باران رحمت زحمت میں تبدیل
سندھ میں بارشوں کا بڑا سسٹم داخل ہورہا ہے اور اگلے4 سے5 روز میں بارشیں ہوں گی
محکمہ موسمیات نے جمعرات سے پیر تک ملک بھر میں اکثر مقامات پر مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
FAISALABAD:
برسات کو باران رحمت متصور کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے عوام ملک کے ناخداؤں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے باعث خدا کی برسائی اس رحمت سے بھی لطف اندوز ہونے سے قاصر ہیں۔ قہر برساتی گرمی میں بارش کی دعا مانگتے لوگ بعد از برسات شہری حکومت کو کوس رہے ہیں۔ ملک کے بالائی حصوں میں مسلسل ہونے والی بارشوں سے سیلاب کی صورتحال حسب سابق سنگین ہوچکی ہے جب کہ شہر قائد کراچی میں مون سون کی پہلی برسات نے ہی انتظامی امور کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔
جمعرات کی شام کراچی میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرآب آگئے، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم اور ٹریفک جام ہوگیا، کے الیکٹرک کے 100 فیڈر ٹرپ کرگئے جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی جو گزشتہ روز رات گئے تک بحال نہ ہوسکی، مون سون کی پہلی بارش سے شہری اداروں کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھل گئی، چھوٹے بڑے برساتی نالے صاف نہ ہونے کی وجہ سے اہم شاہراہیں، سڑکیں اور نشیبی علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔
بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، تباہ حال سیوریج سسٹم کی وجہ سے گٹر ابل پڑے اور سڑکوں پر کیچڑ جمع ہوگیا جب کہ اس دوران بلدیاتی عملہ بھی غائب رہا۔گزشتہ روز کی صورتحال نے کراچی شہر کو لاوارث ثابت کردیا، ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے شہر ناپرساں کی حالت اس بات کی عکاس ہے کہ یہاں صرف سیاست چمکائی جاتی ہے جب کہ عوام کے حقیقی نمایندے اور سرکاری ادارے حالات سے بے نیاز ہیں۔
دوسری جانب ملک میں جاری بارشوں اور سیلاب سے مزید کئی دیہات زیر آب آگئے جب کہ کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے واقعات میں ہلاکتیں بھی جاری ہیں۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کے باعث سیلاب کے خطرے کی وارننگ جاری کردی ہے۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں طوفانی بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ پنجاب میں دریائے جہلم اور چناب میں طغیانی سے ہیڈ تریموں کے مقام پر بند کے اندر کئی بستیاں زیر آب آ گئیں۔
دریائے سندھ میں طغیانی سے مزید بیسیوں دیہات زیر آب آگئے۔ ڈی جی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سندھ میں بارشوں کا بڑا سسٹم داخل ہورہا ہے اور اگلے4 سے5 روز میں بارشیں ہوں گی، بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی موسلا دھار بارشوں کے بعد فلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے جمعرات سے پیر تک ملک بھر میں اکثر مقامات پر مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
ادھر وزیراعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے ان سے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کی بنا پر پیدا شدہ صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے کی گئی تیاریوں کے بارے میں دریافت کیا۔ پاک فوج کے جوان اور ریسکیو ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہیں۔
وزیراعظم نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ طلب کرلیا ہے، لیکن اس امر پر غور کی ضرورت ہے کہ تمام تر تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل اور اقدامات بعد از حادثہ ہی کیوں عمل میں لائے جاتے ہیں۔ اپنی ذمے داریوں سے پہلوتہی اور ضروری مسائل سے چشم پوشی کی روش اب ختم کرنا ہوگی۔ حادثات و سانحات کی ستائی ہوئی یہ قوم اب بھی پرامید ہے، حکومت وقت کو عوام کے درد کا درماں اور پیشگی لائحہ عمل اختیار کرنے کی راہ کو اپنانا ہوگا۔
برسات کو باران رحمت متصور کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے عوام ملک کے ناخداؤں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے باعث خدا کی برسائی اس رحمت سے بھی لطف اندوز ہونے سے قاصر ہیں۔ قہر برساتی گرمی میں بارش کی دعا مانگتے لوگ بعد از برسات شہری حکومت کو کوس رہے ہیں۔ ملک کے بالائی حصوں میں مسلسل ہونے والی بارشوں سے سیلاب کی صورتحال حسب سابق سنگین ہوچکی ہے جب کہ شہر قائد کراچی میں مون سون کی پہلی برسات نے ہی انتظامی امور کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔
جمعرات کی شام کراچی میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرآب آگئے، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم اور ٹریفک جام ہوگیا، کے الیکٹرک کے 100 فیڈر ٹرپ کرگئے جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی جو گزشتہ روز رات گئے تک بحال نہ ہوسکی، مون سون کی پہلی بارش سے شہری اداروں کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھل گئی، چھوٹے بڑے برساتی نالے صاف نہ ہونے کی وجہ سے اہم شاہراہیں، سڑکیں اور نشیبی علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔
بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، تباہ حال سیوریج سسٹم کی وجہ سے گٹر ابل پڑے اور سڑکوں پر کیچڑ جمع ہوگیا جب کہ اس دوران بلدیاتی عملہ بھی غائب رہا۔گزشتہ روز کی صورتحال نے کراچی شہر کو لاوارث ثابت کردیا، ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے شہر ناپرساں کی حالت اس بات کی عکاس ہے کہ یہاں صرف سیاست چمکائی جاتی ہے جب کہ عوام کے حقیقی نمایندے اور سرکاری ادارے حالات سے بے نیاز ہیں۔
دوسری جانب ملک میں جاری بارشوں اور سیلاب سے مزید کئی دیہات زیر آب آگئے جب کہ کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے واقعات میں ہلاکتیں بھی جاری ہیں۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کے باعث سیلاب کے خطرے کی وارننگ جاری کردی ہے۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں طوفانی بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ پنجاب میں دریائے جہلم اور چناب میں طغیانی سے ہیڈ تریموں کے مقام پر بند کے اندر کئی بستیاں زیر آب آ گئیں۔
دریائے سندھ میں طغیانی سے مزید بیسیوں دیہات زیر آب آگئے۔ ڈی جی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سندھ میں بارشوں کا بڑا سسٹم داخل ہورہا ہے اور اگلے4 سے5 روز میں بارشیں ہوں گی، بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی موسلا دھار بارشوں کے بعد فلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے جمعرات سے پیر تک ملک بھر میں اکثر مقامات پر مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
ادھر وزیراعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے ان سے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کی بنا پر پیدا شدہ صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے کی گئی تیاریوں کے بارے میں دریافت کیا۔ پاک فوج کے جوان اور ریسکیو ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہیں۔
وزیراعظم نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ طلب کرلیا ہے، لیکن اس امر پر غور کی ضرورت ہے کہ تمام تر تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل اور اقدامات بعد از حادثہ ہی کیوں عمل میں لائے جاتے ہیں۔ اپنی ذمے داریوں سے پہلوتہی اور ضروری مسائل سے چشم پوشی کی روش اب ختم کرنا ہوگی۔ حادثات و سانحات کی ستائی ہوئی یہ قوم اب بھی پرامید ہے، حکومت وقت کو عوام کے درد کا درماں اور پیشگی لائحہ عمل اختیار کرنے کی راہ کو اپنانا ہوگا۔