پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات اہم پیش رفت

اگربھارت حقیقی معنوں میں بہترتعلقات قائم کرنےکاخواہاں ہےتواسے پاکستان کےخلاف ہرقسم کےمعاندانہ رویے سے گریز کرنا ہوگا

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا لیا گیا ہے۔ بھارت کو بھی اس تنظیم کی رکنیت مل گئی ہے۔ فوٹو: پی آئی ڈی

COPENHAGAN:
روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات اہم پیشرفت ہے جس کے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کی۔ نریندر مودی نے اگلے برس پاکستان میں منعقد ہونے والے سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی قبول کر لی۔

نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا مگر انھیں اس حقیقت کا ادراک ہونے لگا کہ ان کا یہ رویہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کو فروغ دے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کو نقصان پہنچے گا کیونکہ امریکا' چین اور دیگر عالمی قوتوں نے مودی کے اس رویے کو پسند نہیں کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے موقع پر بھارت کی جانب سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کے اظہار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے جو یقیناً ایک خوش آیند امر ہے۔

دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات طے شدہ دورانیے سے زیادہ وقت تک جاری رہی لیکن انھوں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کی بلکہ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ قیام امن اور ترقی کو یقینی بنائیں اور اس مقصد کے لیے ہر مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس موقع پر بھارتی سیکریٹری خارجہ نے پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان طے پانے والے پانچ اہم نکات کو پڑھ کر سنایا جس کے مطابق -1 دونوں ممالک کے متعلقہ حکام دہشت گردی کے مسئلے سے وابستہ تمام معاملات پر نئی دہلی میں ملیں گے -2بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستانی رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کی ملاقات منعقد کی جائے گی۔


اس کے علاوہ ڈی جی ملٹری آپریشنز کی ملاقات بھی ہو گی۔ -3ماہی گیروں کی رہائی کا فیصلہ 15 دن کے اندر کریں گے۔ -4مذہبی مقامات کی زیارت کی غرض سے سرحد پار آنے جانے کی بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔ -5ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے دو طرفہ تعاون کرنے پر اتفاق بھی ہوا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر تنازع کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تاہم سفارتی ذرایع کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے نریندر مودی سے ملاقات کے موقع پر ان پر واضح کر دیا کہ پاکستان بھارت سے کشمیر اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے' انھوں نے اقتصادی راہداری منصوبے پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چینی صدر ژی چن پنگ سے ملاقات کے موقع پر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے اور ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر اقوام متحدہ میں بیجنگ کی پاکستان کی حمایت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا مگر چینی صدر نے پاکستان کی حمایت اور بھارتی مطالبے کو ویٹو کرنے کے فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ حقائق' معروضیت اور انصاف پر مبنی ہے۔

اگر بھارت حقیقی معنوں میں بہتر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے تو اسے پاکستان کے خلاف ہر قسم کے معاندانہ رویے سے گریز کرنا ہو گا، ہٹ دھرمی کی پالیسی بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے شنگھائی تعاون کونسل اور برکس ممالک کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں لیکن اس کا عزم کمزور نہیں ہوا وہ اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں پرعزم ہے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن صرف پاکستان کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ یہ علاقائی امن اور بین الاقوامی برادری کے لیے بھی اہم ہے۔

شنگھائی تعاون کونسل خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا اہم پلیٹ فارم ہے پاکستان کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ممالک کو قائل کرنا چاہیے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اسے پاکستان سے نتھی کرنے کی سوچ قطعاً درست نہیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا لیا گیا ہے۔ بھارت کو بھی اس تنظیم کی رکنیت مل گئی ہے۔ وزیراعظم کی دورہ روس کی کامیابی ہے کہ یہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات بھی خوشگوار رہی اور پاکستان' شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بھی بن گیا۔
Load Next Story