سخت مشکلات کے باوجود فتح قابل فخر ہےاعصام الحق
عقیل خان کے ساتھ نوجوان پلیئرز عابد علی اکبر اور سمیر افتخار نے بھی عمدہ پرفارم کیا
عقیل خان کے ساتھ نوجوان پلیئرز عابد علی اکبر اور سمیر افتخار نے بھی عمدہ پرفارم کیا فوٹو: فائل
انٹرنیشنل ٹینس اسٹار اعصام الحق نے ڈیوس کپ ٹائی میں انڈونیشیا کیخلاف فتح پر پاکستانی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔
انھوں نے کہاکہ کسی ٹیم کو اس کے اپنے ہی ملک میں شکست دینا آسان نہیں ہوتا لیکن سخت مشکلات کے باوجود قومی اسکواڈ نے ایسا کردیکھا جو قابل فخر بات ہے، انھوں نے عقیل خان کے ساتھ نوجوان کھلاڑیوں عابد علی اکبر اور سمیر افتخار کی بھی بھرپور تعریف کی۔ میڈیا سے گفتگو میں اعصام الحق نے کہا کہ میں انجری کی وجہ سے ٹیم کی نمائندگی نہ کرنے پر سخت افسردہ تھا لیکن ٹیم کی فتح نے خوش کردیا، اس دوران ہمیں 2 بہترین نوجوان کھلاڑی بھی مل گئے۔
عابدعلی اکبر اور سمیر افتخار مستقبل میں پاکستان کو کئی فتوحات سے ہمکنار کریں گے۔اعصام نے کہا کہ اب ہم گروپ ون میں کوالیفائی کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، فلپائن یا چانیئز تائپے کیخلاف گروپ ٹو فائنل ٹائی کے لیے ہمیں آئی ٹی ایف کو میزبانی کے لیے قائل کرنا ہوگا، اگر ایسا ممکن ہوا تو پھر کئی سال بعد پاکستان کے نہ صرف گروپ ون میں رسائی کے امکانات بڑھ جائیں گے بلکہ ملک میں انٹرنیشنل ٹینس کی بحالی میں بھی مدد ملے گی، انھوں نے کہا کہ ملکی میدانوں پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھ کئی نوجوان کھلاڑیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی جو ملکی ٹینس کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انھوں نے کہاکہ کسی ٹیم کو اس کے اپنے ہی ملک میں شکست دینا آسان نہیں ہوتا لیکن سخت مشکلات کے باوجود قومی اسکواڈ نے ایسا کردیکھا جو قابل فخر بات ہے، انھوں نے عقیل خان کے ساتھ نوجوان کھلاڑیوں عابد علی اکبر اور سمیر افتخار کی بھی بھرپور تعریف کی۔ میڈیا سے گفتگو میں اعصام الحق نے کہا کہ میں انجری کی وجہ سے ٹیم کی نمائندگی نہ کرنے پر سخت افسردہ تھا لیکن ٹیم کی فتح نے خوش کردیا، اس دوران ہمیں 2 بہترین نوجوان کھلاڑی بھی مل گئے۔
عابدعلی اکبر اور سمیر افتخار مستقبل میں پاکستان کو کئی فتوحات سے ہمکنار کریں گے۔اعصام نے کہا کہ اب ہم گروپ ون میں کوالیفائی کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، فلپائن یا چانیئز تائپے کیخلاف گروپ ٹو فائنل ٹائی کے لیے ہمیں آئی ٹی ایف کو میزبانی کے لیے قائل کرنا ہوگا، اگر ایسا ممکن ہوا تو پھر کئی سال بعد پاکستان کے نہ صرف گروپ ون میں رسائی کے امکانات بڑھ جائیں گے بلکہ ملک میں انٹرنیشنل ٹینس کی بحالی میں بھی مدد ملے گی، انھوں نے کہا کہ ملکی میدانوں پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھ کئی نوجوان کھلاڑیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی جو ملکی ٹینس کے لیے انتہائی اہم ہے۔