مسماۃ پی پی پی کا روگ
ہمارے ایک دوست کی تنخواہ پوری نہیں پڑ رہی تھی کیوں کہ نادانی میں وہ پورے بارہ کھلاڑیوں کی ٹیم اپنے گھر میں بنا چکے تھے
barq@email.com
محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ہم بدین وجہ ناراض نہیں ہیں کہ انھوں نے اپنی ایک مریضہ مسماۃ پی پی پی کے علاج سے ہاتھ اٹھا لیا ہے یا اس کی صحت کی طرف سے مایوسی کا اعلان کیا ہے، یہ ڈاکٹر اور مریض کا آپسی معاملہ ہے اور اگر انھوں نے پریسکرپشن جاری کیا ہے کہ مریضہ کا علاج دواؤں سے ممکن نہیں بلکہ اسے سرجری کی ضرورت ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے، بلکہ ہماری ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی مریضہ اور اپنے ''انگنے'' سے خواہ مخواہ باہر نکل کر ''ہمارے انگنے'' میں مداخلت کی ہے۔
اس لیے ہم پہلے تو ان سے یہی کہنا چاہیں گے کہ میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے، جو ہے نام والا وہی تو بدنام ہے، بیان سے لگتا ہے کہ ان کا تعلق ایلوپیتھک طریقہ علاج سے ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر اپنی مریضہ اپنے طریقہ علاج اور اپنی پریسکرپشن سے باہر نکل کر ہومیو پیتھک طرز علاج اور اس کی گولیوں پر کیوں انگلی اٹھائی ہے یہ تو ''ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ'' والی بات ہو گئی، علاج تو وہ اپنی مریضہ کا ایلوپیتھک طریقے سے کر رہی ہیں اور دوش دیتی ہیں ہومیو پیتھک طرز علاج کو، یہ تو بہت ناانصافی ہے بلکہ اس سے ہمیں ایک بہت ہی پرانا ''حقیقہ'' یاد آیا ہے۔
ہمارے ایک دوست کی تنخواہ پوری نہیں پڑ رہی تھی کیوں کہ نادانی میں وہ پورے بارہ کھلاڑیوں کی ٹیم اپنے گھر میں بنا چکے تھے، چنانچہ جہاں بھی جو کچھ بھی اسے پیش آتا تھا اسے ''کم تنخواہ'' کے سر تھوپ دیتے تھے مثلاً ہم کہتے آج گرمی کچھ زیادہ ہے تو وہ تھڑ سے جواب دیتا ، گرمی زیادہ نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا ، یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ کوئی بارش نہ ہونے کی بات کرتا تو فرماتے، بارش ہو گی بھی کیسے یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ ایک دن اس کے بڑے بیٹے نے کرکٹ کھیلتے ہوئے اپنی ٹانگ تڑوا لی تو ۔۔۔ بچوں کی ٹانگیں ٹوٹیں گی نہیں تو اور کیا ہو گا یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔
پاکستان نے ورلڈ کپ نہیں جیتا تو ۔۔۔ پہلے ہی سے کہتا تھا کہ ہاریں گے نہیں تو اور کیا ہو گا یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ محمد علی کلے نے شکست کھائی تو دکھ بھرے لہجے میں بولا، اسے تو ہارنا ہی تھا یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو نہ جانے ہومیو پیتھک کی گولیوں سے کیا پرخاش ہے کہ ایلوپیتھک کے مریض پر خواہ مخواہ فقرہ چپکا دیا، جہاں تک ہماری معلومات ہیں ہومیو پیتھک طریقہ علاج عام طور پر غریب لوگ پسند کرتے ہیں اور پی پی پی غریبوں کی پارٹی تو ہے لیکن غریب نہیں ہے اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اس کا علاج ہومیو پیتھک طریقے سے کبھی نہیں ہو گا۔
اگر ہو گیا ہوتا تو اب تک صحت یاب ہو بھی چکی ہوتی اس معیار اور سطح کے مریض تو سرے سے ملکی اور دیسی علاج کے ہی قائل نہیں ہوتے اور وہ پھنسیوں اور گرمی دانوں کے علاج کے لیے بھی یورپ اور امریکا جاتے ہیں، ظاہر ہے کہ ایسا ہائی فائی مریض ہومیو پیتھک علاج کو کیسے پسند کر سکتا ہے بلکہ کسی ہومیو پیتھک معالج کا تو ایسے مقامات پر پٹخنا بھی ممکن نہیں ہے پھر آخر محترمہ نے ہومیو پیتھک گولیوں پر انگلی کیوں اٹھائی، ٹھیک ہے اگر اس کے خیال میں ان کی مریضہ مسماۃ پی پی پی کو سرجری کی ضرورت ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتیں کہ ''دواؤں'' سے اس کا علاج ممکن نہیں رہا ہے اور سرجری کے بغیر کوئی چارہ نہیں، حالانکہ ہمیں ان سے تھوڑا سا پیشہ ورانہ اختلاف ہے کیوں کہ موصوفہ نے یہ جو سرجری تجویز کی ہے یہ بھی شاید کچھ نہ کر پائے کیوں کہ ایسے کم زور مریض اکثر سرجری کے دوران ہی خرچ ہو جاتے ہیں بلکہ اگر تو ''انستھیزیا'' کی بھی تاب نہیں لا پاتے اور جس طرح خبروں میں ہوتا ہے دوسرے دن خبر لگتی ہے کہ مریض زخموں کی یا آپریشن کی یا بے ہوشی کی تاب نہ لاتے ہوئے بڑے اور آخری وارڈ میں منتقل ہو گیا۔
مریضہ ہذا یعنی مسماۃ پی پی پی کو نہ تو ہم نے قریب سے دیکھا ہے نہ ان کا معائنہ کر سکے ہیں اور نہ ہی کوئی رپورٹ وغیرہ پڑھی ہے اسے لیے کہہ نہیں سکتے، کہ بے چاری کا اصل روگ کیا ہے، ہماری معلومات یہاں وہاں سے سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں یا محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جیسے معالجوں کی پریسکرپشن کی حد تک ہیں جس سے مریضہ کی پوری کیفیت اور مرض کا پتہ نہیں چل پاتا مثلاً اب جو محترمہ نے کہا ہے کہ مریضہ کا علاج اب ہومیو پیتھک گولیوں سے ممکن نہیں اور اسے سرجری کی ضرورت ہے تو اس سے بھی مرض یا روگ پر کوئی روشنی نہیں پڑ رہی ہے کہ آخر اس دل نادان کو ہوا کیا ہے ۔ درد کی دوا تو محترمہ بتا گئی ہیں لیکن ''ہوا کیا ہے'' کا سوال اب بھی موجود ہے، ویسے ضروری تو نہیں کہ صرف ایک ہی معالج کی تشخیص کو حتمی قرار دیا جائے ویسے بھی سرجری کوئی یقینی علاج تو ہے نہیں یعنی
منحصر جب سرجری پر ہو امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
اس لیے ہم پہلے تو ان سے یہی کہنا چاہیں گے کہ میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے، جو ہے نام والا وہی تو بدنام ہے، بیان سے لگتا ہے کہ ان کا تعلق ایلوپیتھک طریقہ علاج سے ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر اپنی مریضہ اپنے طریقہ علاج اور اپنی پریسکرپشن سے باہر نکل کر ہومیو پیتھک طرز علاج اور اس کی گولیوں پر کیوں انگلی اٹھائی ہے یہ تو ''ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ'' والی بات ہو گئی، علاج تو وہ اپنی مریضہ کا ایلوپیتھک طریقے سے کر رہی ہیں اور دوش دیتی ہیں ہومیو پیتھک طرز علاج کو، یہ تو بہت ناانصافی ہے بلکہ اس سے ہمیں ایک بہت ہی پرانا ''حقیقہ'' یاد آیا ہے۔
ہمارے ایک دوست کی تنخواہ پوری نہیں پڑ رہی تھی کیوں کہ نادانی میں وہ پورے بارہ کھلاڑیوں کی ٹیم اپنے گھر میں بنا چکے تھے، چنانچہ جہاں بھی جو کچھ بھی اسے پیش آتا تھا اسے ''کم تنخواہ'' کے سر تھوپ دیتے تھے مثلاً ہم کہتے آج گرمی کچھ زیادہ ہے تو وہ تھڑ سے جواب دیتا ، گرمی زیادہ نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا ، یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ کوئی بارش نہ ہونے کی بات کرتا تو فرماتے، بارش ہو گی بھی کیسے یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ ایک دن اس کے بڑے بیٹے نے کرکٹ کھیلتے ہوئے اپنی ٹانگ تڑوا لی تو ۔۔۔ بچوں کی ٹانگیں ٹوٹیں گی نہیں تو اور کیا ہو گا یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔
پاکستان نے ورلڈ کپ نہیں جیتا تو ۔۔۔ پہلے ہی سے کہتا تھا کہ ہاریں گے نہیں تو اور کیا ہو گا یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ محمد علی کلے نے شکست کھائی تو دکھ بھرے لہجے میں بولا، اسے تو ہارنا ہی تھا یہ کوئی تنخواہیں ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو نہ جانے ہومیو پیتھک کی گولیوں سے کیا پرخاش ہے کہ ایلوپیتھک کے مریض پر خواہ مخواہ فقرہ چپکا دیا، جہاں تک ہماری معلومات ہیں ہومیو پیتھک طریقہ علاج عام طور پر غریب لوگ پسند کرتے ہیں اور پی پی پی غریبوں کی پارٹی تو ہے لیکن غریب نہیں ہے اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اس کا علاج ہومیو پیتھک طریقے سے کبھی نہیں ہو گا۔
اگر ہو گیا ہوتا تو اب تک صحت یاب ہو بھی چکی ہوتی اس معیار اور سطح کے مریض تو سرے سے ملکی اور دیسی علاج کے ہی قائل نہیں ہوتے اور وہ پھنسیوں اور گرمی دانوں کے علاج کے لیے بھی یورپ اور امریکا جاتے ہیں، ظاہر ہے کہ ایسا ہائی فائی مریض ہومیو پیتھک علاج کو کیسے پسند کر سکتا ہے بلکہ کسی ہومیو پیتھک معالج کا تو ایسے مقامات پر پٹخنا بھی ممکن نہیں ہے پھر آخر محترمہ نے ہومیو پیتھک گولیوں پر انگلی کیوں اٹھائی، ٹھیک ہے اگر اس کے خیال میں ان کی مریضہ مسماۃ پی پی پی کو سرجری کی ضرورت ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتیں کہ ''دواؤں'' سے اس کا علاج ممکن نہیں رہا ہے اور سرجری کے بغیر کوئی چارہ نہیں، حالانکہ ہمیں ان سے تھوڑا سا پیشہ ورانہ اختلاف ہے کیوں کہ موصوفہ نے یہ جو سرجری تجویز کی ہے یہ بھی شاید کچھ نہ کر پائے کیوں کہ ایسے کم زور مریض اکثر سرجری کے دوران ہی خرچ ہو جاتے ہیں بلکہ اگر تو ''انستھیزیا'' کی بھی تاب نہیں لا پاتے اور جس طرح خبروں میں ہوتا ہے دوسرے دن خبر لگتی ہے کہ مریض زخموں کی یا آپریشن کی یا بے ہوشی کی تاب نہ لاتے ہوئے بڑے اور آخری وارڈ میں منتقل ہو گیا۔
مریضہ ہذا یعنی مسماۃ پی پی پی کو نہ تو ہم نے قریب سے دیکھا ہے نہ ان کا معائنہ کر سکے ہیں اور نہ ہی کوئی رپورٹ وغیرہ پڑھی ہے اسے لیے کہہ نہیں سکتے، کہ بے چاری کا اصل روگ کیا ہے، ہماری معلومات یہاں وہاں سے سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں یا محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جیسے معالجوں کی پریسکرپشن کی حد تک ہیں جس سے مریضہ کی پوری کیفیت اور مرض کا پتہ نہیں چل پاتا مثلاً اب جو محترمہ نے کہا ہے کہ مریضہ کا علاج اب ہومیو پیتھک گولیوں سے ممکن نہیں اور اسے سرجری کی ضرورت ہے تو اس سے بھی مرض یا روگ پر کوئی روشنی نہیں پڑ رہی ہے کہ آخر اس دل نادان کو ہوا کیا ہے ۔ درد کی دوا تو محترمہ بتا گئی ہیں لیکن ''ہوا کیا ہے'' کا سوال اب بھی موجود ہے، ویسے ضروری تو نہیں کہ صرف ایک ہی معالج کی تشخیص کو حتمی قرار دیا جائے ویسے بھی سرجری کوئی یقینی علاج تو ہے نہیں یعنی
منحصر جب سرجری پر ہو امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے