پیپلز پارٹی کا مستقبل

پیپلز پارٹی پنجاب کی نائب صدر فردوس عاشق اعوان کو پیپلز پارٹی کی سیاست سے سخت اعتراضات ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پیپلز پارٹی پنجاب کی نائب صدر فردوس عاشق اعوان کو پیپلز پارٹی کی سیاست سے سخت اعتراضات ہیں، محترمہ نے اسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول سے ملاقات کی اور انھیں پیپلز پارٹی کی اندرونی اور بیرونی خرابیوں سے آگاہ کیا، فردوس اعوان نے پنجاب کی نائب صدارت سے استعفیٰ بھی دیا لیکن ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا۔ بلاول نے ان کی شکایات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی۔ فردوس عاشق اعوان نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کو عملاً مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم بنا دیا گیا ہے۔

محترمہ نے سندھ حکومت کے بارے میں کہا کہ اس کی ناقص کارکردگی اور اس پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات نے پارٹی کو بدنام کر دیا ہے، محترمہ کو یہ شکایت ہے کہ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کے خلاف پیپلز پارٹی کی قیادت سخت ایکشن لینے کے بجائے اس کی بھرپور حمایت کر رہی ہے، جس کے سربراہ قائم علی شاہ ہیں۔ محترمہ نے پی پی کی قیادت کی پالیسی پر کئی تحفظات کا اظہار کیا لیکن ان کے بڑے تحفظات میں پیپلز پارٹی کو حکومت کی بی ٹیم بنانا اور سندھ کی صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناقص کارکردگی ہے اور یہ دونوں باتیں درست ہیں۔

2008ء کے الیکشن میں کامیابی اگرچہ بے نظیر بھٹو کی غیر متوقع موت کا صلہ ہے، عوام کے دلوں میں ہمدردانہ جذبات پیدا ہوگئے تھے اس کا اظہار انھوں نے 2008ء کے الیکشن میں کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتفاقات اور قسمت نے پی پی کو جو موقع دیا تھا اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے دیرینہ منشور کی روشنی میں عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی لیکن ہوا یہ کہ 2008ء سے 2013ء تک کرپشن اور نااہلیوں کے حوالے سے حکومت اس قدر بدنام ہو گئی کہ اسے پاکستان کی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت کہا جانے لگا۔ آصف علی زرداری سیاست کے مشاق کھلاڑی ضرور ہیں لیکن انھوں نے اپنی اس مہارت کو اسٹیٹس کو کے لیے ہی استعمال کیا، عوام کے مسائل حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، اسی رویے کی وجہ سے عوام پیپلز پارٹی سے مایوس ہوتے گئے، اور پیپلز پارٹی عوام سے دور ہوتی چلی گئی۔

ہر منتخب حکومت کا یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرے، اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت تیزی کے ساتھ عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تا کہ وہ عوام کی حمایت حاصل کر کے اپنی آئینی مدت پوری کر سکے، لیکن ہوا یہ کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے لیے ایک ایسی ناقص پالیسی پر عمل پیرا ہو گئی جسے اس نے مفاہمتی پالیسی کا نام دیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اپوزیشن اس کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے اور اپوزیشن کے تعاون سے وہ اپنی آئینی مدت پوری کر لے چونکہ اپوزیشن کی سب سے بڑی طاقت پنجاب میں اقتدار کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) تھی لہٰذا پی پی کی مفاہمتی پالیسی میں سب سے بڑا کردار مسلم لیگ (ن) نے ہی ادا کیا۔


مسلم لیگ (ن) چونکہ پنجاب تک محدود تھی اور اس کی نظریں مرکزی حکومت پر لگی ہوئی تھیں سو اس کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ پی پی حکومت کے لیے مشکلات نہ پیدا کرے اور پی پی حکومت کو ہر برائی ہر نااہلی کا موقع فراہم کرے تا کہ 2013ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا خطرہ باقی نہ رہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو سمجھنے کے بجائے اس کے تعاون کو اپنی حمایت سمجھا اور کھل کر وہ کھیل کھیلنے لگی جو مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے عین مطابق تھا۔

پیپلز پارٹی کے جیالے ہمیشہ ایک زرداری سب پہ بھاری کے نعرے لگاتے رہے لیکن ان مضمرات کو سمجھنے سے قاصر رہے جو مفاہمتی پالیسی کا منطقی نتیجہ ثابت ہوئے، 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی اور پیپلز پارٹی کا اس بری طرح صفایا ہو گیا کہ وہ سندھ کے دیہی علاقوں کی پارٹی بن کر رہ گئی، لیکن حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ اب پیپلز پارٹی سندھ کے دیہی علاقوں کی پارٹی بھی نہیں رہی بلکہ سکڑ کر وزیر اعلیٰ ہاؤس تک محدود ہو گئی ہے، اس پر ستم یہ کہ پیپلز پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں اور وزراء پر کرپشن کے کھلے الزامات لگنے لگے اور ان کی گرفتاریوں کے امکانات واضح ہوگئے، سندھ حکومت کے سابق وزراء اور پی پی کے رہنما ان ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے یا تو ضمانت قبل از گرفتاری کرانے میں مصروف ہو گئے یا بیرون ملک نکل جانے کی کوششیں کرنے لگے۔ زرداری اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے بیرون ملک جانے کو اس تناظر میں دیکھا جانے لگا اور ان کی غیر متوقع واپسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا۔

حالات کی پراسرار تبدیلیوں کی وجہ سے بلاول بھٹو اور آصف زرداری پاکستان واپس آ گئے ہیں اور بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بلاول ناراض کارکنوں کو ذاتی طور پر منانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پنجاب میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلاول کا کارکنوں کو راضی کرنا اتنا آسان نہیں۔ مخلص کارکنوں کے علاوہ ہر بڑی پارٹی میں ایسے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے جو ہوا کا رخ دیکھ کر پارٹی میں رہنے یا پارٹی چھوڑنے کے فیصلے کرتی ہے۔ امکان یہ ہے کہ ایسے موسمی پرندے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور وہ کسی بھی وقت پارٹی بدلنے کے ایسے اجتماعی فیصلے کر سکتے ہیں جن سے پارٹیوں کے بھٹے بیٹھ جاتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کوئی معجزہ ہی پیپلز پارٹی کو ڈوبنے سے بچا سکے لیکن ایک راستہ ایسا موجود ہے جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت یعنی بلاول عمل کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان تمام بدنام رہنماؤں کو پارٹی سے فارغ کر دیا جائے جن کی وجہ سے پارٹی کو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے اور محض شہیدوں کی سیاست کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے اصل منشور پر عملدرآمد کیا جائے جس کی وجہ پی پی کو عوام میں پذیرائی ملی اور عوام پیپلز پارٹی کی طاقت بنے۔ اس منشور کے مطابق پیپلز پارٹی پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں مزدور کسان راج لانے کی طرف پیش قدمی کرے اور اس کی ابتدا زرعی اصلاحات سے کرے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بھٹو مرحوم ہی کے زمانے سے پارٹی پر وڈیروں نے قبضہ کر لیا تھا اور منشور سے مخلص رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ کیا بلاول زرداری وڈیروں کو پارٹی سے نکال کر زرعی اصلاحات کو پارٹی کا اولین مقصد بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں؟
Load Next Story