ملالہ قابل فخر مثال

القاعدہ اور طالبان مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے جدید طرز زندگی کو پامال کرنا چاہتے ہیں

tauceeph@gmail.com

ملالہ یوسف زئی نے جرأت کا اظہار کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے حق کے لیے مذہبی انتہا پسندی کو چیلنج کیا تھا۔

سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کی اہم خصوصیت مذہبی انتہا پسندی تھی۔ القاعدہ اور طالبان مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے جدید طرز زندگی کو پامال کرنا چاہتے ہیں، یہ رجعت پسند مخصوص ذہن انسانی سماج کو پتھروں کے دور میں منتقل کرنے کے خواہاں ہیں اور اپنے راستے کی رکاوٹ بننے والے انسانوں کو خواہ وہ عورتیں اور بچے ہی کیوں نہ ہوں، کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹے جائیں اور 1988سے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو افغانستان میں افغان مجاہدین کی برتری کے ساتھ ہی انتہا پسندی کے رجحانات میں تقویت، جدید تعلیمی نظام کے خاتمے، خواتین کو گھروں تک محدود رکھنے کی صورتحال واضح ہوتی نظر آتی ہے اور اس صورتحال کے اثرات پاکستانی معاشرے پر رونما ہونے لگتے ہیں۔

یہ ہی وہ دور ہے کہ مذہبی رہنمائوں، بیوروکریٹس، پولیس آفیسر، اساتذہ، ڈاکٹروں، وکلا کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوتی ہے اور ان وارداتوں میں ملوث افراد کی گرفتاری میں پولیس کامیاب نہیں ہوتی۔ اس وقت پولیس حکام دبے لفظوں میں صحافیوں کو اس حقیقت سے آشنا کراتے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی کمین گاہیں قبائلی علاقے اور افغانستان میں قائم ہیں۔ پولیس اور قانون سازی کرنے والے ادارے ان کمین گاہوں کو ختم نہیں کرسکتے، پھر یہ خبریں بھی عالمی ذرایع ابلاغ میں شایع ہوتی ہیں کہ پاکستان کی بعض قوتیں افغانستان میں متحرک افغان گروہوں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔

بعد ازاں بے نظیر بھٹو دور کے وزیر داخلہ میجر جنرل (ر) نصیراﷲ بابرخیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مدرسوں کے طالب علموں کو منظم کرتے ہیں اور طالبان ملاعمر کی قیادت میں پہلے قندھار میں اپنی حکومت قائم کرتے ہیں، پھرکابل کا تخت ان کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔ طالبان کی حکومت خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کردیتی ہے، خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کردیا جاتا ہے، سرکاری ریڈیو سے موسیقی نشر کرنے پر پابندی لگادی جاتی ہے، فنکاروں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔

کوئٹہ سے فٹبال میچ کھیلنے کے لیے قندھار جانیوالی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اس جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے کہ وہ نیکر پہن کر میچ کھیل رہے تھے، یوں یہ نوجوان فحاشی پھیلانے کے مرتکب ہوتے تھے اس کے ساتھ افغانستان سے متصل قبائلی علاقوں میں خواتین کے اسکولوں کو بند کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے، بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو غیر اسلامی قرار دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ قبائلی علاقوں میں فرائض انجام دینے والی خواتین جن میں اساتذہ، ڈاکٹر اور غیر سرکاری تنظیموںمیں کام کرنے والی خواتین شامل ہیںکو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔


نائن الیون کا واقعہ رونما ہوتا ہے، امریکا اور اتحادی فوجیں کابل پر قبضہ کرلیتی ہیں۔ القاعدہ اور طالبان کے لوگ تورا بورا سے پاکستانی علاقے میں داخل ہوجاتے ہیں، انھیں قبائلی علاقوں خاص طور پر شمالی اور جنوبی وزیرستان میں محفوظ پناہ گاہیں مل جاتی ہیں۔ یہ انتہا پسند عناصر قبائلی علاقوں میں صر ف خواتین کے اسکولوں کو نشانہ بناتے ہیں، اس طرح برسر روزگار خواتین کی زندگی کو اجیرن کردیا جاتا ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے خلاف مذموم مہم چلائی جاتی ہے۔ پیدا ہونے والے بچوں کو لگائی جانے والی ویکسین کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ جب پاکستانی فوج ان عناصر کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو فوجی تنصیبات نشانہ بنتی ہیں۔

سوات میں 90 کی دھائی کے آخری حصے میں صوفی محمد کی شریعت کے نفاذ کی تحریک ابھرتی ہے، جب بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں آفتاب شیر پائو سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے صوفی محمد سے سوات میں شریعت کے نفاذ پر معاہدہ کیا تھا مگر انتخابات میں صوفی محمد کی کوئی حیثیت نظر نہیں آئی۔ 2002 کے بعد ان کے داماد مولانا فضل اﷲ ایف ایم ریڈیوکے ذریعے مشہور ہوئے، انھوں نے اپنے ایف ایم ریڈیوکے ذریعے لوگوں کو متحرک کرنا شروع کیا، ان کی تقاریر کا ایک رخ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا اور ان کی سرگرمیوں کو گھروں تک محدود کرنا تھا۔ مولانا فضل اﷲ نے انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی، وہ کبھی بھی مردوں کی تعلیم کے خلاف نہیں رہے مگر ان کا کہنا تھا کہ مغربی تعلیم خواتین کے ذہنوں کو بغاوت پر اکساتی ہے۔

طالبان نے سوات پر قبضہ کیا، اس دور میں مزاروں کو بارود سے اڑا دیا گیا، اقلیتوں کے حقوق پامال کیے گئے، کئی افراد کو سرعام پھانسی دی دے گئی۔ اسی زمانے میں ایک لڑکی کو کوڑے مارے گئے اور اس واقعے کی ویڈیو نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق لاہور سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین ڈاکٹر مولانا سرفراز نعیمی دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے۔ لاہور داتا دربار اور کراچی میں عبداﷲ شاہ غازیؒ کے مزار کو خودکش حملہ آوروں نے بارود سے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران صرف قبائلی علاقے میں خواتین کے 2 ہزار اسکولوں کو تباہ کیا گیا۔ اس انتہا پسندی کے خلاف سب سے پہلے مزاحمت پشتون مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کی، ان میں ادیب، دانشور، شاعر، خواتین، بچے سب شامل تھے، ملالہ ان سب میں شامل تھی اور ان لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں۔

یہ روشن خیال عناصر سوات اورخیبر پختونخوا کی روشن خیال اور رواداری پر مبنی روایات کی پاسداری کے امین تھے۔ ہزاروں والدین کی طرح میاں افتخار بھی اپنے لخت جگر سے محروم ہوگئے۔ اسکولوں کے بہت سے بچے محض علم حاصل کرنے کی جستجومیں اپنی جان سے گئے، سیاسی کارکنوں، ادیبوں، فنکاروں، خواتین اور عام آدمیوں کی بڑی تعداد اپنی جان کی بازی ہار گئی مگر ملالہ اور اس کی ساتھی طالبات اور دہشت گردی میں شہید ہونے والے ہزاروں لوگوں کی قربانیوں نے رنگ پکڑ لیا، ملالہ اور اس کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملے کے بعد پورا پاکستان متحرک ہوگیا۔ طلبا، اساتذہ، خواتین، سیاسی کارکن، روشن خیال علما میدان میں نکل آئے۔ امریکا، برطانیہ، بھارت ہر طرف سے ملالہ پر حملے کی مذمت ہونے لگی۔ انتہاپسند مخصوص ذہن رکھنے والے تنہائی کا شکار ہوئے مگرکچھ عناصر نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، ان کا کہنا ہے کہ ملالہ کو علم کا منبع قرار دینے والے بھی اس صورتحال کے ذمے دار ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کی بعض شخصیات خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں مگر جب ان کے گھروں کی خواتین کے لیے جدید تعلیم لازمی ہوگئی تو انھوں نے اس صورتحال کو قبول کرلیا۔ طالبان نے افغانستان کی خواتین پر تعلیم کے دروازے بند کیے اور قبائلی علاقوں میں خواتین کے اسکولوں کو بارود سے اڑایا تو بعض سیاستدانوں نے خاموشی اختیار کی، اگرچہ عملی طورپر وہ طالبان کی پالیسی کے متضاد تجربہ پر عمل کررہے تھے، جب قاضی صاحب جماعت کے امیر تھے تو ان کے قریبی ساتھی اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ جماعت اسلامی طالبان کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتی مگر محض سیاسی فائدے کے لیے جماعت اسلامی نے بھی مبہم پالیسی اختیارکیے رکھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بعض سیاستدان ملالہ کے بارے میں منفی بیان دے کر انتخابی حکمت عملی کو پیش نظررکھ رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر منور حسن ان چند رہنمائوں میں شامل ہیں جنھوں نے ملالہ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے، شاید جماعت اسلامی میں بھی رجعت پسندوں اور اعتدال پسندوں میں کوئی کشمکش ہورہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو انتہاپسندانہ سوچ کے خاتمے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہر شخص اس بات پر یقین کرے کہ خواتین کی تعلیم ضروری ہے، خواتین جب تک معاشی جدوجہد میں شامل نہیں ہوں گی غربت و افلاس ختم نہیں ہوگی۔ ملالہ نے سوات میں طالبان کے دور میں گل مکئی کے قلمی نام سے بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر ڈائری لکھ کر تعلیم سے محروم کردینے والی لڑکیوں کے کرب سے دنیا کو آگاہ کیا تھا، وہ پاکستان کے روشن چہرے کی علامت ہے، ہر شہری کو ملالہ پر فخر ہے۔
Load Next Story