بلکہ اگر ساتھ کمنٹری بھی سن لیتے تو واہ ۔۔۔ وہ دیکھو آٹا آگے نکل رہا ہے اگر ارے یہ تو بڑی تیزی سے اٹھ رہا ہے اور وہ دیکھو پیاز ٹماٹر آلو ۔۔۔ ارے ان سب سے اوپر بہت اوپر یہ کون ہے ارے ہاں تو فروٹ ہے سوچا چلو ہم نہ سہی تم نہ سہی ۔۔۔ کسی نے تو آسمان کو چھو لیا کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی ۔۔۔ حالانکہ ہمارا خیال تھا کہ آسمان کو چھونے کا یہ کارنامہ ''انصاف'' کر کے دکھائے گا لیکن نرخوں نے اپ سیٹ کر دیا، ایسے موقع بلکہ مواقع (کیونکہ پاکستان میں مواقع کی پیداوار سب سے زیادہ ہے) لوگ کسر نفسی سے کام لیتے ہیں کہ ایں سعادت بزور بازو نیست ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ لیکن کم از کم یہ سعادت تو بزور بازو ہی است ۔۔۔ بلکہ زور بازو کے ساتھ زور ترازو بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ انصاف اور میزان دونوں ساتھ ساتھ ہیں اور یہ بازو ترازو تو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں کہ خنجر تلوار تو کیا کٹار بھی چلا سکتے ہیں اگر سامنے ایسے ہی یتیم و یسیر کس مپرس خوار وزاو خریدار ہوں تو، ہاں اس خبر کی ایک چھوٹی سے دم بھی ہے اگرچہ کوئی خاص نہیں ہے لیکن دم آخر دم ہوتی اور بات ویسے بھی آسمان چھونے کی ہو رہی تھی اس لیے خبر کا ''دم دار'' ہونے کے ساتھ ساتھ ''دمدار'' ہونا ضروری ہے وہ دم یہ ہے کہ ''پشاور کے عوام بھوکوں مرنے پر مجبور'' پتہ نہیں خبر بنانے والے خبر کار کو کیوں ایسا لگا کہ یہ بھی کوئی خبر ہے حالانکہ ''بھوکوں مرنے'' کی بات اب اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ اس میں خبر ہی نہیں رہی، آخر اتنا مبارک مہینہ ہے یوں کہیے کہ پورا مہینہ ایک جہاد مسلسل ہے اب اگر جہاد میں کوئی شہید ہو جائے تو اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے مرنا تو ایک دن ہے ہی، آج مرے یا کل مرنا تو ہے اپنے ہاتھوں یا کسی ڈاکٹر کے ہاتھوں کسی کنٹینر میں یا دھماکے میں ۔۔۔ چنانچہ رمضان میں روزہ در دہان مرنے سے بڑی اور کیا سعادت ہو سکتی ہے، ویسے بھی اب پاکستانی عوام کو بھوکوں مرنے کی اتنی پریکٹس ہو گئی ہے کہ بس ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

اک خون چکاں کن میں کروڑوں بناؤں میں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
Load Next Story