صبح کا بھولا دوپہر سے پہلے پہلے
سچ تو یہ ہے کہ دونوں ایک سے بڑھ ایک ہیں کیونکہ دونوں بلکہ تینوں، عوامی اتحاد بھی ساتھ کر دیجیے
barq@email.com
ہم یہاں وہ تو نہیں کہہ سکتے کہ نانی نے خصم کیا برا کیا، چھوڑ دیا اور بھی برا کیا کیونکہ یہاں ''برا'' نہیں بلکہ اچھا ہی اچھا ہو رہا ہے، اس لیے کہاوت کو ذرا الٹا کیے دیتے ہیں۔ نانی نے خصم کو چھوڑا اچھا کیا، اس کے ساتھ پھر رشتہ جوڑا اور بھی اچھا کیا، ان سطور کے چھپنے تک نانی اور نانا کے درمیان ''رجوع'' کا عمل مکمل ہو چکا ہو گا اور پرانی کہانیوں کے آخری فقرے کی طرح '' اور پھر دونوں امن چین سے ہنسی خوشی رہنے لگے '' کا مرحلہ شروع ہو گیا ہو گا۔
سچ تو یہ ہے کہ دونوں ایک سے بڑھ ایک ہیں کیونکہ دونوں بلکہ تینوں، عوامی اتحاد بھی ساتھ کر دیجیے، کی رگوں میں خون تو ایک ہی دوڑ رہا ہے، ویسے ماہرین آج تک انگشت بدنداں ہیں کہ پی ٹی آئی، کیو ڈبلیو پی اور عوامی اتحاد کا تو خیر ایک ہی ''قارورہ'' ہے لیکن جماعت اسلامی کا او نیگٹیو گروپ انھیں کیسے راس آگیا، خیر او نیگٹیو گروپ چونکہ کمیاب ہے اس لیے اس گروپ کے حامل لوگ خون دان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے جہاں کسی مریض کی جان پر بنی ہوتی ہے یہ محض ثواب کی خاطر یعنی والنٹیرلی اس کے ساتھ لیٹ جاتے ہیں،
سرمہ مفت نظر ہوں میری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
بہرحال یہ بڑا ہی اچھا ہوا کہ پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی کے درمیان رجوع کا عمل مکمل ہو گیا اور صبح کا روٹھا ''شام'' ہونے سے پہلے پہلے ہی گھر آگیا، مبارک ہو رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت، دراصل اسے ہم نہ صرف ان دونوں یعنی پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی کی معاملہ فہمی سمجھتے ہیں بلکہ خود اپنی یعنی صوبہ خیر پخیر کے عوام کی خوش نصیبی بھی سمجھتے ہیں کہ اس ملاپ سے ایک مرتبہ پھر ان کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھے بلکہ ''تارے'' نظر بھی آنے لگیں گے، ایک خدشہ تھا جو شکر ہے دور ہو گیا کیونکہ پہلی والی دو بیگمات کی طرف سے بھی این او سی مل گیا کہ شوہر کچھ بھی کرتا پھرے اسے کیا، اسے تو نان و نفقہ برابر مل رہا ہے اور وہ اپنے ''بچوں'' کے ساتھ بہت خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں، رہے ہم جیسے غیر متعلق محلے والے تو بھاڑ میں جائیں
اے مدعی بروکہ مرابا توکارنیست
احباب حاضر ندبہ اعداچہ حاجت است
ملا نصیر الدین سے کسی نے کہا کہ فلاں امیر کا خاص نوکر ایک بڑا سا خوانچہ لیے اس طرف آرہا ہے، ملا جس سے وہ امیر کچھ ناراض تھا ناک بھوں چڑھا کر بولا ، تو مجھے کیا؟ اس پر بتانے والے نے مزید جان کاری دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملازم وہ خوانچہ تمہارے گھر کی طرف لے گیا ہے، اس پر ملا نے کہا تو پھر تجھے کیا؟لیکن اب یہ ٹنٹا بھی جاتا رہا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں کیسا نہ ہو جائے جب میاں اور اس کی ساری منکوحات راضی ہیں تو ''قاضی صاحب'' اب تو کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ہی نہیں۔
وہ ایک باغ کے رکھوالے کا قصہ تو ہم نے آپ کو سنایا تھا کہ پاس کے کھیت میں کام کرنے والے کسان نے ایک پراٹھا اور چائے لے کر اسے کھلایا پلایا، اور پھر وہ اس با غ کا پھل توڑنے لگا ۔کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو، وہ رکھوالا دیکھ رہا ہے، کسان نے کہا کہ دیکھتا ہے تو دیکھنے دو، وہ تو اندھا ہے بے چارا ہے، دوسرے نے تعجب سے کہا اندھا ہے تو رکھوالا کیسے ہے؟ کسان بولا نہیں صبح تک ٹھیک تھا لیکن میں نے اس کی آنکھوں میں چائے انڈیل کر اور اوپر پراٹھا باندھ کر اندھا کر دیا ہے، ویسے بھی یہ ''پراٹھا'' کم بخت بہت ہی پھسلوان قسم کی چیز ہے اور ہمیں تو ایک دو نہیں چار چار پراٹھے ایک ساتھ مل رہے ہیں، اسی لیے تو مشہور و معروف فلمی سالک منور ظریف نے کہا تھا کہ
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
ہمیں تو یہ سارا نصیبوں کا چکر لگتا ہے جب سے موجودہ روان یعنی ''لاحق'' حکومتی اتحاد نے ہمارا نصیبہ سنبھالا ہے راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا اور ''غیب'' ہماری خوش نصیباں آتی رہتی ہیں اور ہمارے شامل حال ہوتی رہتی ہیں مثلاً اس حکومت نے واپڈا سے مستقل سینگ لڑانے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے، اس پر چاروں طرف یا محاذ کے چاروں ''سندسے'' اش اش کرتے رہتے ہیں، باقی کیا ہے ہم تو ویسے بھی یہ سامنے والے ''دانت'' نکلوانا چاہتے تھے یعنی
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے
مطلب یہ کہ گھما پھرا کر بات ہمار ی خوش نصیبی پر آکر ٹھہرتی ہے اور یہ بھی ان خوش نصیبوں کی قطار میں ایک اور خوش نصیبی کا اضافہ ہے کہ پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی ایک مرتبہ پھر ''سب اچھا'' ہو رہا ہے گویا کارساز مابفکر کار ماست ۔۔۔ ایک مرتبہ پھر اب روز گوشت پکے گا ہر شام پلاؤ کھائیں گے اور ہر رات حلوہ بنے گا، سلسلہ وہیں سے جڑ گیا جہاں سے ٹوٹا تھا اب دونوں مل کر ایک مرتبہ پھر صوبے کو نہال کریں گے اور ہمیں نہلائیں گے، جہاں تک ''منفی تنقیدیوں'' کا تعلق ہے تو وہ تو ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں۔
ان کا تو کام ہی یہی ہے زیادہ سے زیادہ یہی کہیں گے کہ وہ کیا تھا؟ اور یہ کیا ہے؟ یعنی جھگڑا کاہے کا تھا اور کیا اب وہ جھگڑا نہیں رہا ہے سارے ''بگڑے'' سدھر گئے اور سارے ''برے'' اچھے ہو گئے؟ تو آخر بھول چوک اور غلط فہمی بھی تو کوئی چیز ہے غیروں کی لگائی بجھائی بھی ہوتی رہتی ہے اور ٹکراؤ تو گھر کے دو برتنوں میں بھی ہو جاتا ہے، ہو گیا ہو گا کچھ ۔۔۔ جواب نہیں رہا اور ہاں ہاں کبھی کبھی تو یہ بھی ہو جاتا ہے نا ۔۔۔ مطلب یہ کہ پلاسٹک یا کاسیمٹک سرجری؟ بمقام امریکا یہ لطیفہ بھی حقیقہ بھی ہو چکا ہے کہ دو لوگوں میں شادی ہو گئی چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ تھا، دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ملے اور پھر مل گئے، لیکن دونوں کو شادی کے بعد یہ دیکھ کر از حد خوشی ہوئی کہ دونوں ایک مرتبہ پہلے بھی میاں بیوی رہ چکے ہیں اور یہ ''حقیقہ'' دراصل پلاسٹک سرجری کا شاخسانہ تھا جسے سمجھے تھے انناس پلاسٹک نکلا
ان کا جو کام ہے وہ اہل دیانت جانیں
میرا تو کام ''سیاست'' ہے جہاں تک پہنچے
سچ تو یہ ہے کہ دونوں ایک سے بڑھ ایک ہیں کیونکہ دونوں بلکہ تینوں، عوامی اتحاد بھی ساتھ کر دیجیے، کی رگوں میں خون تو ایک ہی دوڑ رہا ہے، ویسے ماہرین آج تک انگشت بدنداں ہیں کہ پی ٹی آئی، کیو ڈبلیو پی اور عوامی اتحاد کا تو خیر ایک ہی ''قارورہ'' ہے لیکن جماعت اسلامی کا او نیگٹیو گروپ انھیں کیسے راس آگیا، خیر او نیگٹیو گروپ چونکہ کمیاب ہے اس لیے اس گروپ کے حامل لوگ خون دان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے جہاں کسی مریض کی جان پر بنی ہوتی ہے یہ محض ثواب کی خاطر یعنی والنٹیرلی اس کے ساتھ لیٹ جاتے ہیں،
سرمہ مفت نظر ہوں میری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
بہرحال یہ بڑا ہی اچھا ہوا کہ پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی کے درمیان رجوع کا عمل مکمل ہو گیا اور صبح کا روٹھا ''شام'' ہونے سے پہلے پہلے ہی گھر آگیا، مبارک ہو رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت، دراصل اسے ہم نہ صرف ان دونوں یعنی پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی کی معاملہ فہمی سمجھتے ہیں بلکہ خود اپنی یعنی صوبہ خیر پخیر کے عوام کی خوش نصیبی بھی سمجھتے ہیں کہ اس ملاپ سے ایک مرتبہ پھر ان کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھے بلکہ ''تارے'' نظر بھی آنے لگیں گے، ایک خدشہ تھا جو شکر ہے دور ہو گیا کیونکہ پہلی والی دو بیگمات کی طرف سے بھی این او سی مل گیا کہ شوہر کچھ بھی کرتا پھرے اسے کیا، اسے تو نان و نفقہ برابر مل رہا ہے اور وہ اپنے ''بچوں'' کے ساتھ بہت خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں، رہے ہم جیسے غیر متعلق محلے والے تو بھاڑ میں جائیں
اے مدعی بروکہ مرابا توکارنیست
احباب حاضر ندبہ اعداچہ حاجت است
ملا نصیر الدین سے کسی نے کہا کہ فلاں امیر کا خاص نوکر ایک بڑا سا خوانچہ لیے اس طرف آرہا ہے، ملا جس سے وہ امیر کچھ ناراض تھا ناک بھوں چڑھا کر بولا ، تو مجھے کیا؟ اس پر بتانے والے نے مزید جان کاری دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملازم وہ خوانچہ تمہارے گھر کی طرف لے گیا ہے، اس پر ملا نے کہا تو پھر تجھے کیا؟لیکن اب یہ ٹنٹا بھی جاتا رہا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں کیسا نہ ہو جائے جب میاں اور اس کی ساری منکوحات راضی ہیں تو ''قاضی صاحب'' اب تو کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ہی نہیں۔
وہ ایک باغ کے رکھوالے کا قصہ تو ہم نے آپ کو سنایا تھا کہ پاس کے کھیت میں کام کرنے والے کسان نے ایک پراٹھا اور چائے لے کر اسے کھلایا پلایا، اور پھر وہ اس با غ کا پھل توڑنے لگا ۔کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو، وہ رکھوالا دیکھ رہا ہے، کسان نے کہا کہ دیکھتا ہے تو دیکھنے دو، وہ تو اندھا ہے بے چارا ہے، دوسرے نے تعجب سے کہا اندھا ہے تو رکھوالا کیسے ہے؟ کسان بولا نہیں صبح تک ٹھیک تھا لیکن میں نے اس کی آنکھوں میں چائے انڈیل کر اور اوپر پراٹھا باندھ کر اندھا کر دیا ہے، ویسے بھی یہ ''پراٹھا'' کم بخت بہت ہی پھسلوان قسم کی چیز ہے اور ہمیں تو ایک دو نہیں چار چار پراٹھے ایک ساتھ مل رہے ہیں، اسی لیے تو مشہور و معروف فلمی سالک منور ظریف نے کہا تھا کہ
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
ہمیں تو یہ سارا نصیبوں کا چکر لگتا ہے جب سے موجودہ روان یعنی ''لاحق'' حکومتی اتحاد نے ہمارا نصیبہ سنبھالا ہے راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا اور ''غیب'' ہماری خوش نصیباں آتی رہتی ہیں اور ہمارے شامل حال ہوتی رہتی ہیں مثلاً اس حکومت نے واپڈا سے مستقل سینگ لڑانے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے، اس پر چاروں طرف یا محاذ کے چاروں ''سندسے'' اش اش کرتے رہتے ہیں، باقی کیا ہے ہم تو ویسے بھی یہ سامنے والے ''دانت'' نکلوانا چاہتے تھے یعنی
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے
مطلب یہ کہ گھما پھرا کر بات ہمار ی خوش نصیبی پر آکر ٹھہرتی ہے اور یہ بھی ان خوش نصیبوں کی قطار میں ایک اور خوش نصیبی کا اضافہ ہے کہ پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی ایک مرتبہ پھر ''سب اچھا'' ہو رہا ہے گویا کارساز مابفکر کار ماست ۔۔۔ ایک مرتبہ پھر اب روز گوشت پکے گا ہر شام پلاؤ کھائیں گے اور ہر رات حلوہ بنے گا، سلسلہ وہیں سے جڑ گیا جہاں سے ٹوٹا تھا اب دونوں مل کر ایک مرتبہ پھر صوبے کو نہال کریں گے اور ہمیں نہلائیں گے، جہاں تک ''منفی تنقیدیوں'' کا تعلق ہے تو وہ تو ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں۔
ان کا تو کام ہی یہی ہے زیادہ سے زیادہ یہی کہیں گے کہ وہ کیا تھا؟ اور یہ کیا ہے؟ یعنی جھگڑا کاہے کا تھا اور کیا اب وہ جھگڑا نہیں رہا ہے سارے ''بگڑے'' سدھر گئے اور سارے ''برے'' اچھے ہو گئے؟ تو آخر بھول چوک اور غلط فہمی بھی تو کوئی چیز ہے غیروں کی لگائی بجھائی بھی ہوتی رہتی ہے اور ٹکراؤ تو گھر کے دو برتنوں میں بھی ہو جاتا ہے، ہو گیا ہو گا کچھ ۔۔۔ جواب نہیں رہا اور ہاں ہاں کبھی کبھی تو یہ بھی ہو جاتا ہے نا ۔۔۔ مطلب یہ کہ پلاسٹک یا کاسیمٹک سرجری؟ بمقام امریکا یہ لطیفہ بھی حقیقہ بھی ہو چکا ہے کہ دو لوگوں میں شادی ہو گئی چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ تھا، دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ملے اور پھر مل گئے، لیکن دونوں کو شادی کے بعد یہ دیکھ کر از حد خوشی ہوئی کہ دونوں ایک مرتبہ پہلے بھی میاں بیوی رہ چکے ہیں اور یہ ''حقیقہ'' دراصل پلاسٹک سرجری کا شاخسانہ تھا جسے سمجھے تھے انناس پلاسٹک نکلا
ان کا جو کام ہے وہ اہل دیانت جانیں
میرا تو کام ''سیاست'' ہے جہاں تک پہنچے