زمبابوے کے 93 فٹبالرز اور آفیشلز کو میچ فکسنگ پرسزائوں کا سامنا

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009 میں ایشیا میں منعقدہ میچز میں بیٹنگ سنڈیکیٹ کے ذریعے میچز ہارنے کے بدلے رقوم وصول کیں

زمبابوے فٹبال ایسوسی ایشن کے 13 پلیئرز و آفیشلز کو تاحیات پابندی جبکہ دیگر کو 10 برس سے 6 ماہ پابندی کی سزائیں دی جاسکتی ہیں. فوٹو: فائل

BIRMINGHAM:
عدالتی انکوائری کے نتیجے میں زمبابوے کے 93 فٹبالرز اور آفیشلز کو میچ فکسنگ پر سزائوں کا سامنا ہے۔


ایشیاگیٹ اسکینڈل کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کرنے والے ریٹائرڈ جج احمد ابراہیم نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ زمبابوے فٹبال ایسوسی ایشن کے 13 پلیئرز و آفیشلز کو تاحیات پابندی جبکہ دیگر کو 10 برس سے 6 ماہ پابندی کی سزائیں دی جاسکتی ہیں، ان تمام پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009 میں ایشیا میں منعقدہ میچز میں بیٹنگ سنڈیکیٹ کے ذریعے میچز ہارنے کے بدلے رقوم وصول کیں۔

زیڈ آئی ایف اے کی سابق چیف ایگزیکٹیو ہنریٹا رشوایا کو ماسٹرمائنڈ قرار دیاگیا تھا، وہ کرپشن اور فراڈ کے الزامات پر فروری میں عدالت میں پیش ہوئی تھیں تاہم مقدمات ابھی زیرالتوا ہیں، زمبابوے کی ٹیم ملائیشیا میں منعقدہ میچز میں اردن سے 2-0، تھائی لینڈ سے 3-0 اور شام کیخلاف 6-0 سے ناکام رہی تھی، اس دورے کا انتظام ہینریٹا نے کیا تھا۔
Load Next Story