قتلِ عام سے سبق

11اور 12 جولائی کے اخبار ان تصویروں سے بھرے ہوئے تھے جن میں قطاردرقطار سیکڑوں الواح مزار نظر آرہی ہیں۔

zahedahina@gmail.com

ISLAMABAD:
11اور 12 جولائی کے اخبار ان تصویروں سے بھرے ہوئے تھے جن میں قطاردرقطار سیکڑوں الواح مزار نظر آرہی ہیں۔ان میں سے کسی پر پھول رکھے ہیں اورکسی کے سرہانے کوئی بوڑھی عورت بیٹھی ہے۔ اس کے آنسو نظر نہیں آرہے لیکن اس کا غم اور الم اس کی پشت پر تحریر ہے ۔

یہ 20برس پہلے کی بات ہے جب مہذب دنیا اور خاص طور سے مسلم ممالک اس نسل کشی سے سہمے ہوئے تھے جو سربیا کی فوجوں نے بد بخت شہر سربرنیکا کو فتح کرنے کے بعد کی۔ شہر میں داخلے کے بعد ان فوجوں نے 8 ہزار مسلمان مردوں اورلڑکوں کا ستھراؤ کردیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی تاریخ میں انسانوں کی اس بڑے پیمانے پر نسل کُشی پہلی مرتبہ ہوئی تھی، جس پر یورپ کے شہری شرمسار تھے اورمغرب کے متعدد رہنماؤں نے نہایت سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی تھی۔

اس انسانی المیے پر 20برس گزر چکے ہیں لیکن زخم ابھی تک مندمل نہ ہوسکے اور ہوں بھی کیسے کہ ان جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے آج بھی اپنے گناہوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ چند مہینوں پہلے سربیا میں اس نسل کُشی کے بارے میں رائے عامہ کے ایک سروے میں سوال کیا گیا ۔ جواب دینے والوں میں سے 54 فیصداس نسل کُشی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور ایک بھاری اکثریت اسے سرے سے نسل کُشی نہیں سمجھتی ۔ یہ اس وقت ہورہا ہے جب کہ دنیا کے متعدد سیاستدانوں نے قتل ہونے والوں کے اجتماعی قبرستانوں میں جاکر انھیں یاد کیا ہے اورگھنٹوں کے بل جھک کر اس شرمناک نسل کُشی پر معافی کے طلب گار ہوئے ہیں ۔

سربیا کے صدر بورس تارک 2010 میں سربرنیکا گئے تھے اورشہید ہونے والوں کو خراج عقیدت ادا کیا تھا۔اسی برس سربیا کی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں بوسینا کی مسلم آبادی کے خلاف ہونے والے جرائم کی مذمت کی گئی تھی ۔ 2013 میں تادک کے جانشین صدر تومسلاؤ نکولک نے ایک اجتماعی قبرستان میں گھٹنوں کے بل جھک کر سربیا کی طرف سے نسل کُشی جیسے بھیانک جرم کا اعتراف کیاتھا اورسربرنیکا کے لوگوں سے معافی مانگی تھی۔ اس عذر خواہی سے کچھ دنوں پہلے انھوں نے یہ تسلیم کرنے سے انکارکردیا تھا کہ سرب فوجیوں نے اس

بدبخت شہر کے لوگوں کی نسل کشی کی تھی۔ صدر نکولک کے اس بیان پر یورپی لیڈروں اور امریکیوں نے انھیں بہت لعنت ملامت کی تھی ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شاید وہ اپنے بیان کی اتنی شدید مذمت کی توقع نہیں کررہے تھے اوراسی لیے وہ اپنا موقف بدلنے پر مجبور ہوئے ۔

اس برس یہ ذمے داری سرب وزیراعظم الیکزانڈر وولک کو سونپی گئی کہ سربرنیکا میں 11جولائی 2015 کو اس قتل عام کی 20ویں سالگرہ کے موقعے پر وہاں جائیں اور سربیا کے لوگوں کی طرف سے اس سانحے پر اظہار مذمت کریں ۔اس سے پہلے بھی وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ سرب باشندے سربرنیکا کے لوگوں کے رنج و الم کااحترام کرتے ہیں اوران کی اس نفرت کو بھی سمجھتے ہیں جو وہ سربوں سے کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سربرنیکا کے جہنم میں رہنے پر مجبور ہوئے اور جن میں سے کچھ کے پیارے اس جہنم میں اپنی جان سے گئے ۔

وزیراعظم الیکزانڈر پروگرام کے مطابق 11جولائی کو سربرنیکا پہنچے جہاں مقتولین کی یاد منائی جارہی تھی۔ انھوں نے یادگار پر پھول چڑھائے اورابھی وہ تقریر کرنے ہی والے تھے کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی اوران کے خلاف نعرے لگائے گئے ۔اپنے محافظوں کے حصار میں وہ بہ مشکل تمام اپنی گاڑی تک پہنچے اور واپس چلے گئے ۔ لوگوں کا طیش اس لیے بے قابو ہوا کہ چند ہی دنوں پہلے کچھ مقتولین کی نئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں جنھیں نکال کر عزت واحترام سے دوبارہ دفن کیا گیا تھا۔ یوں کہیے کہ پرانے زخم پھر سے تازہ ہوگئے تھے ۔

ان معاملات کا پس منظر یہ ہے کہ 1995 میں جب کہ سربیا کی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی۔ اس وقت اقوام متحدہ نے سربرنیکا کو' جائے پناہ ' قرار دیا تھا اور وہاں کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے امن فوج کے دستے مقررکیے تھے جو ڈچ تھے اورمسلح تو ضرور تھے لیکن ان کے پاس بھاری توپخانہ یادوسراایسا اسلحہ موجود نہ تھا جو سرب فوجیوں کی یلغار کوروک سکے۔ نسلی اورمذہبی نفرت کی آگ میں جلتے ہوئے سرب فوجی جرنیل اٹکو ملادچ نے ڈچ دستوں کو دھکیلتے ہوئے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کو روندتے ہوئے سربرنیکا کو نسل کشی کا بھیانک نمونہ بنادیا۔ ملادچ آخرکار گرفتار کیاگیا۔ اس پر اور اس کے بعض ساتھیوں پر اس وقت بھی دی ہیگ کی عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چل رہا ہے ۔


اس وقت سے آج تک نسل کشی کا یہ واقعہ بوسینائی مسلمانوں کے ذہن پر نقش ہے اوران کی اذیت اس وقت کہیں بڑھ جاتی ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ سرب باشندے روس اور بعض دوسرے ملکوں کی شہ پر نسل کشی کے اس جنگی جرم کو نہ صرف یہ کہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، جب کہ عالمی عدالت انصاف اس المناک سانحے کو قانونی اعتبارسے نسل کشی تسلیم کرتی ہے ۔

سربرنیکا میں ہونے والے قتل عام کی بیسویں سالگرہ پر امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے کی ضرورت ہے اورایسا اسی وقت ہوسکتاہے جب ہم ماضی کی غلطیوں کا مکمل طور پر اعتراف کریں ۔ مستقبل میں پائیدار اورمستحکم امن صرف اسی طور ممکن ہے ۔

اس تناظر میں دیکھیے تو روس کارویہ امریکا کے برعکس رہا جب اس نے سربرنیکا میں ہونے والی نسل کشی کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا ۔ اس بار ے میں انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز کی 11-12 جولائی کی اشاعت میں جو اداریہ شایع ہوا ، اس میں لکھا گیا کہ 8000 مسلمان مردوں اور نوجوان لڑکوں کے ذبح عظیم کو روس نے شرم ناک طور پر' نسل کشی' تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یوں ان کے پسماندگان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔

بیسویں صدی میں ہونے والی جنگوں ، لڑائیوں اور اکیسویں صدی کے آغاز پر افغانستان اور عراق میں امریکی دراندازی اوروہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والوں کو نسل اورمذہب کی بنیاد پر نہایت اشتعال پذیر بنادیا ہے ۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بہ ظاہر جنگ کے شعلے بجھ رہے ہیں لیکن در حقیقت وہ لوگوں کے سینوں میں زندہ ہیں اور چھوٹی سی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔

'انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز ' کے شذرہ نگار نے بجا طور پر ہمیں یاد دلایا ہے کہ'' کوئی بھی سوسائٹی اس وقت تک زمانہ جنگ کی تلخیوں کو بھلا کرمفاہمت کی طرف نہیں بڑھ سکتی جب تک کہ ماضی کی غلطیوں کا ایماندارانہ اعتراف نہ کیا جائے۔''

مغرب کے ایک اخبار کی طرف سے آنے والا یہ ایک ایسا کلیہ ہے جس کا اطلاق صرف مغرب پر ہی نہیں، مشرق پر بھی ہوتاہے ۔

یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کے حکمرانوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ کب کب اور کہاں کہاں ناانصافی کی جس نے لوگوں کے سینوں میں بغاوت اورنفرت کی وہ آگ بھڑکا ئی جو آج تک ٹھنڈی نہیں ہوسکی ہے ۔ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ بنگلہ دیش کے رہنے والے پاکستان سے ناتا توڑ کر اورایک نیا ملک بنالینے کے باوجود ابھی تک ہم سے کیوں ناراض ہیں؟ اسی طرح کچھ لوگوں کو اس بات پر غصہ آتا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان کیوں پہاڑوں پر چڑھے بیٹھے ہیں اورہتھیار کیوں نہیں پھینک دیتے ؟ ہزارہ افراد روزانہ درجنوں کی تعداد میں آسٹریلیا کارخ کیوں کررہے ہیں ؟ 400 شیعہ ڈاکٹروں کو چن چن کر قتل کرنے اور ان کے دوسرے ہنرمندوں کو ٹھکانے لگادینے والوں کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ آخر ان کے پس ماندگان ، ان کے قتل پر احتجاج کیوں کرتے ہیں ؟ اسی طرح بہت سوں کو اس بات پر بھی حیرت ہے کہ سندھی ہندو یا پنجاب اور سندھ کے عیسائی اور دوسری اقلیتیں ہندوستان یا دور دراز کے براعظموں کا رخ کیوں کررہی ہیں؟

ہم اگر اپنی بنگالی اکثریت اور اقلیتوں کا خوف اوران کی اذیت نہیں سمجھ سکتے ، اگر کھلے ہوئے دل سے اپنے مظالم پر ان سے معافی کے خواستگار نہیں ہوسکتے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ان سے کہیں زیادہ ظلم اپنے ساتھ کررہے ہیں اورایک مستحکم اورپُر امن سماج سے روز بہ روز دور ہوتے جارہے ہیں۔

سربرنیکا کے قتل عام کی بیسویں سالگرہ ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے ، شرط اتنی سی ہے کہ ہم اس سے کچھ سیکھنا چاہیں۔
Load Next Story