کراچی میں بجلی کا بدترین بحران

روشنیوں کے شہر میں ایک ہفتے کے دوران 4 بڑے بریک ڈاؤن ہوئے جس سے شہر کے 90 فیصد سے زائد علاقے بجلی سے محروم رہے۔

کراچی میں بجلی بحران پر وفاقی حکومت‘ کے الیکٹرک اور سندھ حکومت کا موقف الگ الگ ہے،فوٹو: فائل

ماضی میں عروس البلاد کہلانے والا شہر کراچی آج اندھیروں کا شہر بن رہا ہے، گزشتہ روز ایک ہفتے میں بجلی کا چوتھا بڑا بریک ڈاؤن ہوا ہے جس کے نتیجے میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب شہر کے 90 فیصد سے زائد علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔

شہریوں کو سحری اندھیرے میں کرنی پڑی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کراچی کے بیشتر علاقوں میں پیر کی دوپہر تک بھی بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی تھی۔ اس بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے جام شورو' کے ڈی اے' پیپر گرڈ میں خرابی کے باعث عین سحری کے وقت بجلی کی فراہمی بڑے پیمانے پر مطلع ہو گئی' اس سے پہلے ایک اور بریک ڈاؤن کے باعث شہر کے ایک چوتھائی حصے میں بجلی پہلے ہی بند تھی۔

یوں تقریباً پورا کراچی شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ گرمی کا موسم' اوپر سے ماہ صیام اور پھر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور بریک ڈاؤن نے شہریوں کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا اور وہ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آئے' انھوں نے ٹائروں کو آگ لگائی اور نعرے بازی کی۔ احتجاج کے باعث کراچی کے بیشتر علاقوں میں ٹریفک جام ہو گیاجس سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جس بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے' اسے بیان کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ ارباب اختیار حالات سے پوری طرح آگاہ ہیں' عجیب بات ہے کہ وفاقی حکومت کے نمایندے اپنا لاگ الاپ رہے ہیں' کے الیکٹرک کی انتظامیہ اپنا موقف دے رہی ہے جب کہ سندھ حکومت اپنا شور مچا رہی ہے۔

کوئی کہتا ہے کہ اگر بجلی کے نظام میں بہتری نہ آئی تو کے الیکٹرک کو ٹیک اوور کر لیں اور کوئی فرما رہا ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف مقدمات درج کرائیں گے لیکن کراچی میں لوڈشیڈنگ بدستور جاری ہے بلکہ اس کے دورانیے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی میں 12 سے 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور گھنٹوں پر محیط بریک ڈاؤنز الگ ہیں۔


اس صورت حال سے کراچی میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ادھر بجلی جانے کے ساتھ ہی پانی کا بحران بھی مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کیوں ہو رہی ہے' بریک ڈاؤن کیوں ہو رہا ہے۔ یہ سب ٹیکنیکل اور حسابی کتابی معاملات ہیں جو عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتے' انھیں تو صرف یہ سمجھ آ رہی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ طویل سے طویل ہوتا جا رہا ہے' وفاقی حکومت کا اپنا سچ ہے' کے الیکٹرک کا اپنا سچ ہے اور سندھ حکومت اپنا سچ بول رہی ہے لیکن اس سارے کھیل میں استحصال عوام کا ہو رہا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرانسمیشن اورہائی ٹینشن لائنوں کی بروقت مینٹی ننس نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی ترسیل کانظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے ۔بجلی کی طلب بڑھتی ہے تو ٹرانسمیشن سسٹم جواب دے جاتا ہے'بڑھتے ہوئے بریک ڈاؤنزکی بنیادی وجہ یہی ہے۔کاپروائر کی جگہ المونیم وائرکا استعمال بھی بریک ڈاؤن کی وجہ ہو سکتا ہے،کراچی پاکستان کا سب سے بڑا معاشی وتجارتی حب ہے ، بجلی کے بریک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کے باعث کراچی میں کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں مانند پڑ رہی ہیں،اور بیروز گاری میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ہر کوئی اس بحران پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہا ہے ، سندھ حکومت اس کی ذمے داری وفاقی حکومت پر ڈالتی ہے اور وفاقی حکومت یہ کہہ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتی ہے کہ کے الیکٹرک ایک نجی پاور کمپنی ہے۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کے الیکٹرک اربوں روپے کے بل تو وصول کر رہی ہے لیکن وہ یہاں کے ترسیلی نظام اور سسٹم پر کچھ خرچ نہیں کررہی۔کراچی اور ملک بھر میں بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

اخبارات میں بجلی پیدا کرنے کے بڑے بڑے منصوبے نظر آ رہے ہیں۔لیکن عملی صورت حال یوں ہے کہ اگر بجلی زائد پیدا کر بھی لی جائے تو بجلی کی ترسیل کا نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ وہ زیادہ بجلی کا لوڈ برداشت نہیں کر سکتا۔ برسوں سے جاری کرپشن اور نااہلی اب اپنی آخری حدود میں داخل ہو گئی ہے۔ بجلی کی ترسیل کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اور اسے جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔

اسی طرح بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر بھی بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ حالات کو بہتر کرنے کے لیے کوئی عملی کوشش سامنے نہیں آ رہی۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو خود مختاری دی گئی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کے معاملات میں صوبوں کو مزید اختیارات ملنے چاہئیں۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مل کر ایسا میکنزم تشکیل دیں جس کے تحت بجلی کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی جا سکے۔ ابھی وقت موجود ہے 'آج سے ہی اگر بہتری کا عمل شروع کر دیا جائے تو آنے والے چند برسوں میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں' اگر معاملہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رہا تو پھر بجلی کا بحران ناقابل حل ہو جائے گا۔
Load Next Story