ٹرانسپورٹرز کی من مانے کرایوں کی وصولی

افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت ہر سال کی طرح اس بار بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے

انٹرسٹی بس ٹرانسپورٹرز نے رمضان کے آخری عشرے میں کرایوں میں نہ صرف غیر معمولی اضافہ کردیا ہے بلکہ طویل و درمیانے فاصلوں پر یکساں کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔ فوٹو : فائل

عید کی آمد کے موقع پر ہر سال ٹرانسپورٹرز اندرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے من مانے کرایے وصول کرکے مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں جن پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کی ہٹ دھرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ کراچی،لاہور،پشاور،کوئٹہ،سکھر، حیدرآباد سمیت ملک بھر کے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں میں عید منانے کے لیے جانے والے مسافروں سے ٹرانسپورٹرز نے کئی گنا زیادہ کرایے وصول کرنے شروع کردیے ہیں۔

انٹرسٹی بس ٹرانسپورٹرز نے رمضان کے آخری عشرے میں کرایوں میں نہ صرف غیر معمولی اضافہ کردیا ہے بلکہ طویل و درمیانے فاصلوں پر یکساں کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔ لاہور، راولپنڈی، مانسہرہ، کوئٹہ اور دیگر علاقوں کے لیے 500 تا 1000 روپے زائد کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت ہر سال کی طرح اس بار بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔


صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ انٹرسٹی بس ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔ روزگار اور کاروبار کے لیے ملک بھر کے اندرونی علاقوں سے لوگ بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور عید کی خوشیاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ منانے کے لیے رمضان کے آخری عشرے میں ان کے اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے باعث نہ صرف بسوں میں رش بڑھ جاتا ہے بلکہ موقع پرست ٹرانسپورٹرز مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگے کرایے وصول کرنا شروع کر دیتے ہیں، نیز کوچز میں سیٹوں کے درمیان اسٹول رکھ کر بھی مسافروں کو بٹھایا جاتا ہے۔

جو اصول کے بھی منافی ہے، نیز بس کنڈیکٹروں اور مسافروں میں جھگڑے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔ مہنگائی کے اس پرفتن دور میں جہاں غریب عوام ویسے ہی عید کی خوشیوں سے محروم ہیں حکومت کو انھیں ٹرانسپورٹرز کی بلیک میلنگ سے بچانا چاہیے۔ انٹرسٹی بسوں کے کرایوں پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ مناسب ہوگا کہ حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کو منظور شدہ کرایوں کی وصولی کا پابند کرے۔
Load Next Story