قومی رہنماؤں کی غیر ذمے داریاں
سابق صدر آصف علی زرداری نے پاک فوج سے متعلق ایک متنازعہ بیان دے کر ملکی سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے
سابق صدر آصف علی زرداری نے پاک فوج سے متعلق ایک متنازعہ بیان دے کر ملکی سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے جس کی ملک بھر میں مذمت بھی ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنما وضاحتیں پیش کر رہے ہیں۔ یہ متنازعہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب آرمی چیف روس کے دورے پر تھے اور ملک میں آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر فوجی قربانیوں کو سراہا جا رہا تھا اور فوج کے اقدامات کی تعریفیں کی جا رہی تھیں۔
ایسے حالات میں سابق صدر جو فوج کے سپریم کمانڈر بھی رہے ہیں نے اسلام آباد میں اپنی پارٹی کی تقریب میں جنرلوں سے متعلق جو تقریر کی اور بعد میں پیپلز پارٹی نے اپنے شریک چیئرمین کی متنازعہ تقریر کی حمایت بھی کر دی، اس تقریر کو سابق صدر زرداری کا انتہائی غیر ذمے دارانہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر وزیر اعظم نواز شریف نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ اس سے قبل متحدہ کے قائد الطاف حسین کے ایک بیان پر فوج کی طرف سے ایک مذمتی بیان جاری ہوا تھا جس کی متحدہ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت اور الطاف حسین کے بیان کی مخالفت کی تھی۔ گزشتہ سال دھرنوں کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کا بھی فوج سے متعلق ایک متنازعہ بیان سامنے آیا تھا جس پر فوج نے بھی اظہار برہمی کیا تھا اور خواجہ آصف کے بیان کی بھی اپوزیشن نے مذمت کی تھی۔
تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کی ایوان میں آمد پر بھی خواجہ آصف نے کڑی تنقید کی تھی اور بائیکاٹ ختم کر کے واپس آنے والوں کے لیے شرم کرو، حیا کرو کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران آرمی سے متعلق آرڈیننس کی توسیع کا بل پیش کیا جس کی متحدہ نے مخالفت کی تو خواجہ آصف متحدہ پر برس پڑے تھے اور انھوں نے اپنے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا تھا جس پر متحدہ نے قومی اور سندھ اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹ کیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے بھی قومی اسمبلی میں عمران خان کی اہلیہ ریحام خان پر تنقید کی کہ وہ سرکاری ہیلی کاپٹر رکشے کی طرح استعمال کر رہی ہیں جس پر پی ٹی آئی کے ارکان نے احتجاج کیا تو طلال چوہدری کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی بھی اکثر غیر ذمے دارانہ بیانات دیتے رہتے ہیں جس پر سندھ اور کے پی کے میں احتجاج ہوئے مگر وہ اب بھی متنازعہ بیانات دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کراچی میں کہا کہ کراچی میں اگر مکھی بھی مر جائے تو ہڑتال ہوجاتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اور کراچی میں مکھی کے مرنے پر تو کیا ایک روز میں بیسیوں افراد کی ہلاکت پر شہری کبھی ہڑتال نہیں کرتے مگر متحدہ اس پوزیشن میں ہے کہ اپنے کارکن کی ہلاکت پر یوم سوگ منائے تو شہر میں اب بغیر فائرنگ و خوف و ہراس لوگ کاروبار بند کر دیتے ہیں اور ہڑتال ہو جاتی ہے۔
الطاف حسین بھی غیر ذمے دارانہ بیانات دیتے رہتے ہیں جس کی صفائی متحدہ کے رہنماؤں کو کئی روز تک پیش کرنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دھرنوں سے پہلے تک لوگ انھیں ایک ذمے دار سیاستدان سمجھتے تھے مگر دھرنوں کے دوران عمران خان کے غیر ذمے دارانہ بیانات نے بھی انھیں ایک سچا اور کھرا سیاستدان نہیں رہنے دیا۔ عمران خان یوٹرن لیتے رہے اور روز بیان بدلتے رہے اور اپنی تقریروں میں دوسروں پر جھوٹی الزام تراشی کرتے رہے مگر ثابت کچھ نہ کر سکے اور اب عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔
پی اے ٹی کے علامہ طاہر القادری سیاسی سے زیادہ مذہبی رہنما سمجھے جاتے ہیں مگر انھوں نے بھی سیاسی دھرنوں میں غیر ذمے داری کا مظاہرہ کر کے اپنی مذہبی ساکھ متاثر کی اور سیاسی ساکھ بھی برقرار نہ رکھ سکے۔ علامہ طاہر القادری نے اپنے دونوں دھرنوں میں انتہائی جارحانہ اور غیر ذمے دارانہ تقاریر کر کے اپنے کارکنوں ہی نہیں دیگر افراد کے جذبات بھی مجروح کیے اور دھرنوں میں جھوٹے دعوے کرتے رہے اور ناکام رہے۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی بھی غیر ذمے دارانہ بیانات میں مشہور ہیں۔ وہ پہلے تو فوجی صدر کو دس بار فوجی وردی میں صدر منتخب کرانے کے دعوے کرتے رہے اور اب میٹرو بس منصوبے کو جنگلہ بس منصوبہ ہی قرار دیتے آ رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف (ن) لیگی حکومت کی مخالفت رہ گیا ہے اور وہ اس سیاسی مخالفت میں دن کو دن اور رات کو رات ماننے کو تیار نہیں ہیں مگر غیر آئینی طور پر ڈپٹی وزیر اعظم بننے میں عار محسوس نہیں کرتے تا کہ اقتدار حاصل ہو جائے۔
غیر ذمے دارانہ بیانات دینے میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ محمد اسلم رئیسانی نے بھی شہرت پائی تھی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے خواہ اصلی ہو یا جعلی۔ اسلم رئیسانی کے بے سروپا بیانات پر لوگ بھی ہنستے تھے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کیسے غیر ذمے دارانہ بیانات دے رہا ہے اور اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
اپوزیشن اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے میاں شہباز شریف نے بھی متعدد غیر ذمے دارانہ بیانات دیے تھے اور ایسے ہی بیانات پر انھیں سابق صدر آصف علی زرداری سے معذرت کرنا پڑی اور اپنے الفاظ واپس لینا پڑے۔
ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر متعدد رہنماؤں کے غیر ذمے دارانہ بیانات خود ان کے گلے پڑ چکے ہیں جو جوش میں آ کر بڑھکیں تو مار دیتے ہیں مگر بعد میں شرمساری کا بھی اعتراف نہیں کرتے اور تو اور دوسروں کو شرم کرو، حیا کرو کہنے والے وزیر بجلی خواجہ آصف کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دیے گئے بیانات پر خود کبھی شرم نہیں آئی۔ سابق وزیر بجلی راجہ پرویز اشرف بھی اپنے بیانات کے باعث تنقید کا نشانہ بنے تھے اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا تھا کہ جو لوگ ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو انھیں روکا کس نے ہے۔
غیر ذمے دارانہ بیانات دے کر ان کی صفائی پیش کرنے والوں کو بھی اب غیر ذمے دارانہ بیانات دینے پڑتے ہیں کہ ان کے رہنماؤں کے کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا۔
اب میڈیا کے پاس ہر رہنما کے بیانات اور تقاریر کے واضح ثبوت موجود ہیں مگر وہ پھر بھی ڈھٹائی سے تردید کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ اب جدید دور ہے اور اب اپنے کہے سے انحراف ممکن نہیں ہے مگر قومی رہنماؤں میں، میں نہ مانوں کی عادت موجود ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو تول بھی لینا چاہیے کیونکہ ان کے الفاظ دوسروں کی دل آزاری ہی کا نہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی اور پوزیشن خراب کرنے کا بھی سبب بن جاتے ہیں اور ایسے رہنماؤں سے بھی لوگ بدظن ہوتے ہیں اس لیے ہر رہنما کو انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایسے حالات میں سابق صدر جو فوج کے سپریم کمانڈر بھی رہے ہیں نے اسلام آباد میں اپنی پارٹی کی تقریب میں جنرلوں سے متعلق جو تقریر کی اور بعد میں پیپلز پارٹی نے اپنے شریک چیئرمین کی متنازعہ تقریر کی حمایت بھی کر دی، اس تقریر کو سابق صدر زرداری کا انتہائی غیر ذمے دارانہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر وزیر اعظم نواز شریف نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ اس سے قبل متحدہ کے قائد الطاف حسین کے ایک بیان پر فوج کی طرف سے ایک مذمتی بیان جاری ہوا تھا جس کی متحدہ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت اور الطاف حسین کے بیان کی مخالفت کی تھی۔ گزشتہ سال دھرنوں کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کا بھی فوج سے متعلق ایک متنازعہ بیان سامنے آیا تھا جس پر فوج نے بھی اظہار برہمی کیا تھا اور خواجہ آصف کے بیان کی بھی اپوزیشن نے مذمت کی تھی۔
تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کی ایوان میں آمد پر بھی خواجہ آصف نے کڑی تنقید کی تھی اور بائیکاٹ ختم کر کے واپس آنے والوں کے لیے شرم کرو، حیا کرو کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران آرمی سے متعلق آرڈیننس کی توسیع کا بل پیش کیا جس کی متحدہ نے مخالفت کی تو خواجہ آصف متحدہ پر برس پڑے تھے اور انھوں نے اپنے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا تھا جس پر متحدہ نے قومی اور سندھ اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹ کیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے بھی قومی اسمبلی میں عمران خان کی اہلیہ ریحام خان پر تنقید کی کہ وہ سرکاری ہیلی کاپٹر رکشے کی طرح استعمال کر رہی ہیں جس پر پی ٹی آئی کے ارکان نے احتجاج کیا تو طلال چوہدری کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی بھی اکثر غیر ذمے دارانہ بیانات دیتے رہتے ہیں جس پر سندھ اور کے پی کے میں احتجاج ہوئے مگر وہ اب بھی متنازعہ بیانات دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کراچی میں کہا کہ کراچی میں اگر مکھی بھی مر جائے تو ہڑتال ہوجاتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اور کراچی میں مکھی کے مرنے پر تو کیا ایک روز میں بیسیوں افراد کی ہلاکت پر شہری کبھی ہڑتال نہیں کرتے مگر متحدہ اس پوزیشن میں ہے کہ اپنے کارکن کی ہلاکت پر یوم سوگ منائے تو شہر میں اب بغیر فائرنگ و خوف و ہراس لوگ کاروبار بند کر دیتے ہیں اور ہڑتال ہو جاتی ہے۔
الطاف حسین بھی غیر ذمے دارانہ بیانات دیتے رہتے ہیں جس کی صفائی متحدہ کے رہنماؤں کو کئی روز تک پیش کرنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دھرنوں سے پہلے تک لوگ انھیں ایک ذمے دار سیاستدان سمجھتے تھے مگر دھرنوں کے دوران عمران خان کے غیر ذمے دارانہ بیانات نے بھی انھیں ایک سچا اور کھرا سیاستدان نہیں رہنے دیا۔ عمران خان یوٹرن لیتے رہے اور روز بیان بدلتے رہے اور اپنی تقریروں میں دوسروں پر جھوٹی الزام تراشی کرتے رہے مگر ثابت کچھ نہ کر سکے اور اب عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔
پی اے ٹی کے علامہ طاہر القادری سیاسی سے زیادہ مذہبی رہنما سمجھے جاتے ہیں مگر انھوں نے بھی سیاسی دھرنوں میں غیر ذمے داری کا مظاہرہ کر کے اپنی مذہبی ساکھ متاثر کی اور سیاسی ساکھ بھی برقرار نہ رکھ سکے۔ علامہ طاہر القادری نے اپنے دونوں دھرنوں میں انتہائی جارحانہ اور غیر ذمے دارانہ تقاریر کر کے اپنے کارکنوں ہی نہیں دیگر افراد کے جذبات بھی مجروح کیے اور دھرنوں میں جھوٹے دعوے کرتے رہے اور ناکام رہے۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی بھی غیر ذمے دارانہ بیانات میں مشہور ہیں۔ وہ پہلے تو فوجی صدر کو دس بار فوجی وردی میں صدر منتخب کرانے کے دعوے کرتے رہے اور اب میٹرو بس منصوبے کو جنگلہ بس منصوبہ ہی قرار دیتے آ رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف (ن) لیگی حکومت کی مخالفت رہ گیا ہے اور وہ اس سیاسی مخالفت میں دن کو دن اور رات کو رات ماننے کو تیار نہیں ہیں مگر غیر آئینی طور پر ڈپٹی وزیر اعظم بننے میں عار محسوس نہیں کرتے تا کہ اقتدار حاصل ہو جائے۔
غیر ذمے دارانہ بیانات دینے میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ محمد اسلم رئیسانی نے بھی شہرت پائی تھی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے خواہ اصلی ہو یا جعلی۔ اسلم رئیسانی کے بے سروپا بیانات پر لوگ بھی ہنستے تھے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کیسے غیر ذمے دارانہ بیانات دے رہا ہے اور اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
اپوزیشن اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے میاں شہباز شریف نے بھی متعدد غیر ذمے دارانہ بیانات دیے تھے اور ایسے ہی بیانات پر انھیں سابق صدر آصف علی زرداری سے معذرت کرنا پڑی اور اپنے الفاظ واپس لینا پڑے۔
ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر متعدد رہنماؤں کے غیر ذمے دارانہ بیانات خود ان کے گلے پڑ چکے ہیں جو جوش میں آ کر بڑھکیں تو مار دیتے ہیں مگر بعد میں شرمساری کا بھی اعتراف نہیں کرتے اور تو اور دوسروں کو شرم کرو، حیا کرو کہنے والے وزیر بجلی خواجہ آصف کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دیے گئے بیانات پر خود کبھی شرم نہیں آئی۔ سابق وزیر بجلی راجہ پرویز اشرف بھی اپنے بیانات کے باعث تنقید کا نشانہ بنے تھے اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا تھا کہ جو لوگ ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو انھیں روکا کس نے ہے۔
غیر ذمے دارانہ بیانات دے کر ان کی صفائی پیش کرنے والوں کو بھی اب غیر ذمے دارانہ بیانات دینے پڑتے ہیں کہ ان کے رہنماؤں کے کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا۔
اب میڈیا کے پاس ہر رہنما کے بیانات اور تقاریر کے واضح ثبوت موجود ہیں مگر وہ پھر بھی ڈھٹائی سے تردید کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ اب جدید دور ہے اور اب اپنے کہے سے انحراف ممکن نہیں ہے مگر قومی رہنماؤں میں، میں نہ مانوں کی عادت موجود ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو تول بھی لینا چاہیے کیونکہ ان کے الفاظ دوسروں کی دل آزاری ہی کا نہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی اور پوزیشن خراب کرنے کا بھی سبب بن جاتے ہیں اور ایسے رہنماؤں سے بھی لوگ بدظن ہوتے ہیں اس لیے ہر رہنما کو انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔