تنازعہ کشمیر پر پاکستان کا موقف
مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے، مشیر خارجہ سرتاج عزیز
پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ’’بریک تھرو‘‘ تو نہیں مگر ایک اچھی شروعات تھی،سرتاج عزیز فوٹو:پی آئی ڈی/فائل
مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے گزشتہ روز اسلام آباد میںشنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں پاکستانی کی رکنیت اور اس دوران بھارت، چین،افغانستان اور روس کے رہنماؤں کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کی ملاقاتوں پر پریس بریفنگ دی۔ اس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اس اصولی موقف پر قائم ہے کہ مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے اور پاکستان کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
انھوں نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ''بریک تھرو'' تو نہیں مگر ایک اچھی شروعات تھی اور اس میں زیادہ تر کشیدگی میں کمی پر بات ہوئی۔ ہمیں مستقبل کے لیے بھی اچھی امید رکھنی چاہیے۔ جہاں تک ممبئی حملہ کیس اور ذکی الرحمان لکھوی کا تعلق ہے تو پاکستان کو اس معاملے پر بھارت سے مزید معلومات اور شواہد درکار ہیں۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ وزرائے عظم کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں تمام متنازعہ معاملات پر بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نواز شریف نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے بارے میں مزید معلومات مانگیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت، بلوچ علیحدگی پسندوں کی معاونت اور بھارتی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ہمیں ان معاملات پر تشویش ہے اور جب دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر ملیں گے تو ان پر بات ہوگی۔
روس کے شہر ''او فا ''میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہوا 'اس میں پاکستان اور بھارت کو تنظیم کا ممبر بنایا گیا ۔یہیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو تناؤ کی کیفیت ہے 'اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ملاقات خاصی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے دور رس اثرات سامنے آئیں گے تاہم ناقدین نے اعتراض اٹھایا کہ اس ملاقات کے بعد جو مشترکہ علامیہ جاری کیا گیا ۔
اس میں تنازع کشمیر کا ذکر نہیں ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اسی حوالے سے وضاحت کی ہے کہ تنازع کشمیر پر پاکستان کے موقف پر کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں تمام متنازعہ امور پر بات کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان جب بھی کوئی ملاقات ہوتی ہے تو دونوں ملکوں میں ایسی آوازیں اٹھتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ فلاں معاملے پر بات نہیں ہوئی ۔بہر حال جناب سرتاج عزیز کی پریس بریفنگ سے صورت حال خاصی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی راہ میں تنازعہ کشمیر بڑی رکاوٹ ہے ۔ایسا ممکن نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم ایک دوسرے سے ایک گھنٹے کی ملاقات کریں اور اس پر متنازعہ معاملات پرکوئی گفتگو نہ ہو۔ مشترکہ علامیہ ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس میں لفظوں کا ہیر پھیر ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر کوئی ملک اپنی فتح کا اعلان کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے شکست سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تنازعات موجود ہیں 'ان کی حقیقت سے بھارت انکار کر سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان ۔یہ باہمی تنازعات محض اس لیے حل نہیں ہو رہے کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تنازعہ کشمیر تو خیر بڑا تنازعہ ہے 'ابھی تک نسبتاً چھوٹے تنازعات پر بھی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ سیاچن نسبتاً چھوٹا تنازعہ ہے 'دونوں ملکوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے ہیں لیکن اس تنازع کا بھی کوئی حل نہیں نکالا جا سکا۔ آبی تنازعات کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے ۔ان تنازعات پر بھی لڑائی جھگڑا جاری ہے ۔
سرکریک کا تنازعہ بھی بدستور قائم ہے ۔دونوں ملکوں کی قیادت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے نئے سے نئے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ نئے تنازعات پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ پرانے تنازعے حل نہیں ہورہے ۔اگر پرانے تنازعے حل ہو جائیں تو نئے تنازعے پیدا نہیں ہوں گے۔ روس کے شہر ''اوفا ''میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کے مابین جو ملاقات ہوئی ہے 'اس کے خوشگوار اثرات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بھارتی وزیراعظم پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دونوں ملکوں کی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ تنازعہ کشمیر پر پیشرفت کریں اور نسبتاً چھوٹے تنازعات کو مکمل طور پر طے کرنے کا میکنزم تیار کر لیں۔ اگر سیاچن 'سرکریک اور آبی تنازعات حتمی طور پر طے ہوجاتے ہیں تو پھر تنازعہ کشمیر کے حل کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ''بریک تھرو'' تو نہیں مگر ایک اچھی شروعات تھی اور اس میں زیادہ تر کشیدگی میں کمی پر بات ہوئی۔ ہمیں مستقبل کے لیے بھی اچھی امید رکھنی چاہیے۔ جہاں تک ممبئی حملہ کیس اور ذکی الرحمان لکھوی کا تعلق ہے تو پاکستان کو اس معاملے پر بھارت سے مزید معلومات اور شواہد درکار ہیں۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ وزرائے عظم کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں تمام متنازعہ معاملات پر بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نواز شریف نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے بارے میں مزید معلومات مانگیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت، بلوچ علیحدگی پسندوں کی معاونت اور بھارتی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ہمیں ان معاملات پر تشویش ہے اور جب دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر ملیں گے تو ان پر بات ہوگی۔
روس کے شہر ''او فا ''میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہوا 'اس میں پاکستان اور بھارت کو تنظیم کا ممبر بنایا گیا ۔یہیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو تناؤ کی کیفیت ہے 'اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ملاقات خاصی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے دور رس اثرات سامنے آئیں گے تاہم ناقدین نے اعتراض اٹھایا کہ اس ملاقات کے بعد جو مشترکہ علامیہ جاری کیا گیا ۔
اس میں تنازع کشمیر کا ذکر نہیں ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اسی حوالے سے وضاحت کی ہے کہ تنازع کشمیر پر پاکستان کے موقف پر کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں تمام متنازعہ امور پر بات کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان جب بھی کوئی ملاقات ہوتی ہے تو دونوں ملکوں میں ایسی آوازیں اٹھتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ فلاں معاملے پر بات نہیں ہوئی ۔بہر حال جناب سرتاج عزیز کی پریس بریفنگ سے صورت حال خاصی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی راہ میں تنازعہ کشمیر بڑی رکاوٹ ہے ۔ایسا ممکن نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم ایک دوسرے سے ایک گھنٹے کی ملاقات کریں اور اس پر متنازعہ معاملات پرکوئی گفتگو نہ ہو۔ مشترکہ علامیہ ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس میں لفظوں کا ہیر پھیر ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر کوئی ملک اپنی فتح کا اعلان کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے شکست سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تنازعات موجود ہیں 'ان کی حقیقت سے بھارت انکار کر سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان ۔یہ باہمی تنازعات محض اس لیے حل نہیں ہو رہے کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تنازعہ کشمیر تو خیر بڑا تنازعہ ہے 'ابھی تک نسبتاً چھوٹے تنازعات پر بھی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ سیاچن نسبتاً چھوٹا تنازعہ ہے 'دونوں ملکوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے ہیں لیکن اس تنازع کا بھی کوئی حل نہیں نکالا جا سکا۔ آبی تنازعات کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے ۔ان تنازعات پر بھی لڑائی جھگڑا جاری ہے ۔
سرکریک کا تنازعہ بھی بدستور قائم ہے ۔دونوں ملکوں کی قیادت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے نئے سے نئے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ نئے تنازعات پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ پرانے تنازعے حل نہیں ہورہے ۔اگر پرانے تنازعے حل ہو جائیں تو نئے تنازعے پیدا نہیں ہوں گے۔ روس کے شہر ''اوفا ''میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کے مابین جو ملاقات ہوئی ہے 'اس کے خوشگوار اثرات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بھارتی وزیراعظم پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دونوں ملکوں کی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ تنازعہ کشمیر پر پیشرفت کریں اور نسبتاً چھوٹے تنازعات کو مکمل طور پر طے کرنے کا میکنزم تیار کر لیں۔ اگر سیاچن 'سرکریک اور آبی تنازعات حتمی طور پر طے ہوجاتے ہیں تو پھر تنازعہ کشمیر کے حل کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔