متنازع ٹیکس لین دین یکم جولائی سے بند ہو گیا فلورملز

ٹیکسز سے آٹے کی پیداواری لاگت میں 2 روپے کلو اضافہ ہو گا، مہنگائی بڑھے گی

حکومت 2 دن میں چوکر و لین دین پر ٹیکس واپس لے ورنہ ہفتہ سے ہڑتال کرینگے، عاصم رضا فوٹو : فائل

بینک ٹرانزیکشن پر 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ اور گندم کے چوکر پر 7 فیصد جی ایس ٹی عائد ہونے کے نتیجے میں فلورملوں کی بیوپاریوں اور زمینداروں کے ساتھ کاروباری لین دین یکم جولائی سے ہی بند ہو گیا ہے جس کے سبب فلورملز مالکان مالی دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔

پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عاصم رضا احمد نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں غذائی اشیا کی صنعتیں ہرقسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، یہی وجہ ہے کہ فلورملز ایسوسی ایشن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے حکومت کے غیردانشمندانہ اقدامات کے خلاف ملک بھر کی فلورملوں میں جمعہ 10 جولائی سے گندم کی واشنگ بند کرنے اور ہفتہ11 جولائی کو پیداواری عمل معطل کرکے ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ گندم کے چوکر کے استعمال کنندگان ڈیری اور پولٹری انڈسٹری ہے جو غذائی صنعت کا حصہ ہیں ان پراگرچہ مذکورہ ٹیکس واپس لے لیا گیا ہے لیکن فلورملوں کے لیے چوکرپر7 فیصد جی ایس ٹی بدستور عائد ہے، اسی طرح گندم کی ٹرانزیکشنز پر0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہونے کے سبب زمیندار بغیر کسی کٹوتی کے گندم فروخت کررہے ہیں۔

لہٰذا ان حالات میں مذکورہ دونوں ٹیکسوں کا بوجھ براہ راست فلورملوں پر مرتب ہوگا اور اس کے نتیجے میں فی کلوگرام آٹے کی پیداواری لاگت میں2 روپے کا اضافہ ہو جائے گا جو مہنگائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس 2 دن کی مہلت ہے کہ وہ اپنے غیردانشمندانہ فیصلوں کو واپس لینے کا اعلان کرے بصورت دیگر ملکی سطح پر ہونے والی ہڑتال ایک نیا بحران پیدا کردے گی۔
Load Next Story