نالے صاف نہ ہونے سے سیلابی صورتحال کا خدشہ
بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پیشگی انتظامات کی بجائے صرف دعوے کیے۔
ضلعی بلدیاتی اداروں نے چھوٹے نالے صاف کرکے کچرا وہیں چھوڑ دیا جو بارش کے پانی سے دوبارہ نالوں میں واپس چلا جائیگا۔ فوٹو: ایکسپریس
شہر میں جمعرات سے موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے، بلدیاتی اداروں کی مجرمانہ غفلت کے باعث شہر کے بڑے برساتی نالے صاف نہیں کیے جاسکے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پیشگی انتظامات کی بجائے صرف دعوے کیے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ کہ کراچی میں جمعرات تا پیر موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جس سے شہر میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں نے برساتی نالے صاف نہیں کیے ہیں جو انھیں مون سون سیزن سے قبل صاف کرنے تھے۔
بلدیہ شرقی سمیت چند ضلعی بلدیاتی اداروں نے چھوٹے برساتی نالے صاف کیے تھے تاہم نالوں سے نکلنے والا کچرا وہیں نالوں کے باہر چھوڑدیا ہے برسات ہوتے ہی کچرا دوبارہ نالوں میں چلا جائے گا، بلدیہ عظمی کے زیر انتظام لانڈھی ،کورنگی،ملیر ،شاہ فیصل اور ملحقہ علاقوں سے بارش کا پانی سمندر تک لانے والے 18 کلومیٹر طویل چکورا نالے کی کسی بھی مقام پر صفائی نہیں کی گئی ہے ، نیو کراچی،نارتھ ناظم آباد،سرجانی، گلبرگ،لیاقت آباد، لسبیلہ تک 16کلومیٹر طویل گجر نالے کے اہم مقامات ملبے،کچرے سے80 فیصد بند ہوچکے ہیں ۔
اس کے باوجود نیوکراچی اور لیاقت آبا دس نمبر، ضلع وسطی کے مرکزی دفتر سے متصل گجر نالے کی صفائی نہیں کی گئی، شدید بارشوں میں نالوں کے اوور فلو ہونے کا خطرہ ہے، سولجر بازار نالہ، اردو بازار نالہ،محمود آباد نالہ،تھدو نالہ اور اورنگی ٹاؤن کے بڑے برساتی نالے صفائی سے محروم ہیں ، نارتھ ناظم آباد میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے پانی کی نکاسی کے لیے بنائے جانے والے تمام چھوٹے بڑے برساتی نالے کچرے سے بھرگئے ہیں۔
بفرزون شفیق موڑ سے ضیاالدین اسپتال تک موجود نالے میں جگہ جگہ تعمیراتی ملبے اور کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے درجنوں دوروں کے باوجود نالے صفائی کے منتظر ہیں،شہر کی6 میونسپل کارپوریشنز کے زیر انتظام 345 برساتی نالے ہیں تاہم ان کی صفائی بھی جزوی طور پر کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق بارشوں کی صورت میں شہر کے بیشتر علاقے، اہم شاہراہیں، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ کہ کراچی میں جمعرات تا پیر موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جس سے شہر میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں نے برساتی نالے صاف نہیں کیے ہیں جو انھیں مون سون سیزن سے قبل صاف کرنے تھے۔
بلدیہ شرقی سمیت چند ضلعی بلدیاتی اداروں نے چھوٹے برساتی نالے صاف کیے تھے تاہم نالوں سے نکلنے والا کچرا وہیں نالوں کے باہر چھوڑدیا ہے برسات ہوتے ہی کچرا دوبارہ نالوں میں چلا جائے گا، بلدیہ عظمی کے زیر انتظام لانڈھی ،کورنگی،ملیر ،شاہ فیصل اور ملحقہ علاقوں سے بارش کا پانی سمندر تک لانے والے 18 کلومیٹر طویل چکورا نالے کی کسی بھی مقام پر صفائی نہیں کی گئی ہے ، نیو کراچی،نارتھ ناظم آباد،سرجانی، گلبرگ،لیاقت آباد، لسبیلہ تک 16کلومیٹر طویل گجر نالے کے اہم مقامات ملبے،کچرے سے80 فیصد بند ہوچکے ہیں ۔
اس کے باوجود نیوکراچی اور لیاقت آبا دس نمبر، ضلع وسطی کے مرکزی دفتر سے متصل گجر نالے کی صفائی نہیں کی گئی، شدید بارشوں میں نالوں کے اوور فلو ہونے کا خطرہ ہے، سولجر بازار نالہ، اردو بازار نالہ،محمود آباد نالہ،تھدو نالہ اور اورنگی ٹاؤن کے بڑے برساتی نالے صفائی سے محروم ہیں ، نارتھ ناظم آباد میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے پانی کی نکاسی کے لیے بنائے جانے والے تمام چھوٹے بڑے برساتی نالے کچرے سے بھرگئے ہیں۔
بفرزون شفیق موڑ سے ضیاالدین اسپتال تک موجود نالے میں جگہ جگہ تعمیراتی ملبے اور کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے درجنوں دوروں کے باوجود نالے صفائی کے منتظر ہیں،شہر کی6 میونسپل کارپوریشنز کے زیر انتظام 345 برساتی نالے ہیں تاہم ان کی صفائی بھی جزوی طور پر کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق بارشوں کی صورت میں شہر کے بیشتر علاقے، اہم شاہراہیں، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔