غیر جمہوری برطرفیوں کی مخالفت کریں گےہاکی اولمپئنز

بے جواز تنقید کرنے والوں کوکھیل کی اسکولز میں بحالی کا مطالبہ کرنا چاہیے

بے جواز تنقید کرنے والوں کوکھیل کی اسکولز میں بحالی کا مطالبہ کرنا چاہیے، اولمپئنز۔ فوٹو : فائل

فیڈریشن کے حامی اولمپئنز نے کہا ہے کہ پی ایچ ایف میں غیر جمہوری تبدیلیوں کی مخالفت کریں گے، بے جواز تنقید کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ حکومت سے کھیل کی اسکول سطح پر کھیل کی بحالی کا بھی مطالبہ کریں۔

اولمپئنز انجم سعید، محمد اخلاق، شفقت ملک، ریحان بٹ ، طارق شیخ اور پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل اجمل خان لودھی نے گذشتہ روز نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی،انجم سعید نے کہا کہ 2 سال قبل پی ایچ ایف کی موجودہ انتظامیہ نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو صدر اختر رسول اور سیکریٹری رانا مجاہد علی نے مفاہمتی پالیسی کا آغاز کیا،وہ تمام اولمپنز کے گھروں میں گئے جس کے نتیجہ میں اصلاح الدین صدیقی، شہناز شیخ، ایاز محمود اور کامران اشرف سمیت بیشتر سابق کھلاڑی فیڈریشن میں واپس آ گئے۔


قومی کھیل کو دوبارہ عروج تک پہنچانے کے لیے سب نے مل کر کوششیں کیںلیکن ورلڈ کپ کے بعد اولمپک سے باہر ہوکر بہت بڑا دھچکا پہنچا جس کا ہر کسی کو صدمہ ہے ، انھوں نے کہا کہ ٹیم جب ایشین گیمز اور ایف آئی ایچ کے فائنل کھیلنے میں کامیاب رہی تو انعامات کی مستحق مینجمنٹ رہی، اب اسکواڈ اولمپکس سے باہر ہو گیا تو سارا ملبہ پی ایچ ایف کے عہدیداروں پرڈالا جارہا ہے۔

انجم سعید نے کہا کہ ہم سب کو مل کر وزیر اعظم سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ تعلیمی اداروں میں قومی کھیل کو بحال کریں اور نوعمر بچوں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں ۔انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف میں ایڈہاک کی باتیں کرنے والے جان لیں جمہوری انداز میں بننے والے فیڈریشن کو غیر جمہوری انداز سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔محمد اخلاق نے کہا کہ پی ایچ ایف کے خلاف بیان دینے والے بھی کھیل کی تباہی کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں، دورئہ ملائیشیا کے بعد قومی ٹیم مینجمنٹ کو برطرف کر دیا گیا تھا۔

اب نکالے گئے کوچز کامران اشرف اور عرفان سینئر مستعفی ہو کر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کی میعاد ورلڈ ہاکی لیگ تک تھی، ان کے استعفے بھی فضول ہیں۔ ریحان بٹ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو گزشتہ 3 ٹورز سے یومیہ الاؤنس نہیں مل سکے،وہ 6ماہ تک وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت مانگتے رہے لیکن کامیاب نہ ہو سکے، اب ٹیم ہاری تو وزیر اعظم نے فوری تحقیقاتی کمیٹی بنا دی، یہ کچھ عجیب لگتا ہے ۔
Load Next Story