بھارتی کوئلہ بجلی گھروں نے کراچی کے شہریوں کوڈسارپورٹ

راجستھان کے بجلی گھر زہریلا دھواں چھوڑتے ہیں، معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا جائے

ذرائع کے مطابق کراچی میں گرمی کی لہر کی دیگر وجوہ میں گرین بیلٹ اورسبزے کا کم ہونا بھی ہے :فوٹو: فائل

لاہور:
کراچی میں شدید گرمی سے بڑے پمانے پر ہلاکتوں کی وجوہ جاننے والی کمیٹی نے بھارتی ریاست راجستھان میں بجلی سے چلنے والے کوئلہ پاور پلانٹس کو اموات کا ذمے دار قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ راجستھانی علاقہ تھمبلی میں واقع گرال کول پلانٹ کی حرارت نے کراچی کے شہریوں کو ڈسا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق ڈی جی محکمہ موسمیات قمر الزمان چوہدری کی سربراہی میں کمیٹی میں محکمہ صحت، محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور دیگر محکموں کے نمائندے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ کے ابتدائی مندرجات کے مطابق راجستھانی علاقہ تھمبلی میں واقع گرال کول پلانٹ کی حرارت نے کراچی کے ڈیڑھ ہزار شہریوں کو موت کی وادی میں پہنچایا۔ گرال کول پلانٹ صوبہ سندھ سے صرف چند سو کلومیٹر دور واقع ہے جس کے دھوئیں کا رخ سندھ میں داخل ہونے کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ راجھستان میں واقع برسنگ سر، صورت گڑھ ، کوٹا ، چھابڑا بجلی گھر کوئلہ سے چلتے ہیں اورزہریلا دھواں چھوڑتے ہیں اوراگراس معاملے کو سفارتی سطح پر نہ اٹھایا گیا تو کراچی اس سے متاثر ہوتا رہے گا۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں گرمی کی لہر کی دیگر وجوہ میں گرین بیلٹ اورسبزے کا کم ہونا بھی ہے جبکہ پانی کی عدم دستیابی اور بجلی کی بندش نے بھی ہلاکتوں میں اضافہ کیا۔ کمیٹی اپنی رپورٹ 15 جولائی کو حکومت کے سامنے پیش کرے گی۔
Load Next Story