تجاوزات کے خلاف آپریشن موثر حکمت عملی اپنائی جائے

تجاوزات کا عمل نہ صرف غیر قانونی بلکہ شہر کا حسن خراب کرنے کا بھی باعث ہوتا ہے

عین رمضان المبارک میں جب غریب بے روزگار افراد اپنی تنگدستی دور کرنے کے لیے چھوٹے کاروبار کررہے ہیں تجاوزات کے خلاف یہ آپریشن مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فوٹو : محمد نعمان/ایکسپریس

SARGODHA:
تجاوزات کا عمل نہ صرف غیر قانونی بلکہ شہر کا حسن خراب کرنے کا بھی باعث ہوتا ہے، نیز مصروف ترین شاہراہوں پر پتھارے اور ٹھیلوں کے سبب ٹریفک جام کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ تجاوزات کے روبہ عمل آنے سے پہلے ہی شہری انتظامیہ کو موثر اسٹرٹیجی قائم کرنی چاہیے تاکہ اس کا خاتمہ اوائل ہی میں کیا جاسکے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ اداروں کی سرپرستی ہی میں تجاوزات قائم کرائے جانے کا یہ گھناؤنا کاروبار شد و مد کے ساتھ جاری ہے اور اگر کہیں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوتا نظر بھی آتا ہے تو اس کے پیچھے بھی ذاتی مقاصد اور مزید لوٹ مار کا مقصد کارفرما ہوتا ہے۔

الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں بارہا تجاوزات کی نشاندہی اور تجاوزات قائم کرانے والے راشی افسران کے خلاف رپورٹ منظر عام پر آتی رہی ہیں لیکن ''چور کا بھائی کوتوال'' کے مصداق کوئی کارروائی عمل میں آئے بھی تو کیسے؟ پہلے رشوت اور بھتہ خوری کے ذریعے تجاوزات کی اجازت اور بعد ازاں دکھاوے کی کارروائی نے متاثرین کے جذبات کو مشتعل کردیا ہے۔


جمعرات کو کراچی کی مشہور حیدری مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران پورا علاقہ میدان جنگ بن گیا، پولیس کی ہوائی فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا جب کہ مشتعل افراد کی ڈی سی سینٹرل اور اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی و نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی، مشتعل افراد نے پتھارے اٹھانے والے ٹرک کو الٹنے کے بعد آگ لگادی۔ مذکورہ واقعے کا رونما ہونا افسوس ناک ہے لیکن ملک کے دیگر شہروں میں بھی تجاوزات کا حال ایک سا ہے۔

یہ امر حقیقت ہے کہ متعلقہ ذمے دار اداروں کی چشم پوشی کے بغیر تجاوزات کا قائم ہونا محال ہے۔ اگر ادارے بروقت کارروائی کریں تو ایسے واقعات پیش نہ آئیں لیکن اپنی ''ذاتی کمائی'' اور بھتہ خور گروپوں کی جانب سے پہلے پتھارے اور ٹھیلے لگانے والوں کو یومیہ کرایے پر جگہ فراہم کی جاتی ہے اور پھر ''آپریشن'' کے نام پر غریبوں کے مال و ٹھیلوں کو ضبط کرلیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں فائدہ راشی افسران و بھتہ خور گروپوں کو ہوتا ہے جب کہ غریب ٹھیلے والے اپنی بے بسی کا رونا روتے رہ جاتے ہیں۔

عین رمضان المبارک میں جب غریب بے روزگار افراد اپنی تنگدستی دور کرنے کے لیے چھوٹے کاروبار کررہے ہیں تجاوزات کے خلاف یہ آپریشن مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مناسب ہوگا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کی موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے، صرف مخصوص ایام ہی میں نہیں بلکہ پورے سال تجاوزات کو پنپنے سے روکا جائے نیز جو کالی بھیڑیں تجاوزات کے کاروبار میں شریک جرم ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
Load Next Story