دہشت گردوں کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے

آرمی پبلک اسکول کا سانحہ پوری پاکستانی قوم کے لیے دکھ اور الم کا باعث ہے

پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے لیے اس ملک سے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

پشاور کے کور ہیڈ کوارٹرز میں گزشتہ روز آرمی پبلک اسکول کے شہید طلبہ کے خاندانوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا' اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے واضح کیا کہ آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کو بھلایا نہیں جا سکتا، کوئی مذہب یا معاشرہ ایسی درندگی کی اجازت نہیں دیتا، بچوں کی شہادت نے قوم کومتحد کیا۔

جنرل راحیل شریف نے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج سمیت پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انھوں نے بچوں کے والدین کو مطلع کیا کہ حملے میں ملوث زیادہ تر دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرزمین پاکستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

آرمی پبلک اسکول کا سانحہ پوری پاکستانی قوم کے لیے دکھ اور الم کا باعث ہے ۔پاک فوج کے سربراہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس سانحہ کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔دہشت گردوں نے اپنی طرف سے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے بڑا کارنامہ انجام دیا تھا لیکن درحقیقت انھوں نے ایسا کر کے پوری دنیا پر یہ آشکار کر دیا کہ ان کا انسانیت یا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی شہید طالب علموں کے خاندانوں سے ایسا ہی اظہار یکجہتی کرنا چاہیے تھا لیکن شاید وہاں اتنی گہرائی تک سوچنے کا کلچر نہیں ہے۔

دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں نے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ اسی صورت ممکن ہے کہ ان گروہوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے ۔اس سلسلے میں کسی قسم کی مصلحت کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان میں یہ کلچر پروان چڑھ گیا ہے کہ نظریات کے نام پر ایسے گروہوں کی حمایت کی جاتی ہے جن کے ڈانڈے دہشت گردی سے ملتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے گروہ یا افراد بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے دہشت گرد اپنی واردات کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں' ان کی تحقیقات کے نتیجے میں سہولت کاری کا عنصر بھی سامنے آیا ہے۔


ویسے بھی کوئی دہشت گرد سہولت کار کے بغیر اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے میں بھی سہولت کاروں کا عنصر موجود تھا ۔ادھر پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کی لیڈر شپ میں اپنے کارکنوں کو دہشت گردی کے حوالے سے کبھی ایجوکیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی سیاسی جماعتوں کا کوئی اسٹڈی سرکل بھی نہیں ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈرشپ کا صرف یہی کام ہے کہ وہ اپنی جماعت کے سربراہ کی مداح سرائی کرے یا کسی غلط اقدام کے سلسلے میں اس کا دفاع اور وکالت کرے۔

سیاسی جماعتوں کی اسی کمزوری کے باعث وہ پریشر گروپ طاقتور ہوئے جن کی ہمدردیاں دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رہیں۔ بعض گروہ نظریاتی ابہام کی وجہ سے ایسی باتیں کرتے چلے آ رہے ہیں 'جن کی وجہ سے دہشت گردوں کے بارے میں عوام کے اندر تضاد یا ابہام پیدا ہوا۔ یوں پاکستان کے سیاسی محاذ پر کوئی ایسی سیاسی جماعت سامنے نہیں آئی 'جس کے کارکن نظریاتی لحاظ سے دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ اقتدار میں آنے کے لیے جو ڑ توڑ کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے کسی کو بھی اپنا اتحادی بنا لیتی ہے ۔بہر حال یہ امر خوش آیند ہے کہ اب صورت حال میں تبدیلی آ رہی ہے۔

پاک فوج کا کردار بالکل واضح ہو چکا ہے ۔پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہے اور اب پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی دہشت گردی کے خطرات کا ادراک کر رہی ہیں۔ شمالی وزیرستان اوردیگر قبائلی علاقوں میں آپریشن جاری ہے جب کہ کراچی میں بھی دہشت گردوں 'جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں یکساں موقف اختیار کریں اور اس میں کسی قسم کی اگرمگر یا چونکہ چنانچہ کی گردان شامل نہ ہو ۔دہشت گرد اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر وہ اقدام کیا جانا چاہیے جس کی ضرورت ہے ۔دہشت گردوں کے سہولت کاروں 'انھیں مالی اور نظریاتی مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے ۔پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے لیے اس ملک سے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔
Load Next Story