یونس خان کے لیے تقریب پذیرائیگولڈ میڈل پہنایاگیا
یونس کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، سابق چیف سلیکٹر
یونس کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ اعلیٰ پائے کے کرکٹر ہونے کے ساتھ بلند اخلاق اور نیک سیرت انسان بھی ہیں، سابق چیف سلیکٹر۔ فوٹو : اے ایف پی
سینئر بیٹسمین یونس خان کے 100 ٹیسٹ مکمل ہونے پر معروف کرکٹ سپورٹر ندیم عمر کی جانب سے تقریب پذیرائی سجائی گئی، مقامی ہوٹل میں منعقدہ افطار ڈنر میں انھیں بطور ستائش گولڈ میڈل کے ساتھ5لاکھ روپے سے بھی نوازا گیا۔
اس موقع پرسری لنکا کیخلاف سنچری اسکورکرنے والے نوجوان بیٹسمین شان مسعود کوگولڈ میڈل و1لاکھ روپے دیے گئے، تقریب میں مقررین نے یونس خان کو بہترین کرکٹرہونے کے ساتھ اچھا اور منکسر المزاج انسان قرار دیا، میزبان ندیم عمر نے کہاکہ یونس خان جدوجہد کی بہترین مثال اور نئے کھلاڑیوں کیلیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں، آج ہیروز کا فقدان ہوگیا ہے چنانچہ ہمیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے، سابق ٹیسٹ کپتان معین خان نے کہا کہ یونس خان موجودہ دور کے بہترین کرکٹر ہیں، بلندی پر پہنچ کربھی خلوص اور انکساری ان کا خاصا ہے،ندیم عمر کی طرح دیگر کو بھی آگے بڑھ کر قومی ہیروز کی پذیرائی کرنی چاہیے،سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے کہاکہ یونس خان مسلسل جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
انھوں نے ہم سے بہت کچھ سیکھا لیکن آج ہم ان سے سیکھ رہے ہیں،سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین نے کہاکہ یونس کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ اعلیٰ پائے کے کرکٹر ہونے کے ساتھ بلند اخلاق اور نیک سیرت انسان بھی ہیں،ایک اور سابق چیف سلیکٹر وسابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ یونس خان جیسے کرکٹر مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں، انھوں نے اچھے اوربُرے دورمیں ہمت، حوصلہ وجواں مردی دکھائی،وہ ایک دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں، تقریب میں پی سی بی کے رکن گورننگ بورڈ اور کے سی سی اے کے صدر پروفیسر اعجاز فاروقی، سابق سیکریٹری سراج الاسلام بخاری،سابق کرکٹر باسط علی، عبدالرقیب، ندیم خان و دیگر شریک ہوئے، کمپیئرنگ سید یحییٰ حسینی نے کی۔
اس موقع پرسری لنکا کیخلاف سنچری اسکورکرنے والے نوجوان بیٹسمین شان مسعود کوگولڈ میڈل و1لاکھ روپے دیے گئے، تقریب میں مقررین نے یونس خان کو بہترین کرکٹرہونے کے ساتھ اچھا اور منکسر المزاج انسان قرار دیا، میزبان ندیم عمر نے کہاکہ یونس خان جدوجہد کی بہترین مثال اور نئے کھلاڑیوں کیلیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں، آج ہیروز کا فقدان ہوگیا ہے چنانچہ ہمیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے، سابق ٹیسٹ کپتان معین خان نے کہا کہ یونس خان موجودہ دور کے بہترین کرکٹر ہیں، بلندی پر پہنچ کربھی خلوص اور انکساری ان کا خاصا ہے،ندیم عمر کی طرح دیگر کو بھی آگے بڑھ کر قومی ہیروز کی پذیرائی کرنی چاہیے،سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے کہاکہ یونس خان مسلسل جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
انھوں نے ہم سے بہت کچھ سیکھا لیکن آج ہم ان سے سیکھ رہے ہیں،سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین نے کہاکہ یونس کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ اعلیٰ پائے کے کرکٹر ہونے کے ساتھ بلند اخلاق اور نیک سیرت انسان بھی ہیں،ایک اور سابق چیف سلیکٹر وسابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ یونس خان جیسے کرکٹر مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں، انھوں نے اچھے اوربُرے دورمیں ہمت، حوصلہ وجواں مردی دکھائی،وہ ایک دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں، تقریب میں پی سی بی کے رکن گورننگ بورڈ اور کے سی سی اے کے صدر پروفیسر اعجاز فاروقی، سابق سیکریٹری سراج الاسلام بخاری،سابق کرکٹر باسط علی، عبدالرقیب، ندیم خان و دیگر شریک ہوئے، کمپیئرنگ سید یحییٰ حسینی نے کی۔