کراچی میں پارکنگ مافیا کی من مانی

پارکنگ مافیا نے شہر کی فٹ پاتھوں، سروس روڈ اور گلیوں تک کو آمدن کا ذریعہ بنالیا ہے۔

کراچی کی ضلعی انتظامیہ کا فرض ہے کہ منظور شدہ پارکنگ ریٹس کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے تاکہ شہری زائد چارجنگ سے محفوظ رہ سکیں۔فوٹو : فائل

رمضان المبارک میں بازاروں اور شاپنگ پلازہ میں خریداروں کا ہجوم بڑھنے کے ساتھ کار اور موٹر سائیکل پارکنگز میں اوور چارجنگ کے مسائل بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں، جن کی شدت بڑے شہروں میں فزوں تر ہوتی ہے۔

بڑے شہروں میں مارکیٹ کے اطراف باقاعدہ پارکنگ کے لیے جگہ الاٹ کی جاتی ہے جہاں شہری حکومت کی جانب سے منظور شدہ پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے لیکن کراچی شہر میں سرگرم مختلف قسم کی مافیاؤں سے یہ شعبہ بھی بچا نہ رہ سکا ہے اور نہ صرف شہر میں غیر قانونی پارکنگ کرائی جارہی ہے بلکہ منظور شدہ پارکنگ کا عملہ شہریوں سے دگنا، تین گنا فیس وصول کر رہا ہے۔


شہر قائد میں منظور شدہ پارکنگ اسٹینڈز میں شہریوں سے زائد وصولی کا سلسلہ جاری ہے، بازاروں، تجارتی مراکز اور شاپنگ سینٹرز کے اطراف غیر قانونی پارکنگ بھی کی جارہی ہے، پارکنگ مافیا نے شہر کی فٹ پاتھوں، سروس روڈ اور گلیوں تک کو آمدن کا ذریعہ بنالیا ہے۔ٹھیکیدار مقررہ پارکنگ فیس سے دگنی فیس وصول کررہے ہیں، بیشتر مقامات پر موٹر سائیکل سواروں سے اضافی پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے' اگر کوئی شہری احتجاج کرے توپارکنگ کا عملہ اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتا ہے۔ پارکنگ کی مد میں شہریوں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے اینٹھے جارہے ہیں۔

نیز پارکنگ پر مامور عملہ مخصوص وردیوں کے بغیر ہی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں۔ واضح رہے کراچی میں غیر قانونی پارکنگ کے خلاف رینجرز کے کریک ڈاؤن کے دوران بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارکنگ کے عملے کے لیے مخصوص وردیوں کو لازمی قرار دیا تھا تاہم شہر بھر میں اس پابندی پر عمل نہیں ہورہا۔ کراچی کی ضلعی انتظامیہ کا فرض ہے کہ منظور شدہ پارکنگ ریٹس کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے تاکہ شہری زائد چارجنگ سے محفوظ رہ سکیں۔
Load Next Story