کرپشن جرائم اور حکومتیں
کرپشن، جرائم اورحکومتوں کا قریبی تعلق ہی نہیں، بلکہ سیاست کے ذریعے حکومتیں بنتی ہی کرپشن اور جرائم کے لیے ہیں
BEIJING:
کرپشن جرائم اور حکومتوں کا ایک دوسرے سے قریبی تعلق ہی نہیں، بلکہ ملک میں سیاست کے ذریعے حکومتیں بنتی ہی کرپشن اور جرائم کے لیے ہیں۔ ہمارے ملک کی کسی ایک سیاسی جماعت پر بھی دیانتداری کا لیبل لگا ہوا نہیں مگر ہر جماعت کا دعویٰ یہی ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ملک کی ہر مذہبی اور سیاسی جماعت کے علاوہ ہمارا گزشتہ 35 سالوں میں کون سا ایسا وزیر اعظم رہا ہے جس پر کرپشن، اقربا پروری اور غیر قانونی اقدامات کا الزام نہ لگا ہو۔ ہمارا کوئی فوجی یا سیاسی حکمران نہیں رہا جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید ملت لیاقت علی خان کے نقش قدم پر چلنے کا دعویدار رہا ہو۔ گزشتہ 35 برسوں میں وفاق میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مختصر اور طویل حکومتیں رہیں، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور محمد خان جونیجو ہی ایسے حکمران نظر آتے ہیں جن پر ذاتی طور پر کرپشن کے الزامات نہیں لگے مگر ان کی حکومتیں بدعنوانیوں، غیر قانونی اقدامات اور اقربا پروری سے پاک نہیں تھیں۔
سابق صدر، سابق وزرائے اعظم پر بدعنوانیوں کے شدید الزامات ہی نہیں لگے بلکہ مقدمات بھی قائم ہوئے مگر انھوں نے کرپشن کے الزامات کو سیاسی اور انتقامی قرار دیا اور کسی پر کرپشن ثابت نہ کی جا سکی کیونکہ ہمارے ملک میں کرپشن ثابت کرنے کا کوئی موثر نظام ہے ہی نہیں اور موجودہ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی دوسری حکومت میں اعتراف کیا تھا کہ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور کرپشن ایسے ٹیکنیکل طریقوں سے کی جاتی ہے جو ثبوت نہیں چھوڑتی اور کرپٹ شخص نہ صرف صاف بچ جاتا ہے بلکہ دیانتداری کے دعوے کرتا بھی نہیں تھکتا۔
ماضی میں بدعنوانیوں کے الزامات میں نواز شریف، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری کے خلاف عدالتوں میں ریفرنس داخل ہوئے مگر کوئی ثابت نہیں ہوا۔ یہ لوگ جب اپوزیشن میں آئے تو انھوں نے مقدمات کو حکومت کا انتقام قرار دیا اور جب یہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو ہر مقدمے میں بری ہوتے گئے کیونکہ صاحب اقتدار کے خلاف گواہی اور ثبوت کہاں سے آ سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو سکا۔
موجودہ حکومت میں نیب نے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف کرپشن کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا جو ان کی وزارت بجلی کے حوالے سے ہے مگر ان کی 9 ماہ کی وزارت عظمیٰ اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف کوئی ریفرنس نہیں بن سکا حالانکہ کرپشن کے الزام میں جتنے بدنام وہ ہوئے اتنا اور کوئی وزیر اعظم بدنام نہیں ہوا۔ راجہ پرویز اشرف راجہ رینٹل کے نام سے جانے گئے مگر صدر آصف علی زرداری کی نظر میں وہ فرشتے تھے اور انھیں پیپلز پارٹی میں کوئی اور ایماندار اور اہل رکن قومی اسمبلی نہیں ملا تھا جس کو وزیر اعظم بنا کر وہ گیلانی حکومت کی بدنامی کا مداوا کر سکتے۔
یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں ان کے بھائیوں، بیٹوں، اہلیہ پر ہی نہیں سسرالیوں پر بھی کرپشن کی دکانیں ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں کھولنے کے سنگین الزامات تھے مگر نواز شریف حکومت نے میثاق جمہوریت کے باعث کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ یوسف رضا گیلانی نے ترک خاتون اول کا عطیہ کردہ ہار بھی اپنی اہلیہ کو دے دیا تھا جو نیب نے 16 لاکھ روپے میں خریدا تھا مگر وزیر اعظم گیلانی نے یہ ہار بھی نہیں چھوڑا، جو اب مجبوراً انھیں ایف آئی اے کے نوٹس پر واپس کرنا پڑا ہے، کیا یہ کرپشن نہیں تھی جو یوسف رضا گیلانی کو گرفت میں لا سکے۔
گزشتہ دور میں اے این پی اور پی پی کی مخلوط حکومت میں کے پی کے حکومت نے کرپشن کا ریکارڈ قائم ہوا تھا پھر تحریک انصاف نے وہاں حکومت بنائی اور کچھ ماہ بعد اپنی حلیف قومی وطن پارٹی کے وزیروں پر کرپشن کا الزام لگا کر انھیں حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیا مگر ایمانداری اور انصاف کی دعویدار پی ٹی آئی پھر قومی وطن پارٹی کو حکومت میں لینا چاہتی ہے اس طرح قومی وطن پارٹی سے کرپشن کا الزام دھل جائے گا، اس سوال کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔
گڈ گورننس کے فقدان اور کرپشن کے الزامات میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سر فہرست ہے مگر سابق صدر آصف علی زرداری یہ بات ماننے کو تیار نہیں اور وہ قائم علی شاہ کو بھی تبدیل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ وہ بڑے سائیں کے انتہائی فرمانبردار وزیر اعلیٰ ہیں اور ضعیف العمری کے باوجود سات سال سے مسلسل اقتدار میں ہیں۔ سیاسی عوامی حلقوں کے مطابق سندھ میں حکم کسی اور کا چل رہا ہے اور بدنام پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہو چکی ہے مگر آصف زرداری تبدیلی نہیں چاہتے۔
سندھ میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں کراچی کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کا جو آپریشن گزشتہ سال شروع ہوا تھا وہ اب نئے موڑ پر آ گیا ہے اور ایپکس کمیٹی میں ڈی جی رینجرز کے اہم بیان کے بعد سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور رینجرز اور نیب کے اقدامات پر مشتعل ہو کر سابق صدر زرداری جس طرح برسے ہیں اس سے ملک بھر میں آصف زرداری بھی الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔
آصف زرداری چاہتے ہیں کہ کراچی میں صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی ہو اور سندھ حکومت کے وزیروں اور بڑے افسروں کے خلاف رینجرز اور نیب کوئی کارروائی نہ کریں کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نہایت بااختیار ہے اور سندھ میں گورنر راج بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ سندھ حکومت کی بااختیاری کو اب خود مختاری بھی کہا جا سکتا ہے اور آصف علی زرداری چاہتے ہیں کہ سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے ہوتا رہے اور وفاق اور وفاقی ادارے سندھ میں کوئی مداخلت نہ کریں اور تماشا دیکھتے رہیں۔
سپریم کورٹ میں بھی سندھ میں ہونے والی کرپشن کے ریمارکس سامنے آ چکے ہیں۔ سندھ میں گڈ گورننس کا وجود باقی نہیں رہا ہے اور کرپشن کا جن کراچی میں لوٹ کھسوٹ کرنے کے بعد اندرون سندھ بھی پہنچ چکا ہے۔ سندھ کا کوئی محکمہ اور ضلع کرپشن سے محفوظ نہیں رہا ہے مگر سابق صدر کوئی کرپشن ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
جرائم پیشہ عناصر میں صرف ٹارگٹ کلر، بھتہ خور، لینڈ مافیا، چور اور ڈاکو ہی شمار نہیں ہوتے بلکہ کرپشن کر کے اربوں پتی بن جانے والے بڑے افسران، پولیس افسران اور سیاسی رہنما بھی شامل ہیں اور نیب اور رینجرز نے جن عناصر پر ڈالا ہے اس سے سندھ حکومت بوکھلا گئی ہے۔ ایس بی سی اے پر رینجرز کے چھاپوں، بعض افسروں کی گرفتاری اور شامل تفتیش کیے جانے سندھ کے حکمران سخت پریشان ہیں۔ وزیروں کے گھروں سے اربوں روپوں کی برآمدگی سے بلاول ہاؤس تک فشریز کی رقم پہنچائے جانے کے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ سابق بڑے افسر اور وزیر عدالتوں سے ضمانتیں کرانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ غیر قانونی طور پر مال بنانا بھی اہم جرائم میں شامل اور ملک و عوام دشمنی ہے جس پر ہاتھ ڈال کر رینجرز اور نیب کوئی جرم یا سندھ میں مداخلت نہیں بلکہ حب الوطنی کا مظاہرہ کر رہی ہیں تو حکومتوں کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ ہر چیز کی حد ہوتی ہے مگر سندھ میں کرپشن کی حدیں عبور کر چکی ہیں۔
کرپشن جرائم اور حکومتوں کا ایک دوسرے سے قریبی تعلق ہی نہیں، بلکہ ملک میں سیاست کے ذریعے حکومتیں بنتی ہی کرپشن اور جرائم کے لیے ہیں۔ ہمارے ملک کی کسی ایک سیاسی جماعت پر بھی دیانتداری کا لیبل لگا ہوا نہیں مگر ہر جماعت کا دعویٰ یہی ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ملک کی ہر مذہبی اور سیاسی جماعت کے علاوہ ہمارا گزشتہ 35 سالوں میں کون سا ایسا وزیر اعظم رہا ہے جس پر کرپشن، اقربا پروری اور غیر قانونی اقدامات کا الزام نہ لگا ہو۔ ہمارا کوئی فوجی یا سیاسی حکمران نہیں رہا جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید ملت لیاقت علی خان کے نقش قدم پر چلنے کا دعویدار رہا ہو۔ گزشتہ 35 برسوں میں وفاق میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مختصر اور طویل حکومتیں رہیں، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور محمد خان جونیجو ہی ایسے حکمران نظر آتے ہیں جن پر ذاتی طور پر کرپشن کے الزامات نہیں لگے مگر ان کی حکومتیں بدعنوانیوں، غیر قانونی اقدامات اور اقربا پروری سے پاک نہیں تھیں۔
سابق صدر، سابق وزرائے اعظم پر بدعنوانیوں کے شدید الزامات ہی نہیں لگے بلکہ مقدمات بھی قائم ہوئے مگر انھوں نے کرپشن کے الزامات کو سیاسی اور انتقامی قرار دیا اور کسی پر کرپشن ثابت نہ کی جا سکی کیونکہ ہمارے ملک میں کرپشن ثابت کرنے کا کوئی موثر نظام ہے ہی نہیں اور موجودہ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی دوسری حکومت میں اعتراف کیا تھا کہ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور کرپشن ایسے ٹیکنیکل طریقوں سے کی جاتی ہے جو ثبوت نہیں چھوڑتی اور کرپٹ شخص نہ صرف صاف بچ جاتا ہے بلکہ دیانتداری کے دعوے کرتا بھی نہیں تھکتا۔
ماضی میں بدعنوانیوں کے الزامات میں نواز شریف، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری کے خلاف عدالتوں میں ریفرنس داخل ہوئے مگر کوئی ثابت نہیں ہوا۔ یہ لوگ جب اپوزیشن میں آئے تو انھوں نے مقدمات کو حکومت کا انتقام قرار دیا اور جب یہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو ہر مقدمے میں بری ہوتے گئے کیونکہ صاحب اقتدار کے خلاف گواہی اور ثبوت کہاں سے آ سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو سکا۔
موجودہ حکومت میں نیب نے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف کرپشن کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا جو ان کی وزارت بجلی کے حوالے سے ہے مگر ان کی 9 ماہ کی وزارت عظمیٰ اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف کوئی ریفرنس نہیں بن سکا حالانکہ کرپشن کے الزام میں جتنے بدنام وہ ہوئے اتنا اور کوئی وزیر اعظم بدنام نہیں ہوا۔ راجہ پرویز اشرف راجہ رینٹل کے نام سے جانے گئے مگر صدر آصف علی زرداری کی نظر میں وہ فرشتے تھے اور انھیں پیپلز پارٹی میں کوئی اور ایماندار اور اہل رکن قومی اسمبلی نہیں ملا تھا جس کو وزیر اعظم بنا کر وہ گیلانی حکومت کی بدنامی کا مداوا کر سکتے۔
یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں ان کے بھائیوں، بیٹوں، اہلیہ پر ہی نہیں سسرالیوں پر بھی کرپشن کی دکانیں ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں کھولنے کے سنگین الزامات تھے مگر نواز شریف حکومت نے میثاق جمہوریت کے باعث کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ یوسف رضا گیلانی نے ترک خاتون اول کا عطیہ کردہ ہار بھی اپنی اہلیہ کو دے دیا تھا جو نیب نے 16 لاکھ روپے میں خریدا تھا مگر وزیر اعظم گیلانی نے یہ ہار بھی نہیں چھوڑا، جو اب مجبوراً انھیں ایف آئی اے کے نوٹس پر واپس کرنا پڑا ہے، کیا یہ کرپشن نہیں تھی جو یوسف رضا گیلانی کو گرفت میں لا سکے۔
گزشتہ دور میں اے این پی اور پی پی کی مخلوط حکومت میں کے پی کے حکومت نے کرپشن کا ریکارڈ قائم ہوا تھا پھر تحریک انصاف نے وہاں حکومت بنائی اور کچھ ماہ بعد اپنی حلیف قومی وطن پارٹی کے وزیروں پر کرپشن کا الزام لگا کر انھیں حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیا مگر ایمانداری اور انصاف کی دعویدار پی ٹی آئی پھر قومی وطن پارٹی کو حکومت میں لینا چاہتی ہے اس طرح قومی وطن پارٹی سے کرپشن کا الزام دھل جائے گا، اس سوال کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔
گڈ گورننس کے فقدان اور کرپشن کے الزامات میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سر فہرست ہے مگر سابق صدر آصف علی زرداری یہ بات ماننے کو تیار نہیں اور وہ قائم علی شاہ کو بھی تبدیل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ وہ بڑے سائیں کے انتہائی فرمانبردار وزیر اعلیٰ ہیں اور ضعیف العمری کے باوجود سات سال سے مسلسل اقتدار میں ہیں۔ سیاسی عوامی حلقوں کے مطابق سندھ میں حکم کسی اور کا چل رہا ہے اور بدنام پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہو چکی ہے مگر آصف زرداری تبدیلی نہیں چاہتے۔
سندھ میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں کراچی کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کا جو آپریشن گزشتہ سال شروع ہوا تھا وہ اب نئے موڑ پر آ گیا ہے اور ایپکس کمیٹی میں ڈی جی رینجرز کے اہم بیان کے بعد سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور رینجرز اور نیب کے اقدامات پر مشتعل ہو کر سابق صدر زرداری جس طرح برسے ہیں اس سے ملک بھر میں آصف زرداری بھی الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔
آصف زرداری چاہتے ہیں کہ کراچی میں صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی ہو اور سندھ حکومت کے وزیروں اور بڑے افسروں کے خلاف رینجرز اور نیب کوئی کارروائی نہ کریں کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نہایت بااختیار ہے اور سندھ میں گورنر راج بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ سندھ حکومت کی بااختیاری کو اب خود مختاری بھی کہا جا سکتا ہے اور آصف علی زرداری چاہتے ہیں کہ سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے ہوتا رہے اور وفاق اور وفاقی ادارے سندھ میں کوئی مداخلت نہ کریں اور تماشا دیکھتے رہیں۔
سپریم کورٹ میں بھی سندھ میں ہونے والی کرپشن کے ریمارکس سامنے آ چکے ہیں۔ سندھ میں گڈ گورننس کا وجود باقی نہیں رہا ہے اور کرپشن کا جن کراچی میں لوٹ کھسوٹ کرنے کے بعد اندرون سندھ بھی پہنچ چکا ہے۔ سندھ کا کوئی محکمہ اور ضلع کرپشن سے محفوظ نہیں رہا ہے مگر سابق صدر کوئی کرپشن ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
جرائم پیشہ عناصر میں صرف ٹارگٹ کلر، بھتہ خور، لینڈ مافیا، چور اور ڈاکو ہی شمار نہیں ہوتے بلکہ کرپشن کر کے اربوں پتی بن جانے والے بڑے افسران، پولیس افسران اور سیاسی رہنما بھی شامل ہیں اور نیب اور رینجرز نے جن عناصر پر ڈالا ہے اس سے سندھ حکومت بوکھلا گئی ہے۔ ایس بی سی اے پر رینجرز کے چھاپوں، بعض افسروں کی گرفتاری اور شامل تفتیش کیے جانے سندھ کے حکمران سخت پریشان ہیں۔ وزیروں کے گھروں سے اربوں روپوں کی برآمدگی سے بلاول ہاؤس تک فشریز کی رقم پہنچائے جانے کے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ سابق بڑے افسر اور وزیر عدالتوں سے ضمانتیں کرانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ غیر قانونی طور پر مال بنانا بھی اہم جرائم میں شامل اور ملک و عوام دشمنی ہے جس پر ہاتھ ڈال کر رینجرز اور نیب کوئی جرم یا سندھ میں مداخلت نہیں بلکہ حب الوطنی کا مظاہرہ کر رہی ہیں تو حکومتوں کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ ہر چیز کی حد ہوتی ہے مگر سندھ میں کرپشن کی حدیں عبور کر چکی ہیں۔