نئے کرنسی نوٹوں کی طلب میں رواں سال 62فیصداضافہ
رمضان میں 249ارب کے نئے نوٹ جاری ہوئے جب کہ گزشتہ سال اسی ماہ154ارب کے جاری ہوئے تھے
رمضان میں 249ارب کے نئے نوٹ جاری ہوئے جب کہ گزشتہ سال اسی ماہ154ارب کے جاری ہوئے تھے فوٹو: فائل
رواں سال عید کے لیے نئے کرنسی نوٹوں کی طلب گزشتہ سال کے مقابلے میں 62فیصد زائد رہی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال رمضان کے مہینے میں 249ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے جو مالیت کے لحاظ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 95ارب روپے زائد ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق عید الفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے بھرپور انتظامات کیے گئے۔
جس میں عوام سمیت زیادہ سے زیادہ متعلقہ فریقین کی ضرورت پوری کی گئی۔ اسٹیٹ بینک نے یکم رمضان سے آخری کاروباری روز(جمعرات 16جولائی تک) مجموعی طور پر 249ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گزشتہ سال اسی عرصے میں 154ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے تھے۔ رواں سال جاری کردہ کرنسی نوٹوں میں سب سے زیادہ 100روپے کے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 31ارب روپے رہی۔
اس سے زائد مالیت کے 218ارب روپے کے نوٹ بھاری ادائیگیوں اور کمرشل بینکوں کے اے ٹی ایم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جاری کیے گئے۔ زیادہ سے زیادہ اجرا یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے تمام 16دفاتر نے رمضان کے دوران اپنے کاؤنٹرز سے عوام کو نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جبکہ اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن نے کمرشل بینکوں کی 150مقررہ شاخوں میں بھی اپنے کاؤنٹرز قائم کیے۔
ان دو ذرائع سے 12ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے جبکہ ملک بھر میں کمرشل بینکوں کے وسیع برانچ نیٹ ورک سے بھی 16ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ کھاتے داروں کو جاری کیے گئے۔اس سال اسٹیٹ بینک نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے شراکت سے نوٹوں کی تقسیم کے لیے تجرباتی بنیادوں پر شارٹ کوڈ سروس بھی شروع کی جس کے تحت 28شہروں کی 150برانچوں سے 7روز میں 2لاکھ افراد نے استفادہ کیا اور مجموعی طور پر 3ارب روپے مالیت کے نئے کرنسی نوٹ حاصل کیے۔
اسٹیٹ بینک نے عوامی طلب پوری کرنے کے لیے بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر کے ذریعے کمرشل بینکوں کو زیادہ سے زیادہ مالیت 500اور اس سے زائد کے کرنسی نوٹ بھی جاری کیے جن کی مالیت 218ارب روپے تھی۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو عید کی تعطیلات کے دوران بلاتعطل اے ٹی ایم سروس کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
جس میں عوام سمیت زیادہ سے زیادہ متعلقہ فریقین کی ضرورت پوری کی گئی۔ اسٹیٹ بینک نے یکم رمضان سے آخری کاروباری روز(جمعرات 16جولائی تک) مجموعی طور پر 249ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گزشتہ سال اسی عرصے میں 154ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے تھے۔ رواں سال جاری کردہ کرنسی نوٹوں میں سب سے زیادہ 100روپے کے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 31ارب روپے رہی۔
اس سے زائد مالیت کے 218ارب روپے کے نوٹ بھاری ادائیگیوں اور کمرشل بینکوں کے اے ٹی ایم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جاری کیے گئے۔ زیادہ سے زیادہ اجرا یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے تمام 16دفاتر نے رمضان کے دوران اپنے کاؤنٹرز سے عوام کو نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جبکہ اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن نے کمرشل بینکوں کی 150مقررہ شاخوں میں بھی اپنے کاؤنٹرز قائم کیے۔
ان دو ذرائع سے 12ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے جبکہ ملک بھر میں کمرشل بینکوں کے وسیع برانچ نیٹ ورک سے بھی 16ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ کھاتے داروں کو جاری کیے گئے۔اس سال اسٹیٹ بینک نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے شراکت سے نوٹوں کی تقسیم کے لیے تجرباتی بنیادوں پر شارٹ کوڈ سروس بھی شروع کی جس کے تحت 28شہروں کی 150برانچوں سے 7روز میں 2لاکھ افراد نے استفادہ کیا اور مجموعی طور پر 3ارب روپے مالیت کے نئے کرنسی نوٹ حاصل کیے۔
اسٹیٹ بینک نے عوامی طلب پوری کرنے کے لیے بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر کے ذریعے کمرشل بینکوں کو زیادہ سے زیادہ مالیت 500اور اس سے زائد کے کرنسی نوٹ بھی جاری کیے جن کی مالیت 218ارب روپے تھی۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو عید کی تعطیلات کے دوران بلاتعطل اے ٹی ایم سروس کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔