دہشتگردوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت
پاک فوج وطن عزیز سے دہشتگردی کے جڑ سے خاتمے میں مصروف عمل ہے،آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے
افغانستان کی موجودہ حکومت اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات اٹھائے تو امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے. فوٹو:فائل
پاک فوج وطن عزیز سے دہشتگردی کے جڑ سے خاتمے میں مصروف عمل ہے،آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے،اسی حوالے سے خبر آئی ہے کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسزکے جیٹ طیاروں کی بمباری میں اہم کمانڈروں سمیت مزید 14دہشت گردہلاک ہوگئے۔شمالی وزیرستان ایک ایسا نوگو ایریا بن چکا تھا،جہاں حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیلی ہوچکی ہے ۔
جس میں کریڈٹ سیکیورٹی فورسزکے جانباز جوانوں کو جاتا ہے جنھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر دھرتی کی حفاظت کا مقدس فریضہ سرانجام دیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں دنیا بھر سے آنے والے دہشتگردوں نے پناہ لے رکھی تھی، پاکستان کے اندر جتنی بھی دہشتگردی کی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں،ان کے ڈانڈے اسی علاقے سے ملتے ہیں۔ ہمیںخیبرایجنسی میں آپریشن کامیابی سے مکمل ہونے کی نوید سنائی گئی ہے ۔
پاک فوج کے ترجمان میجر عاصم باجوہ نے بتایا کہ شوال کے دشوارگزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہوچکا ہے۔ بی بی سی کوانٹرویو میں آئی ایس پی آرکے ڈائریکٹرجنرل نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کوجتنا جلد ممکن ہو مکمل کرناچاہتے ہیں۔ اس وقت علاقے کی جو صورتحال ہے وہ تو ترجمان نے بتا دی ہے، سانحہ پشاور میں ملوث دہشتگردوں بھی افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے، جنھوں نے معصوم بچوں کا قتل عام کر کے انسانیت کا سرشرم سے جھکا دیا تھا ۔درحقیقت علاقے کے مقامی وغیر ملکی دہشت گردوں کو را اور موساد کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ بیرونی آقاؤں کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکے ہیں، پہلامرحلہ تو یقینا یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز ان علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک کردیں۔
دوسرا مرحلہ متاثرہ علاقوں کے مقامی افراد کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا ہے، تاکہ وہ بھی ان سہولیات سے استفادہ کرسکیں اورآیندہ کبھی دہشتگردوں کو ان علاقوں میں پناہ لینے کی جرات نہ ہو ۔خبر کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل جمرودکے علاقے غنڈی میں سیکیورٹی فورسزاور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں دو دہشت گردہلاک ہوگئے ۔ ضلع پشاورمیں سرچ آپریشن کے دوران دو افغان باشندوں سمیت 53مشتبہ افرادکو حراست میں لیا گیا ہے ۔ یقیناً سیکیورٹی فورسز جس سرعت کے ساتھ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔ سیکیورٹی فورسز تو اپنا کام بخوبی سرانجام دے رہی ہیں ،افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں دہشتگردی کا خاتمہ چاہتی ہیں اور اس حوالے سے مشترکہ موقف کا اظہار بھی کرتی ہیں ،لیکن پہلا قدم افغانستان کی حکومت کو اٹھانا چاہیے کہ اس کی سرزمین دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بنے اور نہ ہی وہ دہشتگرد پاکستان کو کمزور کرنے کے مذموم منصوبے بنا سکیں ۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات اٹھائے تو امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے۔جو دونوں ممالک کے عوام کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
جس میں کریڈٹ سیکیورٹی فورسزکے جانباز جوانوں کو جاتا ہے جنھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر دھرتی کی حفاظت کا مقدس فریضہ سرانجام دیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں دنیا بھر سے آنے والے دہشتگردوں نے پناہ لے رکھی تھی، پاکستان کے اندر جتنی بھی دہشتگردی کی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں،ان کے ڈانڈے اسی علاقے سے ملتے ہیں۔ ہمیںخیبرایجنسی میں آپریشن کامیابی سے مکمل ہونے کی نوید سنائی گئی ہے ۔
پاک فوج کے ترجمان میجر عاصم باجوہ نے بتایا کہ شوال کے دشوارگزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہوچکا ہے۔ بی بی سی کوانٹرویو میں آئی ایس پی آرکے ڈائریکٹرجنرل نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کوجتنا جلد ممکن ہو مکمل کرناچاہتے ہیں۔ اس وقت علاقے کی جو صورتحال ہے وہ تو ترجمان نے بتا دی ہے، سانحہ پشاور میں ملوث دہشتگردوں بھی افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے، جنھوں نے معصوم بچوں کا قتل عام کر کے انسانیت کا سرشرم سے جھکا دیا تھا ۔درحقیقت علاقے کے مقامی وغیر ملکی دہشت گردوں کو را اور موساد کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ بیرونی آقاؤں کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکے ہیں، پہلامرحلہ تو یقینا یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز ان علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک کردیں۔
دوسرا مرحلہ متاثرہ علاقوں کے مقامی افراد کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا ہے، تاکہ وہ بھی ان سہولیات سے استفادہ کرسکیں اورآیندہ کبھی دہشتگردوں کو ان علاقوں میں پناہ لینے کی جرات نہ ہو ۔خبر کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل جمرودکے علاقے غنڈی میں سیکیورٹی فورسزاور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں دو دہشت گردہلاک ہوگئے ۔ ضلع پشاورمیں سرچ آپریشن کے دوران دو افغان باشندوں سمیت 53مشتبہ افرادکو حراست میں لیا گیا ہے ۔ یقیناً سیکیورٹی فورسز جس سرعت کے ساتھ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔ سیکیورٹی فورسز تو اپنا کام بخوبی سرانجام دے رہی ہیں ،افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں دہشتگردی کا خاتمہ چاہتی ہیں اور اس حوالے سے مشترکہ موقف کا اظہار بھی کرتی ہیں ،لیکن پہلا قدم افغانستان کی حکومت کو اٹھانا چاہیے کہ اس کی سرزمین دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بنے اور نہ ہی وہ دہشتگرد پاکستان کو کمزور کرنے کے مذموم منصوبے بنا سکیں ۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات اٹھائے تو امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے۔جو دونوں ممالک کے عوام کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔