داعش لیڈر کی ڈرون حملے میں موت

پاکستان،افغانستان،امریکا اورچین کوداعش کی موجودگی سےشدید تشویش ہےاوروہ اس کومستقبل میں اپنےلیےبڑا خطرہ تصور کر رہےہیں

داعش وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عراق سے نکل کر افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں قوت پکڑتی جا رہی ہے۔فوٹو : فائل

افغان صوبے ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملے میں پاکستان اور افغانستان کے لیے داعش کا امیر حافظ سعید اورکزئی اپنے 30 ساتھیوں سمیت مارا گیا جب کہ جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے تحصیل لدھا میں فوجی آپریشن کے دوران جھڑپ میں نو دہشت گرد ہلاک اور چار فوجی جوان شہید ہو گئے۔

امریکی جاسوس طیاروں کا رواں ہفتے افغانستان میں یہ تیسرا سب سے بڑا حملہ تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق داعش کے دو کمانڈروں نے نامعلوم مقام سے فون کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان صوبے ننگر ہار کے ضلع آچن میں داعش کمانڈروں کا ایک اجلاس ہو رہا تھا کہ اچانک حملہ ہو گیا جس میں حافظ سعید اورکزئی مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق حافظ سعید کا تعلق پاکستان کی اورکزئی ایجنسی سے تھا اور وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ سے اختلافات کے بعد داعش میں شامل ہوا تھا' وہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی داعش کا امیر تھا۔ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر تھا تاہم بعد میں اس نے ٹی ٹی پی چھوڑ کر داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کی موت سے داعش کو ایک بڑا دھچکا پہنچا ہے' وہ دولت اسلامیہ کا حصہ بننے والے ان پانچ پاکستانی طالبان رہنمائوں میں سے ایک تھا جس کی علیحدگی اور داعش میں شمولیت کو پاکستانی طالبان نے بڑا نقصان قرار دیا تھا۔

حافظ سعید اورکزئی کو رواں برس 27 جنوری کو پاکستان اور افغانستان کے لیے داعش کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا' وہ بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا اور پاکستان میں مختلف مقامات پر دہشت گرد حملوں میں بھی ملوث رہا تھا۔ پاکستان اور افغانستان میں داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد افغان طالبان ہی کے وہ منحرف افراد ہیں جنھوں نے عراق میں داعش کے امیر المومنین ابوبکر البغدادی کو اپنا امیر تسلیم کر لیا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو افغان طالبان میں اختلافات کے حوالے سے تقسیم بڑھتی چلی جا رہی ہے' کچھ افراد بعض امور پر اختلافات رکھنے کے باعث ملا عمر کو چھوڑ کر داعش میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں لیکن یہ تقسیم افغان طالبان اور داعش کے درمیان باقاعدہ چپقلش کا روپ اختیار کر گئی ہے اور دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے، اس تناظر میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ تقسیم یونہی جاری رہی تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف افغان طالبان کمزور ہوتے چلے جائیں۔


طالبان اور داعش کے درمیان شروع ہونے والی جنگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے یہ جنگجو طالبان کے ٹھکانوں، ان کی قوت اور جنگی مہارت سے بخوبی آگاہ ہیں لہذا افغان طالبان کو بھی اس بدلتی ہوئی صورت حال اور آنے والے خطرات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے اور وہ اپنے بچائو کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ملا عمر کی قیادت میں افغان طالبان، افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جس کا مقصد مستقبل میں آنے والے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی بھی ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں داعش کی کارروائیوں سے پورے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

پاکستان' افغانستان' امریکا اور چین کو داعش کی موجودگی سے شدید تشویش ہے اور وہ اس کو مستقبل میں اپنے لیے بڑا خطرہ تصور کر رہے ہیں اس لیے امریکا نے داعش کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں' چند روز قبل بھی ننگر ہار میں ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سابق مرکزی ترجمان اور افغانستان میں داعش کا تیسرا بڑا رہنما شاہد اللہ شاہد اپنے 25 ساتھیوں سمیت مارا گیا تھا اب حافظ سعید اورکزئی بھی اپنے تیس ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ اس طرح خطے میں قوت پکڑنے سے قبل ہی داعش کے بڑے رہنمائوں کی ہلاکت سے اس تنظیم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کوئی بھی تنظیم کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر زیادہ دیر تک آگے نہیں بڑھ سکتی اور جلد ہی اس کا شیرازہ بکھر جاتا ہے مگر دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ داعش وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عراق سے نکل کر افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں قوت پکڑتی جا رہی ہے۔

آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جن کی اسے آشیر باد حاصل ہے جو اسے اسلحہ' فوجی تربیت اور مالی امداد فراہم کررہی ہیں۔ داعش کے قوت پکڑنے سے اس خطے میں چین کے تجارتی مفادات کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اس لیے اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان' افغانستان' امریکا' نیٹو اور چین مل کر لائحہ عمل طے کریں،اس سلسلے میں افغان طالبان بھی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ اگر ابھی سے اس خطرے کو روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہ کی گئی تو یہ بڑھتے بڑھتے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
Load Next Story