بھارتی جاسوس طیارے کی تباہی

یہ ڈرون فضائی فوٹوگرافی کے لیے استعمال ہوتا ہے اوراس سے پاکستانی علاقے کی جاسوسی کی جارہی تھی

ہم سمجھتے ہیں کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان جو ملاقات ہوئی ہے ، اور جن امور کے حل پر اتفاق کیا گیا ہے اسے تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ فوٹو: آئی ایس پی آر

ابھی تو پانچ روز قبل اوفا میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد ڈیڑھ ارب انسانوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی تھی کہ پاک بھارت تعلقات میں بتدریج بہتری آئے گی،کیونکہ باہمی کشیدگی کوکم کرنے کے لیے مزید اقدامات بھی اٹھائے جانے کا واضح عندیہ مشترکہ علامیے میں موجود تھا ، لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس ، پاک فوج نے جاسوسی کے لیے آنیوالے بھارتی ڈرون کولائن آف کنٹرول کے نزدیک آزادکشمیرکے بھمبرسیکٹرکی حدود میں مارگرایا۔

اس کھلی بھارتی جارحیت پر احتجاج کے لیے دفتر خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنرکو طلب کرکے بھارتی جاسوس طیارے کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی ، ورکنگ باؤنڈری اورکنٹرول لائن پر بھارتی گولہ باری ،فائرنگ اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر سخت احتجاج کیا ۔یہ ڈرون فضائی فوٹوگرافی کے لیے استعمال ہوتا ہے اوراس سے پاکستانی علاقے کی جاسوسی کی جارہی تھی۔گزشتہ کچھ ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔تازہ ترین واقعے میں سیالکوٹ چپراڑسیکٹر پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے تین افراد شہید اور آٹھ زخمی ہوگئے ۔


کہاں تو روس کے شہر اوفا میں ہونیوالے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقعے پر بھارتی درخواست پروزیراعظم نوازشریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی جس میں باہمی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا تھا ۔قول وعمل کے تضاد نے ہی بھارت کو ایک سپرپاور بننے اور اپنے ہمسایوں سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے سے روک رکھا ہے ، ایک طرف تو عالمی دباؤ پر بھارت مذاکرات اور گفت وشنید کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کا خواہاں نظر آتا ہے ،تو دوسری طرف پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بلااشتعال پاکستان کے سرحدی علاقوں پر فائرنگ اس کے دہرے معیارکے عکاس ہیں ۔

بڑھتا ہوا اسلحہ سازی کا رحجان اور جنگی جنون بھارتی حکمرانوں کا مائنڈ سیٹ نظر آتا ہے ، حالانکہ بھارت رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بڑا اور طاقتور ملک ہے ، اس کے آس پاس موجود چھ سات ممالک میں کوئی بھی ایسا نہیں جو بھارت پرقبضے کرنے کی سوچ رکھتا ہو، آخر کون سا انجانا خوف ہے جس نے جنگی جنون کو پروان چڑھایا ہے ،اور پڑوسیوں کا جینا مشکل کیا ہوا ہے۔ افغانستان، بھوٹان ، نیپال ، سری لنکا ، بنگلہ دیش اور پاکستان کون سا ملک ہے جو بھارتی شاؤنزم کی سوچ سے محفوظ رہا ہو۔

ہم سمجھتے ہیں کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان جو ملاقات ہوئی ہے ، اور جن امور کے حل پر اتفاق کیا گیا ہے اسے تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے ،متنازع امور کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،دونوں ممالک کے درمیان تین جنگوں کا نتیجہ ماسوائے تباہی وبربادی کے کچھ نہیں نکلا۔یہی وقت کہ آنے والی نسلوں کے سنہرے مستقبل کے لیے مل بیٹھ کر پائیدار حل نکالا جائے تو خطے کے لگ بھگ ڈیڑھ ارب انسانوں کے خواب 'امن' کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔
Load Next Story