ریونیو ہدف کے لیے زبردستی ایڈوانس ٹیکس لینے کا انکشاف
ایف بی آرافسران نے30جون کوہیڈآفس آکر1.3ارب کاایڈوانس ٹیکس لینے کیلیے انتہائی غیرمناسب رویہ اختیارکیا،بیوریجزکمپنی
ٹیکس جمع نہ کرانے پرسنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں،فرم عہدیدار کا چیئرمین ایف بی آرکوفون۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے افسران کی جانب سے گزشتہ مالی سال 2014-15 کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے بیوریجز سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بڑے ٹیکس دہندگان سے زبردستی ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ انکشاف بیوریجز سیکٹر سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی کمپنی کی جانب سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) طارق باجوہ کو لکھے جانے والے خط میں کیا گیا ہے۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب مذکورہ خط کی کاپی کے مطابق ایک بڑی بیوریجز کمپنی کے اعلیٰ افسر نے پہلے چیئرمین ایف بی آر کو 30 جون کو ٹیلی فون کرکے اپنے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا اوراپنے خط میں چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
خط میں چیئرمین ایف بی آرکو آگاہ کیا گیا ہے کہ 30 جون 2015 کو ایف بی آر کے 2افسران نے ان کی کمپنی کے ہیڈآفس آکر انتہائی غیر مناسب رویہ اختیار کیا اور ایف بی آرکے ان افسران نے مطالبہ کیا کہ 1 ارب 30 کروڑ روپے بطور ایڈوانس ٹیکس جمع کرایا جائے تاکہ وہ 2014-15 کے لیے اپنے ریونیو اہداف پورے کرسکیں۔
خط میں مذکورہ کمپنی کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو بتایا گیا کہ زبردستی ایڈوانس ٹیکس کے لیے آنے والے ایف بی آر کے افسران کو بتایا گیا کہ انکی کمپنی کے استنبول میں واقع پرنسپل آفس سے مذکورہ رقم بطور ایڈوانس ٹیکس ایف بی آر کو فراہم کرنے کی ابھی منظوری نہیں ملی اور انہیں درخواست کی گئی کہ پرنسپل آفس سے منظوری کا انتظار کریں لیکن ایف بی آر کے ان افسران نے انتہائی غیر مناسب رویہ اپنایا اور 1ارب 30 کروڑ روپے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں فراہم نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
لیٹر میں کہا گیاکہ ان کی کمپنی گزشتہ4 سال میں ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے میں اربوں روپے جمع کراچکی ہے جبکہ گزشتہ 5 سال کے دوران ان کی کمپنی نے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور ان کی کمپنی ایمانداری سے اپنے ٹیکس واجبات جمع کرارہی ہے، اس کے علاوہ تمام مقامی قوانین کا احترام کرتی ہے اور ان پر مکمل عملدرآمد کرتی ہے اور تمام حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتی ہے۔ مذکورہ کمپنی کے ذمہ دار نے اپنے لیٹر میں لکھا کہ وہ چیئرمین ایف بی آر کی تجویز کے مطابق جلد چیئرمین ایف بی آر آفس آکر ملاقات بھی کریں گے اور ماضی کی طرح آئندہ بھی ایف بی آر کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے افسران کی جانب سے گزشتہ مالی سال 2014-15 کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے بیوریجز سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بڑے ٹیکس دہندگان سے زبردستی ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ انکشاف بیوریجز سیکٹر سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی کمپنی کی جانب سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) طارق باجوہ کو لکھے جانے والے خط میں کیا گیا ہے۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب مذکورہ خط کی کاپی کے مطابق ایک بڑی بیوریجز کمپنی کے اعلیٰ افسر نے پہلے چیئرمین ایف بی آر کو 30 جون کو ٹیلی فون کرکے اپنے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا اوراپنے خط میں چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
خط میں چیئرمین ایف بی آرکو آگاہ کیا گیا ہے کہ 30 جون 2015 کو ایف بی آر کے 2افسران نے ان کی کمپنی کے ہیڈآفس آکر انتہائی غیر مناسب رویہ اختیار کیا اور ایف بی آرکے ان افسران نے مطالبہ کیا کہ 1 ارب 30 کروڑ روپے بطور ایڈوانس ٹیکس جمع کرایا جائے تاکہ وہ 2014-15 کے لیے اپنے ریونیو اہداف پورے کرسکیں۔
خط میں مذکورہ کمپنی کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو بتایا گیا کہ زبردستی ایڈوانس ٹیکس کے لیے آنے والے ایف بی آر کے افسران کو بتایا گیا کہ انکی کمپنی کے استنبول میں واقع پرنسپل آفس سے مذکورہ رقم بطور ایڈوانس ٹیکس ایف بی آر کو فراہم کرنے کی ابھی منظوری نہیں ملی اور انہیں درخواست کی گئی کہ پرنسپل آفس سے منظوری کا انتظار کریں لیکن ایف بی آر کے ان افسران نے انتہائی غیر مناسب رویہ اپنایا اور 1ارب 30 کروڑ روپے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں فراہم نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
لیٹر میں کہا گیاکہ ان کی کمپنی گزشتہ4 سال میں ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے میں اربوں روپے جمع کراچکی ہے جبکہ گزشتہ 5 سال کے دوران ان کی کمپنی نے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور ان کی کمپنی ایمانداری سے اپنے ٹیکس واجبات جمع کرارہی ہے، اس کے علاوہ تمام مقامی قوانین کا احترام کرتی ہے اور ان پر مکمل عملدرآمد کرتی ہے اور تمام حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتی ہے۔ مذکورہ کمپنی کے ذمہ دار نے اپنے لیٹر میں لکھا کہ وہ چیئرمین ایف بی آر کی تجویز کے مطابق جلد چیئرمین ایف بی آر آفس آکر ملاقات بھی کریں گے اور ماضی کی طرح آئندہ بھی ایف بی آر کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔