سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت میں توسیع
رینجرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے‘ کراچی میں امن و امان کی صورت حال پہلے کی نسبت بہت زیادہ بہتر ہوئی ہے
سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ سول ادارے اگر ایمانداری‘جانفشانی اور تندہی سے کام کریں، فوٹو : فائل
سندھ حکومت نے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں30روز کی توسیع کر دی ہے۔رینجرز کو خصوصی اختیارات سے متعلق چار ماہ قبل جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کی مدت بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ختم ہو گئی تھی۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے رابطہ کیا تھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے رابطہ کر کے انھیں رینجرز کے اختیارات میں فوری توسیع کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان تناؤ اور اختلافات کی خبریں بے بنیاد اور حقیقت کے بالکل برعکس ہیں' سندھ حکومت کی وفاقی حکومت، فوج اور رینجرز کے ساتھ بہت ہی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے' پاک فوج نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں' سندھ بھر بالخصوص کراچی میں امن وامان خاص طور پر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے خلاف رینجرز کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ روز ڈی جی رینجر ز نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے بھی ملاقات کی۔ ڈی جی رینجرز نے صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔
دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے اور وہ صوبے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں۔ادھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں رینجرز کے آپریشنز پر عوامی ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں پرمشتمل ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے کر رینجر کے اقدامات اور آپریشن پر عوامی ریفرنڈم کرایا جائے۔
رینجرز کو سونپے گئے خصوصی اختیارات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جب سے کراچی میں رینجرز نے خصوصی اختیارات کے تحت کارروائیاں کی ہیں' اس وقت سے کراچی شہر کے حالات میں خاصی حد تک بہتری آئی ہے۔ایف آئی اے کو خصوصی اختیارات ملنے اور رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے بعض اوقات سندھ حکومت بھی پریشانی سے دوچار ہوئی تاہم حالات نارمل ہی رہے۔ البتہ ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔بہر حال یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ رینجرز کی تعیناتی سے قبل کراچی کے کیا حالات تھے اور اب کیا حالات ہیں؟بلاشبہ حالات میں بہتری آئی ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ رینجرز نے کراچی میں نہایت مشکل وقت میں کام کیا' اگر کسی کو ان کی کارکردگی پر شک ہے تو وہ کراچی کے شہریوں اور تاجروں سے پوچھ سکتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے لیکن وہاں ایک مدت سے جاری ٹارگٹ کلنگ' قتل و غارت اور بھتہ خوری کے باعث شہریوں کی زندگی عدم تحفظ کا شکار ہو چکی تھی۔ ایسی صورت حال میں شہری حلقوں کی جانب سے الزامات سامنے آنے لگے کہ انتظامیہ اور پولیس خود ہی جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کر رہی ہے اس تناظر میں شہر میں امن و امان کی صورت حال میں تبدیلی کیسے آ سکتی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبات بھی سامنے آئے کہ شہر کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے فوج کو طلب کیا جائے۔ جب یہ محسوس ہونے لگے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس شہر میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو گئی تو حکومت آئینی طور پر فوج کو صورت حال بہتر بنانے کے لیے طلب کر سکتی ہے' کراچی میں رینجرز کو ایسے ہی مشکل حالات میں بلایا گیا تھا۔ رینجرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے' کراچی میں امن و امان کی صورت حال پہلے کی نسبت بہت زیادہ بہتر ہوئی ہے اور شہر کی رونقیں پھر سے بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ عرصے سے بعض حلقوں کی جانب سے رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے 'جب کسی جگہ آپریشن ہوتا ہے تو اس دوران میں بعض اوقات ناپسندیدہ واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ جب طاقتور لوگ شکنجے میں آتے ہیں تو پھر آپریشن پر اعتراضات بھی ہوتے ہیں۔ بلاشبہ رینجرز ایک عسکری ادارہ ہے جو سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے ۔اصولی طور پر اسے یہی کام کرنا چاہیے لیکن کراچی کے جو حالات ہیں اس کا تقاضا یہی ہے کہ رینجرز کچھ دیر اور خصوصی اختیارات کے تحت اپنے فرائض انجام دے۔ ادھر سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ سول ادارے اگر ایمانداری'جانفشانی اور تندہی سے کام کریں 'سٹی پولیس متحرک ہو تو رینجرز کو خصوصی کردار ادا کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت کے سول ادارے اپنا آئینی رول ادا کرنے کے لیے تیاری کریں تاکہ کراچی اور سندھ میں امن کا قیام ممکن ہو جائے اور جمہوریت کا سفر بھی جاری رہے۔
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان تناؤ اور اختلافات کی خبریں بے بنیاد اور حقیقت کے بالکل برعکس ہیں' سندھ حکومت کی وفاقی حکومت، فوج اور رینجرز کے ساتھ بہت ہی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے' پاک فوج نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں' سندھ بھر بالخصوص کراچی میں امن وامان خاص طور پر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے خلاف رینجرز کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ روز ڈی جی رینجر ز نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے بھی ملاقات کی۔ ڈی جی رینجرز نے صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔
دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے اور وہ صوبے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں۔ادھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں رینجرز کے آپریشنز پر عوامی ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں پرمشتمل ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے کر رینجر کے اقدامات اور آپریشن پر عوامی ریفرنڈم کرایا جائے۔
رینجرز کو سونپے گئے خصوصی اختیارات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جب سے کراچی میں رینجرز نے خصوصی اختیارات کے تحت کارروائیاں کی ہیں' اس وقت سے کراچی شہر کے حالات میں خاصی حد تک بہتری آئی ہے۔ایف آئی اے کو خصوصی اختیارات ملنے اور رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے بعض اوقات سندھ حکومت بھی پریشانی سے دوچار ہوئی تاہم حالات نارمل ہی رہے۔ البتہ ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔بہر حال یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ رینجرز کی تعیناتی سے قبل کراچی کے کیا حالات تھے اور اب کیا حالات ہیں؟بلاشبہ حالات میں بہتری آئی ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ رینجرز نے کراچی میں نہایت مشکل وقت میں کام کیا' اگر کسی کو ان کی کارکردگی پر شک ہے تو وہ کراچی کے شہریوں اور تاجروں سے پوچھ سکتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے لیکن وہاں ایک مدت سے جاری ٹارگٹ کلنگ' قتل و غارت اور بھتہ خوری کے باعث شہریوں کی زندگی عدم تحفظ کا شکار ہو چکی تھی۔ ایسی صورت حال میں شہری حلقوں کی جانب سے الزامات سامنے آنے لگے کہ انتظامیہ اور پولیس خود ہی جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کر رہی ہے اس تناظر میں شہر میں امن و امان کی صورت حال میں تبدیلی کیسے آ سکتی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبات بھی سامنے آئے کہ شہر کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے فوج کو طلب کیا جائے۔ جب یہ محسوس ہونے لگے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس شہر میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو گئی تو حکومت آئینی طور پر فوج کو صورت حال بہتر بنانے کے لیے طلب کر سکتی ہے' کراچی میں رینجرز کو ایسے ہی مشکل حالات میں بلایا گیا تھا۔ رینجرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے' کراچی میں امن و امان کی صورت حال پہلے کی نسبت بہت زیادہ بہتر ہوئی ہے اور شہر کی رونقیں پھر سے بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ عرصے سے بعض حلقوں کی جانب سے رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے 'جب کسی جگہ آپریشن ہوتا ہے تو اس دوران میں بعض اوقات ناپسندیدہ واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ جب طاقتور لوگ شکنجے میں آتے ہیں تو پھر آپریشن پر اعتراضات بھی ہوتے ہیں۔ بلاشبہ رینجرز ایک عسکری ادارہ ہے جو سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے ۔اصولی طور پر اسے یہی کام کرنا چاہیے لیکن کراچی کے جو حالات ہیں اس کا تقاضا یہی ہے کہ رینجرز کچھ دیر اور خصوصی اختیارات کے تحت اپنے فرائض انجام دے۔ ادھر سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ سول ادارے اگر ایمانداری'جانفشانی اور تندہی سے کام کریں 'سٹی پولیس متحرک ہو تو رینجرز کو خصوصی کردار ادا کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت کے سول ادارے اپنا آئینی رول ادا کرنے کے لیے تیاری کریں تاکہ کراچی اور سندھ میں امن کا قیام ممکن ہو جائے اور جمہوریت کا سفر بھی جاری رہے۔